موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
معیشت ، تعلیم اور عورت
ajkiurduduniya.blogspot.com
نومبر 20, 2019
0
Comments
نومبر 20, 2019
0
Comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
معیشت ،تعلیم اور عورت
معیشت کیا ہے؟ اس کرہ ارضی پر انسانی زندگی کی بقاء و سلامتی وسائل کی تلاش و جستجو کی مسلسل جد و جہد کو معیشت کہا جاتا ہے ،اسی لحاظ سے زمین پر موجود ہر جان دار مسلسل معاشی تگ ودو میں مصروف بعمل ہے، جب کہ ہر جاندار کے رزق کی ذمہ داری خود مالک حقیقی نے لے رکھی ہے۔
وما مِن دابۃ فی الارض الا علی رزقہا ( الہود: ۱۱)
ترجمہ:۔ زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔
پوری دنیا میں مہنگائی بیروزگاری اسکول اور کالجز کے بڑھتے ہوئے اخراجات ،نت نئی ایجادات زندگی کی سہولیات کی دستیابی نے انسان کو معاشی
حیوان بنا کر رکھ دیا ہے ،گھر کے ایک فرد کی کمائی سے گذراوقات میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اسی وجہ سے عورتیں بھی گھر سے باہر اپنا قدم نکال رہی ہے۔دنیا میں جہاں کہیں بھی خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی مہم چلائی گئی ہے اس کا بنیادی نظریہ ہے کہ ہر شخص اپنی معاش کا خود ذمہ دار ہے۔معاشی میدان میں جو فرد جتنا مظبوط ہے معاشرے میں وہ اتنا ہی طاقتور ہے۔اس طرز فکر نے حرص طمع اور لالچ کی ایسی وبائی صورت اختیار کر لی ہے کہ انسانیت ناپید ہو گئی ہے اور صلہ رحمی وفاداری،خدمت گذاری کے اعلی اور ارفع درجات اس دار فانی سے گویا رخصت ہو چکی ہے اور اسکی جگہ خود پسندی ظلم و زیادتی ناانصافی نے اپنا ڈیرہ اس دنیا کے لوگوں پر جما لیا ہے،
آج پوری دنیا میں علم معاشیات کابول بالا ہے اس کے نام پر روزانہ نئی اصطلاحات جنم لے رہی ہیں،نئے نئے علوم وضع کئے جا رہے ہیں بے شمار ایسے ادارے ہیں جو اسکی سند تخصیص کی حصولیابی کے لئے کوشاں ہیں ،اس معیشت کے ہوا نے ضروریات زندگی کی فراہمی اسکی پیدائش اور حصولیابی کے طریقہ کار کو بے حد پیچیدہ اور لا ینحل بنا کر رکھ دیا ہے اور اقوام عالم و پوری دنیا کی بلندی و پستی کامعیار اور اسکے اعلی و ارفع ہونے کا انحصار ان کی مالی اور اقتصادی حالت پر ہے،صرف یہی نہیں بلکہ افراد کے مابین تعلقات بھی اسی ڈالر اور ریال کی مرہون منت ہیں اور اسی معاشی چکی کے اردگرد گردش کرتی ہیں۔
معاشرہ اور خواتین:۔
آج کی خواتین کا مقام مرتبہ اور تعلیم کی لیاقت و صلاحیت کو انسانی خوبی کے لحاظ سے نہیں دیکھا جاتا ہے اسکی اخلاقی خوبیوں کو نہیں پرکھا جاتا اسکی دین داری کوئی وقعت نہیں رکھتی،اسکے حسن اخلاق کی چنداں کسی کو ضرورت نہیںبلکہ اس انتخاب معاشی ضرورت کے پیش نظر کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر اور اپنے خاندان معاشی طور پر کتنا مستحکم کر سکتی ہے ۔ اس لحاظ سے عورت کی معاشی خود انحصاری کی اصطلاح بھی گمراہ کن حیثیت کی حامل ہے،عورت معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے تو سماج و معاشرے میں اسکی خاطر خواہ عزت بھی نہیں ہے اور وہ زبوں حالی پریشانی کا شکار ہے ،کہا یہ جاتا ہے کہ عورت کام کرکے پیسہ کما کر نہیں لاتی ہے اسی لئے اس کو مردوں کے ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے اگر وہ معاشی طور پر خود مختار ہو جائے مردوں کی طرح اعلی تعلیم حاصل کریے اس کے شانہ بشانہ چلے اور اس کے ساتھ معاشی دوڑ میں شامل ہو جائے ۔تو اسے بھی سماج و معاشرے میں جینے کا حق ملے خود اختیاریت (Empowerment) بھی حاصل ہو سکے اور معیار زندگی بھی بلند ہو سکے۔
اقوا م متحدہ اور معاشیات:۔
اقوام متحدہ (U.N)اپنے قیام کے ابتداء ہی سے معیشت اور انسانی حقوق کی پاسدای کا عزم مصمم لے کراٹھا ہے ، انسانی حقوق کے تحفظات کے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیںجس میں ہر طبقہ جیسے مزدور، غریب،کسان ، بچے ، بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں، پوری دنیا کی حکام سے یہ باور کرایا گیا ہے کہ وہ ان سفارشات کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل انجام دیں اور اس کو یقینی بنایں ،مذکورہ طبقات میں سب سے زیادہ توجہ حقوق نسواں پر مبذول کی گئی ہے ان پر ہونے والے مظالم سے ان کو بچانا مردوں کے برابر درجات دینا،اقوام متحدہ ان تمام امور کی بجا آوری پر مسلسل جدوجہد میں لگی ہوئی ہے حتی کہ ۱۸ دسمبر ۱۹۷۹ ء کو اس نے ایک کنونشن کو منظوری دی جس کا نام ،سیڈارکھا گیا، عورت کے خلاف ہر قس کے ناروا سلوک اورامتیازی رویہ کے خاتمے
کا کا کنوینشن قرار دیا گیا۔۔ جسے انگلش میں CEDAWکہتے ہیں۔جس کا Full formہے۔Convention of Elimation of all forms of Discrimination Againts Women. ۔تقریبا ۲۰ ممالک کی منظوری کے بعد یہ وجود میں آئی اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنس کی بنا پرکوئی سلوک،امتناع ،پابندی یا تفریق روانہیں رکھی جا سکتی جو مردوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اور ازدواجی حیثیت کے قطع نظر عورتوں کو حاصل ایسے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے حصول اور ان سے استفادہ کرنے پر اثر انداز ہو یا سیاسی اقتصادی ،سماجی،ثقافتی ، شہری یا کسی بھی شعبئہ حیات میں عورتوں کے استحقاق کی نفی کریے یا انکی بجا آوری میں روکاوٹ کا باعث بنے۔
سیڈاکے آرٹیکل سے۔۔۔:۔
سیڈا میں جو سفارشات پیش کئے گئے ہیں ان یہ سوچ کا رفرما ہے کہ انسانی قدر و قیمت منال ومناصب اور مال و متاع کو حاصل ہے اس لئے عورتوں کے معاشی مسائل کو مستحکم کرنے کے جو بھی لائحہ عمل پیش کرتی ہے ان میں تعلیم اور ملازمتوں میں خواتین کے مساوی مواقع اور بین الاقوامی و قومی سطح پر یکساں نمائندگی شامل ہے،یہ ایک مخلوط معاشرت کے رواج کو فروغ دیتا ہے اور اسی کو عورت کی ترقی اور قوت کا باعث سمجھتا ہے۔ اس کنونشن میں خاندانی استحکام اور معاشرے کی فلاح و درستگی کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔اس کے کل ۳۰ آرٹیکل ہیں وہ تقریبا سب کے سب خواتین کے متعلق ہیں، آیئے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
۱۔ ریاستیں ایسے تمام اقدامات کریںگی تاکہ روزگار کے میدان میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جا سکے اور انہیں مردوں کے برابر مواقع میسر ہوں ۔
۔ خصوصا کام کرنے کا حق
۔ رزوگار حاصل کرنے کے یکساں مواقع اور بھرتی کے یکساں ضابطے
۔ روزگار اور پیشہ کے اازادانہ اختیار کا حق
۔ یکساں اجرت کا حق
۔ ہر قسم کی مراعات ،کام کی یکساں اہمیت اور یکساں ضوابط کے تحت کام کرنے کا حق
۔ سماجی تحفظ خصوصا ریٹائر منٹ ،بے روزگاری، بیماری ، بوڑھاپے،یا دیگر معذوری کے دوران مراعات اور تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں کا حق
۔ دوران ملازمت تحفظ اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی بشمول حمل اور زچگی کے دوران صحت کی حفاظت کا حق
مذکورہ بالا سفارشات کے مطالعے کے بعد ایک کم پڑھا لکھا انسان جس کو دین اسلام کا تھوڑا سا بھی شعور حاصل ہو تو وہ یہ ضرور سمجھ لیگا کہ یہ سارے حربے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اور مردوں کی ہوس ناکی انکی درندگی کا سامان مہیہ کرنے کیلئے عورت کے سامنے حقوق نسواں اور معاشی ترقی کا سنہرا خواب دیکھا کر اسے ورغلایا اور پھنسایا جا رہا ہے،طرہ امتیاز یہ ہے کہ عورتیں بذات خود اپنی بربادی کا سامان تیار کر رہی ہیں ، جانتے بوجھتے اپنے آپ کو ایک ایسی گہری کھائی میں دھکیل رہی ہیں جہاں سے موت کے علاوہ کوئی اس کو راہ مفر مہیہ نہیںکروا سکتی۔
معاش کے لئے باہر نکلنے والی خواتین۔۔۔۔لوگوں کی نظر میں !!!!
ایک چینی اسکالر یوتیک کا کہنا ہے کہ۔۔۔۔
،، خواتین کو اپنے جنس پر فخر ہونا چاہئے۔۔۔۔۔ جنسی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ذمہ داری کی انجام دہی میں ان کی عظمت کا راز ہے۔
ایک خاتون صحافی پامیلا روبی بتاتی ہیں ۔۔۔۔ برسر روزگار خواتین کے لئے دو ہی راستے ہیں یا کہ وہ خود کو مردانہ کلچر میں ڈھال دیںیا پھر ان اداروں کو چھوڑ دیں۔
امریکہ کی ایک نو مسلم خاتون عائشہ علاویہ کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔ بعض خواتین کی طرف سے حقوق کے نام پر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ وہ کس بات کا مطالبہ کر رہی ہیں ؟ کیا وہی مقام جو مغرب کی عورتیں حاصل کر چکی ہیں اور جہاں سے نکلنے کے لئے وہ تڑپ رہی ہیں ، حقوق کی تلاش میں وہ منشیات ،
شراب، عریانی اور بے راہ روی کی ساری حدیں پار کر چکی ہیں۔ میں مسلمان عورتوں کو متنبہ کرنا چاہتی ہوں کہ وہ ہمارے تجربات سے فائدہ اٹھائے
اسی راستے پر چلنے کے بجائے ٹھنڈے دل سے اپنے مقام پر غور کرے۔
اسلام اور معیشت نسواں:۔
اسلام نے عورت کو الحمد للہ پورا معاشی تحفظ فراہم کیا ہے،اسکی کفالت کا مکمل انتظام کیا ہے۔بیٹی کی ساری ذمہ داری باپ کے سپرد کی گئی ہے،اسکی تعلیم و بہترین تربیت،بیٹی کی پیدائش کو اللہ کی رحمت قرار دیا گیا ہے ۔حدیث میں آتاہے کہ جس نے تین بیٹیوں کی بحسن وخوبی پرورش کی اچھی تعلیم دلائی اور پھر اچھی جگہ اس کی شادی کر دی تو قیامت میں وہ میرے ساتھ ساتھ ہوگا اس پر صحابہ کرم ؓ نے سوال کیا کے اللہ کے رسولؐ جس کے پاس دو بیٹیاں ہوں تواس پر اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا وہ بھی اور ایک بیٹی کی بھی اچھی تعلیم اور تربیت پر حضور پاک ؐ نے جنت کی بشارت دی ہے۔اگر عورت بہن ہے تو بھائی اس کا کفیل ہے اس کی ساری ضرورتیں وہ پوری کریگا۔ عورت اگر بیوی ہے تو اسکا ذمہ دار، حاکم اور سربراہ اس کا شوہر ہوگا ، اسلامی شریعت نے بیوی کی ساری ضروریات کی تکمیل کے لئے مرد کو حکم دیا ہے ۔کیوںکہ مرد قوام ہوتا ہے قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے
الرجالُ قوّامونَ علی النسائِ بماَ فضّلَ اللہُ بَعضَھُم علی بَعض وبما انفقوا من اموالھم۔۔ ( النساء۔ ۳۴ )
مرد عورت پر قوام ہیں ،اس بنا پر کہ اللہ تعالی نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے،اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتا ہے۔ خاندانی نظام میں مرد ہی گھر کا قوام ہوتا ہے کہ اللہ اسے اس لائق بنایا ہے اس کے اندر ایسی صلاحیت رکھی ہے اور اللہ نے عورت کو فطرتا ایسا بنایا ہے کہ اسے خاندانی زندگی میں مرد کی حفاظت اور خبرگیری کے تحت رہنا ہے۔ان تمام تر باتوں سے بخوبی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ نے عورت کے نازک کندھے پر معاشی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی اگر افراد میں سے کوئی بھی عورت کا کفیل نہ ہو تو اسلامی حکومت اس کی کفالت کرے گی اور اسکی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
اسلام نے عورت کی کفالت کا کامل ترین بندوبست کیا ہے اور انہیں اصول کو مظبوطی سے تھامنے میں ہی پوری نسوانیت کی بھلائی ہے ۔اب أیئے ذرا اس بات پر غور فکر کریں کہ اسلامی کفالتی نظام کو کیسے بہتر بنایا جائے۔
(۱) عورت کے لواحقین مرد کو تعلیم دی جائے ،ذمہ داریوں سے أگاہ کیا جائے، اس کے کفالت کی حالت کو بہتر بنایا جائے۔
(۲) کسی بھی مرد کو بے روزگار رہنے نہیں دیا جائے،اسے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کا عادی بنایا جائے۔
وراثت کاقانونی حق عورت کو دلوایا جائے، جو لوگ اللہ کے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف مناسب قانونی کاروائی کی جائے۔
(۴ ) حق مہر مرد کی حیثیت کے مطابق رکھا جائے اور اسکی ادایئگی کو یقینی بنایا جاے ،اسکا تعین زمانہ ھذا کہ حساب سے ہو تاکہ عورت معاشی طور پر مستحکم ہو سکے ،خدا نخواستہ کل کوئی پریشانی لاحق ہو تو وہ در در کی ٹھوکریں نہ کھائے، اپنے بھائیوں کے رحم و کرم پر نہ رہ جائے۔
ہمارا معاشرہ اور تعلیم یافتہ خواتین:۔
ہمارے معاشرے کے اندر آج کل یہ تصور پایا جاتا ہے کہ عورتیں صرف گھر کی چہار دیواری کے اندر مقید ہو کر رہ جائیں،صرف بچے پیدا کریں گھر کے کام کاج کو دیکھیں، بلکہ سماج اور معاشرے کے تعلق سے ان تعلیم یافتہ خواتین پر بھی چند ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے دائرے میں رہ کر سماجی ،معاشرتی اور سیاسی کاموں میں حصہ لیں۔ جب تک سماج کی تعلیم یافتہ خواتین کو صحیح طریقے سے متحرک نہیں کیا جائے گا معاشرہ میں سدھار کا کام صحیح معنوں میں نہیں ہو سکے گا، ستر و حجاب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اسلامی بنیادی حدودو قیود کا خاص خیال رکھتے ہوئے مرد اور عورتیں ایک مجلس میں معاشرے کی اسلامی ثقافت و تہذب کو برقرار رکھنے کے لئے خواتین کے اندر دین اسلام کا صحیح شعور پیدا کرنے کے لئے تبادلئہ خیال کر سکتی ہیں ۔ تاریخ اسلامی کے مطالعہ سے بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ معروف کے حکم اور منکرات سے بچاؤ کے لئے مرد اور عورتوں نے مل کر کام کیا تھا ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ أ یت نمبر ۷۱ میں فرماتا ہے۔
وَالمومُنونَ والمُومِناتِ بَعضُھُم أولِیائُ بعض یامُرُونَ بالمعروفِ وینھونَ عنِ المنکَر۔
ترجمہ :۔ مومن مرد ااور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ،بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ترجمہ :۔ مرد اور عورت سب ایک دوسرے کے رفیق ہیںبھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔اس آیت کریمہ سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہاکہ معروف کا حکم اور منکرات سے بچنے کی تلقین مرد حضرات کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی کر سکتی ہیں ۔ خواتین کے لئے اسلامی شعائر اور اسکے تقاضوں کی باپندی لازمی ہے ، تاریخ کے اوراق میں بہت سارے دلائل ہیں چند ایک آپ تمام کی خدمت میں حاضر ہے۔ حضرت عائشہ ؓ جنکو ۲۰۰۰ سے زائد احادیث یاد تھیں،جو عورتیں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ مرد کے بھی مسئلوں کا شافی جواب دیا کرتی تھیں، حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ اپنے وقت کی
ماہر تاجرہ تھیںجن کا کاروبار کئی ممالک میں پھیلا ہوا تھا۔حضرت ام سلمیٰ ؓ جن کے مشورے پر حضرت مصطفی ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر عمل کیا تھا صلح حدیبیہ کا معاملہ کوئی گھریلو معاملہ نہیں تھا ،اسی طرح سے جنگ احد کے موقع پر آپ ﷺ کی جان مبارک کی حفاظت ایک خاتون نے کی جن کا نام آج تک تاریخ میں رقم ہے وہ کوئی اور ہستی نہیں بلکہ حضرت ام عمارہ ؓ ہیں ۔
آج جب ہم اپنے معاشرہ اور ماحول کا جائزہ لیتے ہیں تو آٹے میں نمک کے برابر خواندہ خواتین نظر آتی ہیں ۔ بہت ساری ایسی لڑکیا ں ہوتی ہیں جنکی تعلیم جلد شادی کی وجہ سے ترک ہو جاتی ہے،کچھ ایسی بھی بہنیں ہیں جن کو اللہ نے بہت ساری صلاحیت سے نوازہ ہے ،وہ بہت سارے دینی امور کی انجام دہی میں اپنی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں ،مگر شوہر کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے بہت سارے دینی مجلسوں شرکت سے قاصر ہو جاتی ہیں ،خاطر خواہ فوائد کے حصول سے خود بھی محروم رہ جاتی ہیں اور معاشرہ بھی ان سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا ہے خواتین بروقت خود فیصلہ نہیں کر پاتی،انہیں اپنے آپ پر یقین ہونا چاہئے کہ جو کام میں کرنے جا رہی ہوں وہ اللہ پاک اور رسول اکرم ؐ کی نظر میں صحیح ہے تو اپنے قوام مرد کی حکم عدولی کا بھی انہیں ڈر نہیں ہونا چاہئے ۔ ایسی صورت میں معاشرے کا بااثر و با رسوخ افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ متعلقہ افراد کی ذہن سازی کرے ۔ انہیں بھی دنیی مجالس میں شرکت کی دعوت دے اور اپنی باتوں سے آگاہ کرے۔
آج کی خواتین اسلام کے دئے ہوئے حقوق سے کافی دور ہے،اس پر طرہ امتیاز یہ ہے کہ حقوق نسواں کی تحریکات میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ عورت کے ذہن و دماغ پر قابض ہے اوراس بے بسی سے نکلنے کے لئے گھر سے باہر اپنا قدم نکال لیتی ہے۔ کیا اسکا معاشی طور پر مستحکم ہونا آمدنی حاصل کرنا ،گھر سے باہر ملازمت کرنا اس کے دکھوں کا کما حقہ مداوا کر سکتی ہے؟؟؟ نہیں ہرگز نہیں اگر حقیقی صورتحال یہی ہوتی تو آج مغرب کی عورتیں اپنے معاشرے سے بھاگ نہیں رہی ہوتی ،وہاں کے خاندانی نظام کا شیرازہ نہیں بکھرا ہوتا اور غیر شادی شدہ ماؤں کی بھر مار نہیں ہوتی ۔
انسانیت کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ اپنے مالک حقیقی کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کی پیروی کرے،اسی میں دونوں جہاں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
