موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
Apsi mashwara ki ahmiyat
جون 29, 2021
0
Comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’ امرھم شوری بینھم ‘‘
’’ امرھم شوری بینھم ‘‘کو یہاں اہل ایمان کی بہترین صفات
میں شمار کیا گیا ہے۔ اور سورہ آل عمران (آیت ۱۵۹ ) میں اس کا حکم دیا گیا ہے ۔
اس بنا پر مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے۔ اور مشورے کے بغیر اجتماعی
کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ بلکہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف
ورزی ہے۔ مشاورت کو اسلام میں یہ اہمیت کیوں دی گئی ہے۔اس کے وجوہ پر اگر غور کیا
جائے تو تین باتیں واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں ۔
ایک یہ کہ جس معاملے کاتعلق دو یا زائد آدمیوں کے مفاد سے ہو،
اس میں کسی ایک شخص کا اپنی رائے سے فیصلہ کرڈالنا اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظر
انداز کردینازیادتی ہے۔ مشترک معاملات میں کسی کو اپنی من مانی چلانے کاحق نہیں
ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک معاملہ جتنے لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو اس
میں ان سب کی رائے لی جائے ، اور اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہوتو ان کے
معتمد علیہ نمائندوں کو شریک مشورہ کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ انسان مشترک معاملات میں اپنی من مانی چلانےکی کوشش
یاتو اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض کے لئے دوسروں کا حق مارنا چاہتا
ہے، یا پھر اس کی وجہ یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز اور دوسروں کو حقیر
سمجھتا ہے ۔ اخلاقی حیثیت سے یہ دونوں
صفات یکساں قبیح ہیں، اور مومن کے اندر ان میں سے کسی صفت کاشائبہ بھی نہیں پایا
جاسکتا ہے۔ مومن نہ خود غرض ہوتو ہے کہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرکے خود
ناجائز فائدہ اٹھانا چاہے ، اور نہ وہ متکبر اور خود پسند ہوتا ہے کہ اپنے آپ ہی
کو عقل کل اور علیم و خبیر سمجھے۔
تیسرے یہ کہ جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو ان
میں فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتاہو اور یہ جانتا
ہو کہ اس کی کتنی سخت جواب دہی اسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی، کبھی اس بھاری
بوجھ کو کتنا اپنے سر لینے کی جرات نہیں کرسکتا ہے۔ اس طرح کی جراٗتیں صرف وہی لوگ
کرتے ہیں جو خدا سے بےخوف اور آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں۔ خدا ترس اور آخرت کی باز
پرس کا احساس رکھنے والا آدمی تو لازما یہ
کوشش کرے گا کہ ایک مشترک معاملہ جن جن سے بھی متعلق ہو ان سب کو یا ان کے بھروسے
کے نمائندوں کو اس کا فیصلہ کرنے میں شریک مشورہ کرے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ صحیح
اور بے لاگ اور مبنی بر انصاف فیصلہ کیا جاسکے ، اور اگر نا داستہ کوئی غلطی ہوبھی
جائے تو تنہا کسی ایک ہی شخص پر اس کی ذمہ داری نہ آپڑے۔
یہ تین وجوہ ایسے ہیں جن پر اگر آدمی غور کرے تو اس کی
سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اسلام جس خلاق کی انسان کو تعلیم دیتا ہے،
مشورہ اس کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے انحراف ایک بہت بری بد اخلاقی ہے جس کی
اسلام کبھی اجازت نہیں دے سکتا ۔ اسلامی طرز زندگی یہ چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول
ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتاجائے ۔ گھر کے معاملات ہوں تو ان میں میاں
اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان ہوجائیں تو انہیں بھی شریک مشورہ
کیا جائے۔ خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے کے سب عاقل و بالغ افراد کی راے
لی جائے۔ ایک قبیلے یا برادری یا بستی کے معاملات ہوں اور سب لوگوں کا شریک مشورہ
ہونا ممکن نہ ہو تو ان کا فیصلہ کوئی ایسی پنچایت یا مجلس کرے جس میں کسی متفق
علیہ طریقے کے مطابق تمام متعلق لوگوں کے معتمد علیہ نمائندے شریک ہوں۔ ایک پوری
قوم کے معاملات ہوں تو ان کے چلانے کے لئے قوم کاسربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے ، اور وہ قومی
معاملات کو ایسے صاحب رائے لوگوں کے مشورے سے چلائے جن کو قوم قابل اعتماد سمجھتی
ہو، اوروہ اسی وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے رکھنا چاہے۔
کوئی ایماندار آدمی زبردستی قوم کا سربراہ بننے اور بنے رہنے کی خواہش یا کوشش
نہیں کرسکتا ، نہ یہ فریب کاری کرسکتا ہےکہ پہلے بزور قوم کے سر پر مسلط ہوجائے
اور پھر جبر کے تحت لوگوں کو رضا مندی طلب کرے ، اور نہ اس طرح کی چالیں چل سکتا
ہے کہ اس کو مشورہ دینے کے لئے لوگ اپنی آزاد مرضی سے اپنی پسندکے نمائندے نہیں
بلکہ وہ نمائندے منتخب کریں جو اس کی مرضی کے مطابق رائے دینےوالے ہوں۔ایسی ہر خواہش صرف اس نفس میں
پیدا ہوتی ہےجو نیت کی خرابی میں ملوث ہو، اور اس خواہش کے ساتھ ’’ امرھم شوری بینھم ‘‘ کی ظاہری شکل بنانے اور
اس کی حقیقت غائب کردینے کی کوشش صرف وہی شخص کرسکتا ہے جسے خدا اور خلق دونوں کو
دھوکا دینے میں کوئی باک نہ ہو، حالانکہ نہ خدا دھوکا کھا سکتاہے،اور نہ ہی خلق ہی
اتنی اندھی ہوسکتی کہ کوئی شخص دن کی روشنی میں علانیہ ڈاکہ مار رہا ہو اور وہ سچے
دل سے یہ سمجھتی رہے کہ وہ ڈاکہ نہیں ماررہا ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کرہا ہے۔
’’ امرھم شوری بینھم‘‘ کا قاعدہ خود اپنی نوعیت اور فطرت کے
لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے:
اول یہ کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اورمفاد سے تعلق
رکھتے ہیں انہیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو،اور وہ اس بات سے پوری طرح
باخبر رکھے جائیں کہ ان کے معاملات فی الواقع کس طرح چلائے جارہے ہیں اور انہیں اس
امر کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا
خامی یا کوتاہی دیکھیں تو اس پر ٹوک سکیں، احتجاج کرسکیں اور اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل سکیں ۔ لوگوں کا منہ بند کرکے اور
ان کے ہاتھ پاوں کس کر اور ان کو بے خبر رکھ کر ان کے اجتماعی معاملات چلانا صریح
بد دیانتی ہے جسے کوئی شخص بھی ’’ امرھم شوری بینھم ‘‘ کے اصول کی پیروی نہیں مان
سکتا۔
دوم یہ کہ اجتماعی معاملات میں کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر
بھی ڈالنی ہو اسے لوگوں کی رضا مندی سے مقرر کیا جائے، اور یہ رضا مندی ان کی
آزادانہ رضامندی ہو۔ جبر اور تخویف سے حاصل کی ہوئی، یا تحریص و طماع سے خریدی
ہوئی یا دھوکے اور فریب اور مکاریوں سے کھسوٹی ہوئی رضامندی درحقیقت رضامندی نہیں
ہے۔ ایک قوم کا صحیح سربراہ وہ نہیں ہوتا جو ہرممکن طریقہ سے کوشش کرکے اس کا
سربراہ بنے، بلکہ وہ ہوتا ہے جس کو لوگ اپنی خوشی اور پسند سے اپنا سربراہ بنائیں۔
سوم یہ کہ سربراہ کار کو مشورہ دینے کے لئے بھی وہ لوگ مقررکئے
جائیں جن کو قوم کا اعتمادحاصل ہو ، اور ظاہر بات ہے کہ ایسے لوگ کبھی صحیح معنوں
میں حقیقی میں اعتماد کے حامل قرار نہیں دیے جاسکتے جو دباو ڈال
کر یا مال سے خرید کر یا جھوٹ اور مکر سے کام لے کر یا لوگوں کو گمراہ کرکے نمائندگی کا مقام حاصل
کریں۔
چہارم یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اورایمان و ضمیرکے مطابق
رائے دیں ، اور اس طرح کے اظہار رائے کی انہیں پوری آزادی حاصل ہو ۔ یہ بات جہاں
نہ ہو، جہاں مشورہ دینے والے کسی لالچ یا خوف کی بنا پر،یا کسی جتھہ بندی میں کسے
ہوئے ہونے کی وجہ سے خود اپنے علم اور
ضمیر کے خلاف رائے دیں، وہاں درحقیقت خیانت اور غداری ہوگی نہ کہ ’’ امرھم شوری
بینھم ‘‘ کی پیروی۔
پنجم یہ کہ جو مشورہ اہل شوری کے اجماع (اتفاق رائے) سے دیا
جائے، یا جسے ان کے جمہور( اکثریت) کی تائید حاصل ہو، اسے تسلیم کیا جائے ۔ کیونکہ
اگر ایک شخص یا ایک ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہو تو
مشاورت بالکل بے معنی ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالی یہ نہیں فرمارہا ہے کہ ’’ ان کے
معاملات میں ان سے مشورہ لیا جاتا ہے‘‘
بلکہ یہ فرمارہا ہے کہ ’’ ان کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں ‘‘ اس
ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہوجاتی ، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ
مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو اسی کے مطابق معاملات چلیں۔
اسلام کے اصول شوری کی اس توضیح کےساتھ یہ بنیادی بات بھی
نگاہ میں رہنی چاہئیے کہ یہ شوری مسلمانوں کے معاملات کو چلانےمیں مطلق العنان اور
مختار کل نہیں ہے بلکہ لازما اس دین کے حدود سے محدود ہے جو اللہ تعالی نے خود
اپنی تشریع سے مقرر فرمایا ہے، اور اس اصل الاصول کی پابندی ہے کہ’’ تمہارے درمیان
جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے‘‘ اور تمہارے درمیان جو نزاع بھی ہو اس
میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو‘‘ اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سے مسلمان شرعی
معاملات میں اس امر پر تو مشورہ کرسکتے ہیں کہ کسی نص کا صحیح مفہوم کیا ہے، اورپرعملدرآمد
کس طریقہ سے کیا جائے تاکہ اس کا منشا ٹھیک طورسے پوراہو، لیکن اس غرض سے کوئی
مشورہ نہیں کرسکتے کہ جس معاملہ کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول نے کردیاہواس میں وہ
خودکوئی آزادانہ فیصلہ کریں۔
مذکورہ بالا مضمون مولانا سید ابو الاعلی مودی رحمہ اللہ کی تفہیم القران سے ماخوذ ہے۔ سماجی ،معاشرتی ، اجتماعی اور تحریکات اسلامی کے نظام شوری کے بنیادی اصول امرھم شوری بینھم پر مفصل اور جامع تحریر ہے ۔
از :
عبدالجبار فلاحی
Momin- Khan- Momin (Poet)
جون 21, 2021
0
Comments
حکیم مومن خاں مومن
مومن خاں
بڑے رنگین طبع ،خوش مزاج ،خوش وضع اور خوش لباس قسم کے انسان تھے غالب سے اچھے
تعلقات تھے،غالبؔ ان کے اشعار پسند کرتے تھے ایک مرتبہ مومن کا ایک شعر سنا تو بے
حد داد دی اور بہت پسند کیا مومن نے کہا کہ یہ ایک شعر لے کر اپنا پورا دیوان
تمہیں دینے کو جی چاہتا ہے۔شعر تھا
تم
میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب
کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔
حقیت بھی یہی ہے کہ نہایت عمدہ شعر ہے اور سہل بھی ہے اور اس میں خیال کی ندرت بھی پائی جاتی ہے ۔ کتنی سادگی سے کہہ دیا کہ اے میرے محبوب تم میرے پاس تنہائی میں بھی ہوتے ہو یعنی جب میری پاس کوئی نہیں ہوتا تو ت میرے پاس تصور میں موجود ہوتے ہو۔
بنیادی طور
پر مومن غزل کے شاعر ہیں اور اس میں کوئی
شبہ بھی نہیں کہ ان کی غزلیں بڑی پر اثر ہوتی ہیں اور فنی مہارت اور تقاضوں کو پورا کرتی ہیں ۔ ان بڑی سادہ اور
پر کشش ہوتی ہے اور بات میں بات پیدا کرنے
میں بڑی مہارت حاصل ہے ،مقطع میں عموما
اپنے تخلص کی رعایت سے مضمون باندھتے ہیں ۔ حسن پرستی کی
وجہ سے ان کے اشعار میں رنگینی بھی پیدا ہوگئی ہے لیکن ان کا عشق گھٹیا درجہ کا
نہیں ہے وہ چونکہ مذہب کے سختی سے پابند
تھے اس لئے انہوں نے عشق میں کوئی بے راہ روی اختیار نہیں کی اور عشق میں مروجہ
آداب کا خیال رکھا ۔مومن ایہام گوئی کے بھی ماہر تھے ۔ ایہام گوئی شاعری کی وہ صنف
ہے جس میں ایک شعر کے دو معنی نکلتے ہیں اور یہ ایک خوبی سمجھی جاتی ہے ۔ مومن کے
خیالات بہت نازک اور امضامین اعلیٰ ہیں ،
استعاروں اور تشبیہوں کا استعمال بھی احتیاط
سے کیا گیا ہے اور مناسب موقعوں پرکیا گیا ہے ۔ مومن اس دار فانی سے سن ۱۲۸۶ھ میں
کوچ کر گئے اللہ ان کی مغفرت کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام نصیب کرے آمین۔
نمونہ ٔ کلام : کیا
تم نے قتل جہاں ایک نظر میں
کسی
نے نہ دیکھا تماشہ
کسی کا
عمر
تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومن
آخر
عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
مانگا
کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی
آخر
تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ۔
میر تقی میر
جون 20, 2021
0
Comments
میر تقی میر
میر تقی میر اردو زبان و ادب کے عظیم شاعر تھےوہ غزل کے
مسلمہ استاد تھے اس لئے ان کو شہناہ تغزل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد تقی
اور تخلص میر تھا۔وہ ۱۷۲۲ءیا ۱۷۲۳ء کو
اکبرا آباد آگرہ کے ایک ذی عزت
گھرانے میں پیدا ہوئے میر کے والد کا
انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھاکچھ عرصہ بعد ان کے چچا بھی وفات پا گئے اس لئے بچپن سے ہی ان کی زندگی سوگوار ہو گئی
تھی ان حادثات کا ان کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوا ۔
میر تقی میر حساس واقع ہوئے تھے اس لئے اسی جذبے نے غم کے داغوں کو اور بھی گہرا کر دیا تھا اور ان کی شاعری سوز و گداز ،کیف و سرور اور ونج
و الم کا آئینہ بن گئی تھی وہ گیارہ برس
کی عمر میں اکبر آباد سے دہلی آ گئے تھے
کچھ عرصہ دہلی میں گزارا وطن کی یاد نے
ستایا تو پھر آگرہ چلے گئے لیکن وطن راس
نہ آیا مستقل طور پر دوبارہ
دہلی آ گئے۔ میر کی تمام تر زندگی آزمائشو ں میں گزری انہیں آزمائشوں
نے ان کو کندن بنا دیا اور ان کی شاعری کو شہرت دوام بخشی ۔
آخر عمر میں میر لکھنؤ میں نواب آصفہ الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے تھے وہ ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ میر تقی میر ۱۸۱۰ء میں لکھنؤ میں ہی انتقال کر گئے۔
میر تقی میر کی تمام تر زندگی چونکہ افلاس تنگ دستی
اور آزمائشوں میں کٹی اس لئے رنج و
الم اور
فکر و احساس ان کی شاعری اور شخصیت کا خاص جز بن گئے تھے ۔ انہیں وجوہات
کی بنا پر انکی شاعری میں سوز گداز اور
رنگ و اثر پیدا ہوا جس کی وجہ سے ان کی شاعری
لا زوال بن گئی زندگی کے آلام و مصائب نے ان کو خود دار
بد دماغ اور نازک مزاج بنا دیا تھا
وہ اس بات کا بذات خود اعتراف کرتے ہیں۔
نازک مزاج آپ قیامت ہے میر جی۔
خود دار بد دماغ اور نازک مزاج ہوتے ہوئے بھی وہ مردم بیزار نہیں تھے اور ہنگامۂ حیات سے خاص لگاؤ رکھتے تھے ۔ دراصل میر تقی میر زندگی ،
تہذیب اور فن کے بارے میں منفرد تصور رکھتے تھے ۔ اسی لئے ان کی شاعری کو
ان کی شخصیت کا آئینہ کہا جاتا ہے۔
میر ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے تمام اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی
ہے لیکن ان کی شہرت اور ان کے فن کی بقا
کا دار و مدار غزل پر ہے اس وجہ سے ان کو
شہنشاہ تغزل کہا جاتا ہے ۔
میر تقی میر نے غزل کو شدید شخصی احساسا ت کا ترجمان بنایا انہوں نے
غزل میں ذاتی غم کے ساتھ ساتھ
اجتماعی غم کو بھی سمو دیا ان کی شاعری
میں صوفیانہ ،عاشقانہ ،اخلاقی معاشرتی اور
سیاسی رنگ پہلو بہ پہلو موجود ہے ان کی شاعری میں جذبات کی فرو انی ہے،آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی،
میر کی شاعری غم والم کا بحر ذخار ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ بے حوصلہ
اور کم ہمت نظر نہیں آتے اور نہ ہی دوسروں
کو بے حوصلہ ہونے کو ابھارتے ہیں بلکہ وہ
ایسی زندگی کا احساس دلاتے ہیں جس میں بزدلی کو ایک عیب تصور کیا جاتا ہے میر کے شعروں میں سلیقہ ،موزونیت اور آہنگ کو
خاص اہمیت حاصل ہے ان کی شاعری میں فکری عنصر بھی بدرجۂ اتم
موجود ہے۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگۂ شیشہ گری
کا ۔۔۔۔۔۔۔
میر کے کلام نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کے احساس اور اظہار
میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا ہے میر کی زبان بھی سادہ ہے بے تکلف انداز میں شعر کہتے ہیں ۔
Khawja iltaf Hussain Hali
جون 15, 2021
0
Comments
خواجہ الطاف حسین حالیؔ
خواجہ الطاف حسین
حالی کا نام قومی شاعر کی حیثیت سے ہی مشہور نہیں بلکہ ان کا شمار اردو نیچرل شاعر
کے موجد کی حیثیت سے بھی آتا ہے اس کے علاوہ وہ چوٹی کے نقاد اور نثر نگار بھی
تھے۔
خواجہ الطاف حسین حالی۱۸۳۷
ءدمیں پانی پت ضلع کرنال میں پیدا ہوئے ، والد ماجد کا ابتداء میں ہی انتقال ہو
گیا تھا۔ اس لئے بچپن کا دور عسر ت و پریشانی میں گذرا انہوں نے ابتدائی تعلیم پانی پت میں ہی حاصل کی
اور شوق علم کی وجہ سے دہلی چلے گئے جو ان کے زمانے میں علم و ادب کا مرکز تھا۔بڑے
بڑے باکمال لوگ وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لے لیا اور علم کی پیاس بجھانے لگے ، قدرت نے شاعرانہ
صلاحیتیں بھی عطا کی تھیں اس لئے بر صغیر کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ کے شاگرد ہو
گئے یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو
استاد بھی عظیم ترین ملا جس کا سارے بر صغیر میں طوطی بولتا تھا ۔ خواجہ الطاف
حسین حالی بہت زیادہ ہونہار تھے اس لئے غالب بھی ان کی قدر کرنے لگے اور انہوں نے
ان پر خاص توجہ دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو شاعری کے فن میں بہت جلد مہارت
حاصل ہو گئ ۔ نواب شیفتہ بھی غالب کے شاگرد تھے
انہوں نے خواجہ حسین حالی کو زیادہ
ذہین پایا تو اپنے بچوں کا اتالیق مقرر کر دیا اس طرح حالی کو مالی اعانت بھی حاصل ہو گئ مگر نواب صاحب کے انتقال کے بعد یہ سہارا بھی
ٹوٹ گیا تو انہوں نے مدرسی کا پیشہ اختیار
کر لیا اور ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے۔
لاہور کی فضا خواجہ الطاف حسین حالی کے لئے بڑی سازگار ثابت ہوئی ، ایک تو ان کو سرکاری کتب خانے میں ملازمت مل گئ جو ان
کی خواہشات کے مطابق تھی دوسری ان کی ملاقات اس وقت کے نامور انشاپرداز مولانا
محمد حسین آزاد سے ہو گئ جن کی لاہور میں بڑی عزت تھی ۔ سرکاری ملازمت سے ان کو یہ
فائدہ ہوا کہ چونکہ ان کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ ہونے والی کتابوں کی تصحیح
کرنی پڑتی تھی اس انگریزی ادب سے واقف ہونے کا موقع ہاتھ آ گیامولانا محمد حسین آزاد
کی صحبت سے یہ فائدہ پہنچا کہ انہوں نے ان کے اشتراک سے لاہور میں انجمن پنجاب کی
بنیاد ڈالی جو ایک ادبی انجمن تھی اور اس
کے زیر اہتمام مشاعرے وغیرہ منعقد ہوتے رہتے تھے ۔ دراصل یہیں سے جدید نظموں کا آغاز ہوا اس انجمن کے تحت جو مشاعرے منعقد ہوتے تھے ان
میں غزلوں کی بجائے شعراء نظمیں پڑھتی تھے ۔مصرع طرح کی بجائےنظموں کے لئے عنوانات
دئے جاتے تھے مولانا حالی نے ان مشاعروں
میں بڑی گرم جوشی سے حصہ لیا برکھا رت ،
نشاط امید اور حب وطن اسی دور کی یادگار نظمیں ہیں ۔
مولانا
حالی لاہور میں کچھ عرصہ رہنے کےبعد دہلی واپس آ گئے ۔ وہیں ان کی ملاقات قوم کے عظیم رہنما سر سید
احمد خاں سے ہوئی وہ حالی کی خدا داد صلاحیتیں دیکھ کی بہت متاثر ہوئے اور ان کو
مشورہ دیا کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کو ان کے اباء و اجداد کے کارنامے کی یاد
دلانے اور بیداری کا سبق یاد دلانے کے لئے مؤثر نظمیں لکھیں مولانا
حالی حالی کو سر سید کا یہ مشورہ
کافی پسند آیا اور انہوں نے اس مشورے پر عمل کرتے
ہوئے اپنی معرکۃ الآرا نظم مدو جزر اسلام لکھی ۔ یہ نظم اس قدر مشہور ہوئی
کہ پورے برصغیر میں تہلکہ مچ گیا اور اس
کے ذریعہ مولانا حالی کو شہرت جاودانی
حاصل ہو گئی
مسدس میں مولانا حالی نے مسلمانو ں کے عروج وزوال کو کی داستان
کو بڑے عبرت انگیز پیرائے میں پیش کیا ہے اور یہ احساس دلایا ہے کہ وہ اپنے اجداد
کے نقش قدم پر چل کر دنیا میں پھر بلند ترین مقام حاصل کر سکتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دور کے مسلمان اسلام
کی تعلیمات کو بلکل فراموش کر چکے ہیں اس لئے غلامی کا طوق ان کے گردن میں ڈال دیا
گیا ہے ۔
اپنی شاعری کے ذریعہ انہوں نے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں
کو شرم دلائی ہے اور قوم کے نونہال کا یہ کہ کر حوصلہ بڑھایا ہے تمہیں
ہو وہ نسلیں مبارک ہماری
کہ بخشوگے دین کو استواری
کروگے
تمہیں قوم کی غمگساری
تمہیں پر امیدیں
ہیں موقوف ساری
تمہیں شمع اسلام روشن کروگے
بڑوں کا تمہیں نام روشن کروگے
تمہیں اپنی مشکل کو آساں کروگے
تمہیں اپنے درد کا درماں کروگے
مولانا
حالی کے اس مسدس کا اثر اہل اسلام پر ہوا اور ضرور ہوا انہوں نے آزادی کے حصول کے لئے کمر ہمت کس لی
تھی اور انگریز کو ملک سے باہر نکالنے کے
لئے زبردست جد و جہد کا آغاز کیا ۔مسدس دراصل سر سید کی تحریک پر ہی حالی نے لکھا
تھا اس سر سید کو بہت پسند آیا ۔ انہوں نے
اس نظم سے متاثر ہو کر یہ یہاں تک کہہ دیا
کہ ’’ اگر اللہ نے یہ پوچھا کہ تو نے دنیا میں کون سا نیک کام کیا تو میں کہہ دوں گا کہ حالی مسدس لکھوایا تھا‘‘
مولانا حالی نے اپنی شاعری کا آغاز روایتی غزل گوئی سے کیا تھا لیکن یہ رنگ ان کو راس نہ
آیا اور
انہوں نے جلد ہی قدیم رنگ کی شاعری کو ترک کرکے اپنی توجہ چھوٹی چھوٹی مذہبی اخلاقی اور نیچرل نظم کہنے
پر صرف کر دی ۔ وہ نظم گوئی میں اس قدر آگے بڑھ گئے کے ان کی غزلوں پر بھی نظموں
کا شبہ ہونے لگا ۔ مولانا محمد حسین آزاد اور سر سید کی ملاقاتوں کا اثر بہت ہوا اور ان کی تحریک پر انہوں نے شاعری میں جدید
تجربات کئے جس کی وجہ سے جدید شاعری کے موجد کہلائے ان کی شاعری میں اصلاح کا پہلو غالب ہے اور اسی
رجحان نے غزل کے انداز کو بھی کافی حد تک بدل دیا ہے اور حسن عشق کے دائرے سے نکال
کر ترقی کے خیالات کا ترجمان بنا دیا ہے ۔
حالی کی شاعری کو دو
ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔م
مولانا حالی کا کلام نہایت سادہ اور پر اثرہے ۔ انہوں نے اردو شاعری کو اصلیت کے
سانچے میں ڈھال دیا ۔ ان کے کلام کی خصویت میں سلاست ،روانی،اور منظر کشی بھی پائی
جاتی ہے ان کی تصانیف میں حیات جاوید ،
مقدمہ شعرو شاعری ، دیوان حالی ،مسدس حالی ، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اب گئے حالی غزل خوانی
کے دن
راگنی بے وقت کی گاتے
ہو کیا۔۔۔۔
ْZina, Gunhahe Kabeera h ( Mulana Maududi ke tafheemse )
جون 14, 2021
1 Comments
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
گناہ کبیرہ
ان تجتنبواکبائر ماتنھون
۔۔۔۔۔۔۔۔۔النساء۔ ۳۱
کی تشریح کرتے
ہوئے مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمہ اللہ نے لکھا ہے۔ ’’ اللہ فرماتا ہے کہ ہم
تنگ دل اور تنگ نظر نہیں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پکڑکر اپنے بندوں کو سزا دیں
۔ اگر تمہارا نامہ اعمال بڑے جرائم سے خالی ہوتو چھوٹی خطاؤں کو نظر انداز کردیا
جائے گا اور تم پر فرد جرم لگائی ہی نہ جائے گی۔ البتہ اگر بڑے جرائم کا ارتکاب کر
کے آوگے تو پھر جو مقدمہ تم پر قائم کیا جائے گا۔ اس میں چھوٹی خطائیں بھی گرفت
میں آجائیں گی۔
مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ
میں اصولی فرق بتا تے ہوئےلکھاہے۔ تین
چیزیں ہیں جوکسی فعل کو بڑا گناہ بناتی ہیں۔ ۱۔ کسی کی حق تلفی ، خواہ وہ خدا ہو
جس کا حق تلف کیا گیا ہو، یا والدین ہوں، یا دوسرے انسان ، یا خود اپنا نفس اور
اسی بنا پر شرک کو قرآن میں ظلم عظیم کہا گیا ہے۔
۲۔ اللہ سے بے
خوفی اور اس کے مقابلے میں استکبار، جس کی بنا پر آدمی اللہ کے امر و نہی کی پروا
نہ کرے اور نافرمانی کے ارادے سے قصدا وہ کام کرے ، جس سے اللہ
نے منع کیا، اور عمدا ان کاموں کو نہ کرے جن کا اس نے حکم دیا ہے۔ یہ نافرمانی جس
قدر زیادہ ڈھٹایئ اور جسارت اور نا خدا
ترسی کی کیفیت اپنے اندر لیے ہوئے ہوگی۔ اسی قدر گناہ بھی شدید ہوگا ۔ اسی معنی کے
لحاظ سے گناہ کے لئے ’’ فسق‘‘ اور’’ معصیت
‘‘ کے الفاظ ستعمال کئے گئے ہیں۔
۳۔ ان روابط کو
توڑنا اور ان تعلقات کو بگاڑنا جن کے وصل
و استحکام اور درستی پر انسانی زندگی کا امن منحصر ہے، خواہ یہ روابط بندے اور خدا
کے درمیان ہوں، یا بندے اور بندے کے درمیان ۔ پھر جو رابطہ جتنا زیادہ اہم ہے اور جس کے کٹنے سے امن کو جتنا زیادہ نقصان
پہنچتا ہے اور جس کے معاملے میں مامونیت کی جتنی زیادہ توقع کی جاتی ہے۔ اسی قدر
اس کو توڑنے اور کاٹنے اور خراب کرنے کا گناہ زیادہ بڑا ہے۔ مثلا زنا اور اس کے مختلف مدارج پر غور کیجئے ۔ یہ فعل فی نفسہ نظام تمدن کو خراب کرنے والا
ہے، اس لئے بجائے خود ایک بڑا گناہ ہے ، مگر اس کی مختلف صورتیں ایک دوسرے سے گناہ
شدید تر ہیں ۔ شادی شدہ آدمی کا زنا کرنا بن بیاہے کی بہ نسبت زیادہ سخت گناہ
ہے۔ منکوحہ عورت سے زنا کرنا غیر منکوحہ
عورت سے کرنے کی بہ نسبت قبیح تر ہے۔ ہمسایہ کے گھر والوں سے زنا کرنا غیر ہمسایہ سے کرنے کی بہ نسبت زیادہ برا ہے۔
محرمات مثلا بہن یا بیٹی
یا ماں سے زنا کرنا غیر عورت سے کرنے کی بہ نسبت ا شنع
ہے۔ مسجد میں زنا کرنا کسی اور جگہ کرنے
سے اشد ہے۔ ان مثالوں میں ایک ہی فعل کی مختلف صورتوں کے درمیان گناہ ہونے کی
حیثیت سے مدارج کا فرق انہی وجوہ سے ہے جو
اوپر بیان ہوئے ہیں۔ جہاں مامونیت کی توقع جس قدر زیادہ ہے، جہاں انسانی رابطہ
جتنا زیادہ مستحق احترام ہے، اور جہاں اس رابطے کوقطع کرنا جس قدر زیادہ موجب فساد
ہے، وہاں زنا کا ارتکاب اسی قدر زیادہ شدید گناہ ہے۔ اسی معنی کے لحاظ سے گناہ کے
لئے ’’ فجور‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ کو گناہ کبیرہ سے
بچنے اور اعمال صالحہ کی توفیق دے آمین
یا رب العالمین۔
Infradi aur ijtemaee Mashwara ke faide
جون 14, 2021
0
Comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’ امرھم شوری بینھم ‘‘
’’ امرھم شوری بینھم ‘‘کو
یہاں اہل ایمان کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ اور سورہ آل عمران (آیت ۱۵۹
) میں اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس بنا پر مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون
ہے۔ اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ بلکہ اللہ کے
مقرر کئے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مشاورت کو اسلام میں یہ اہمیت کیوں دی
گئی ہے۔اس کے وجوہ پر اگر غور کیا جائے تو تین باتیں واضح طور پر ہمارے سامنے آتی
ہیں ۔
ایک یہ
کہ جس معاملے کاتعلق دو یا زائد آدمیوں کے مفاد سے ہو، اس میں کسی ایک شخص کا
اپنی رائے سے فیصلہ کرڈالنا اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظر انداز کردینازیادتی ہے۔ مشترک
معاملات میں کسی کو اپنی من مانی چلانے کاحق نہیں ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک
معاملہ جتنے لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو اس میں ان سب کی رائے لی جائے ، اور
اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہوتو ان کے معتمد علیہ نمائندوں کو شریک مشورہ
کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ انسان مشترک معاملات میں اپنی من مانی چلانےکی کوشش یاتو اس وجہ سے
کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض کے لئے دوسروں کا حق مارنا چاہتا ہے، یا پھر اس کی
وجہ یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے ۔ اخلاقی حیثیت سے یہ دونوں صفات یکساں قبیح ہیں،
اور مومن کے اندر ان میں سے کسی صفت کاشائبہ بھی نہیں پایا جاسکتا ہے۔ مومن نہ خود
غرض ہوتو ہے کہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرکے خود ناجائز فائدہ اٹھانا چاہے ،
اور نہ وہ متکبر اور خود پسند ہوتا ہے کہ اپنے آپ ہی کو عقل کل اور علیم و خبیر
سمجھے۔
تیسرے یہ کہ جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو ان میں فیصلہ کرنا
ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتاہو اور یہ جانتا ہو کہ اس کی
کتنی سخت جواب دہی اسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی، کبھی اس بھاری بوجھ کو کتنا
اپنے سر لینے کی جرات نہیں کرسکتا ہے۔ اس طرح کی جراٗتیں صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو
خدا سے بےخوف اور آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں۔ خدا ترس اور آخرت کی باز پرس کا
احساس رکھنے والا آدمی تو لازما یہ کوشش
کرے گا کہ ایک مشترک معاملہ جن جن سے بھی متعلق ہو ان سب کو یا ان کے بھروسے کے
نمائندوں کو اس کا فیصلہ کرنے میں شریک مشورہ کرے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ صحیح اور
بے لاگ اور مبنی بر انصاف فیصلہ کیا جاسکے ، اور اگر نا داستہ کوئی غلطی ہوبھی
جائے تو تنہا کسی ایک ہی شخص پر اس کی ذمہ داری نہ آپڑے۔
یہ تین وجوہ ایسے ہیں جن پر
اگر آدمی غور کرے تو اس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اسلام جس خلاق
کی انسان کو تعلیم دیتا ہے، مشورہ اس کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے انحراف ایک بہت
بری بد اخلاقی ہے جس کی اسلام کبھی اجازت نہیں دے سکتا ۔ اسلامی طرز زندگی یہ
چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتاجائے ۔ گھر کے
معاملات ہوں تو ان میں میاں اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان
ہوجائیں تو انہیں بھی شریک مشورہ کیا جائے۔ خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے
کے سب عاقل و بالغ افراد کی راے لی جائے۔ ایک قبیلے یا برادری یا بستی کے معاملات
ہوں اور سب لوگوں کا شریک مشورہ ہونا ممکن نہ ہو تو ان کا فیصلہ کوئی ایسی پنچایت
یا مجلس کرے جس میں کسی متفق علیہ طریقے کے مطابق تمام متعلق لوگوں کے معتمد علیہ
نمائندے شریک ہوں۔ ایک پوری قوم کے معاملات ہوں تو ان کے چلانے کے لئے قوم
کاسربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے ،
اور وہ قومی معاملات کو ایسے صاحب رائے لوگوں کے مشورے سے چلائے جن کو قوم قابل اعتماد
سمجھتی ہو، اوروہ اسی وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے
رکھنا چاہے۔ کوئی ایماندار آدمی زبردستی قوم کا سربراہ بننے اور بنے رہنے کی
خواہش یا کوشش نہیں کرسکتا ، نہ یہ فریب کاری کرسکتا ہےکہ پہلے بزور قوم کے سر پر
مسلط ہوجائے اور پھر جبر کے تحت لوگوں کو رضا مندی طلب کرے ، اور نہ اس طرح کی
چالیں چل سکتا ہے کہ اس کو مشورہ دینے کے لئے لوگ اپنی آزاد مرضی سے اپنی پسندکے
نمائندے نہیں بلکہ وہ نمائندے منتخب کریں جو اس کی مرضی کے مطابق رائے دینےوالے ہوں۔ایسی ہر خواہش صرف اس نفس میں
پیدا ہوتی ہےجو نیت کی خرابی میں ملوث ہو، اور اس خواہش کے ساتھ ’’ امرھم شوری بینھم ‘‘ کی ظاہری شکل بنانے اور
اس کی حقیقت غائب کردینے کی کوشش صرف وہی شخص کرسکتا ہے جسے خدا اور خلق دونوں کو
دھوکا دینے میں کوئی باک نہ ہو، حالانکہ نہ خدا دھوکا کھا سکتاہے،اور نہ ہی خلق ہی
اتنی اندھی ہوسکتی کہ کوئی شخص دن کی روشنی میں علانیہ ڈاکہ مار رہا ہو اور وہ سچے
دل سے یہ سمجھتی رہے کہ وہ ڈاکہ نہیں ماررہا ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کرہا ہے۔
’’ امرھم شوری بینھم‘‘ کا قاعدہ
خود اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے:
اول یہ
کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اورمفاد سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اظہار رائے
کی پوری آزادی حاصل ہو،اور وہ اس بات سے پوری طرح باخبر رکھے جائیں کہ ان کے
معاملات فی الواقع کس طرح چلائے جارہے ہیں اور انہیں اس امر کا بھی پورا حق حاصل
ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو
اس پر ٹوک سکیں، احتجاج کرسکیں اور اصلاح
ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل
سکیں ۔ لوگوں کا منہ بند کرکے اور ان کے ہاتھ پاوں کس کر اور ان کو بے خبر رکھ کر
ان کے اجتماعی معاملات چلانا صریح بد دیانتی ہے جسے کوئی شخص بھی ’’ امرھم شوری
بینھم ‘‘ کے اصول کی پیروی نہیں مان سکتا۔
دوم یہ
کہ اجتماعی معاملات میں کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو اسے لوگوں کی
رضا مندی سے مقرر کیا جائے، اور یہ رضا مندی ان کی آزادانہ رضامندی ہو۔ جبر اور
تخویف سے حاصل کی ہوئی، یا تحریص و طماع سے خریدی ہوئی یا دھوکے اور فریب اور
مکاریوں سے کھسوٹی ہوئی رضامندی درحقیقت رضامندی نہیں ہے۔ ایک قوم کا صحیح سربراہ
وہ نہیں ہوتا جو ہرممکن طریقہ سے کوشش کرکے اس کا سربراہ بنے، بلکہ وہ ہوتا ہے جس
کو لوگ اپنی خوشی اور پسند سے اپنا سربراہ بنائیں۔
سوم یہ کہ سربراہ کار کو مشورہ دینے کے لئے بھی وہ لوگ مقررکئے جائیں جن کو قوم کا
اعتمادحاصل ہو ، اور ظاہر بات ہے کہ ایسے لوگ کبھی صحیح معنوں میں حقیقی میں
اعتماد کے حامل قرار نہیں دیے جاسکتے جو دباو
ڈال کر یا مال سے خرید کر یا جھوٹ اور مکر
سے کام لے کر یا لوگوں کو گمراہ کرکے
نمائندگی کا مقام حاصل کریں۔
چہارم یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اورایمان و ضمیرکے مطابق رائے دیں ، اور اس
طرح کے اظہار رائے کی انہیں پوری آزادی حاصل ہو ۔ یہ بات جہاں نہ ہو، جہاں مشورہ
دینے والے کسی لالچ یا خوف کی بنا پر،یا کسی جتھہ بندی میں کسے ہوئے ہونے کی وجہ
سے خود اپنے علم اور ضمیر کے خلاف رائے
دیں، وہاں درحقیقت خیانت اور غداری ہوگی نہ کہ ’’ امرھم شوری بینھم ‘‘ کی پیروی۔
پنجم یہ کہ جو مشورہ اہل شوری کے اجماع (اتفاق رائے) سے دیا جائے، یا جسے ان کے
جمہور( اکثریت) کی تائید حاصل ہو، اسے تسلیم کیا جائے ۔ کیونکہ اگر ایک شخص یا ایک
ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہو تو مشاورت بالکل بے معنی
ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالی یہ نہیں فرمارہا ہے کہ ’’ ان کے معاملات میں ان سے مشورہ
لیا جاتا ہے‘‘ بلکہ یہ فرمارہا ہے کہ ’’
ان کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں ‘‘ اس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے
سے نہیں ہوجاتی ، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ
جو بات طے ہو اسی کے مطابق معاملات چلیں۔
اسلام کے اصول شوری کی اس
توضیح کےساتھ یہ بنیادی بات بھی نگاہ میں رہنی چاہئیے کہ یہ شوری مسلمانوں کے
معاملات کو چلانےمیں مطلق العنان اور مختار کل نہیں ہے بلکہ لازما اس دین کے حدود
سے محدود ہے جو اللہ تعالی نے خود اپنی تشریع سے مقرر فرمایا ہے، اور اس اصل الاصول
کی پابندی ہے کہ’’ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو اس کا فیصلہ کرنا
اللہ کا کام ہے‘‘ اور تمہارے درمیان جو
نزاع بھی ہو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو‘‘ اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سے
مسلمان شرعی معاملات میں اس امر پر تو مشورہ کرسکتے ہیں کہ کسی نص کا صحیح مفہوم
کیا ہے، اورپرعملدرآمد کس طریقہ سے کیا جائے تاکہ اس کا منشا ٹھیک طورسے پوراہو،
لیکن اس غرض سے کوئی مشورہ نہیں کرسکتے کہ جس معاملہ کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول
نے کردیاہواس میں وہ خودکوئی آزادانہ فیصلہ کریں۔
مذکورہ بالا مضمون مولانا سید
ابو الاعلی مودی رحمہ اللہ کی تفہیم القران سے ماخوذ ہے۔ سماجی ،معاشرتی ، اجتماعی
اور تحریکات اسلامی کے نظام شوری کے بنیادی اصول
امرھم شوری بینھم پر مفصل اور جامع تحریر ہے ۔اوربالخصوص ہماری جماعت ’’
اسلامی سنگھ نیپال‘‘ کے مقامی ،صوبائی اورمرکزی نظام کی اصلاح کی راہ میں مفید ہے اگر اس پر کارآمد ہوا جائے۔ از
: عبدالجبار فلاحی
shair Fani bada uni
جون 13, 2021
0
Comments
فانی بدایونی
فانی بدایونی ۱۸۵۷ء
میں بدایوں میں پیدا ہوئے ان کا نام شوکت علی اور تخلص فانی تھا۔ ان کے اباء و
اجداد کابل کے رہنے والے تھے وہاں سے ہندوستان
آ کر دہلی میں بس گئے تھے اور اس
کےبعد بدایوں میں رہنے لگے فانی کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی اس کے بریلی
کالج میں داخل ہوئے اور وہیں سے بی اے پاس کیا
اور اسکے بعد وہ علی گڈھ چلے گئے اور ایل ایل بی میں داخلہ لے لیا ،قانون
کی سند حاصل کرنے کے بعدوکالت کا پیشہ اختیار کر لیا مگر انہیں یہ پیشہ راس نہیں آیا اس کے بعد وہ دکن چلے گئے اور وہاں انہوں نے
ملازمت حاصل کر لی۔
فانی زندگی بھر آ لام و مصائب کا شکار رہے اور شاید انہیں
زندگی میں چند لمحوں کے لئے بھی سکون نصیب نہیں ہوا ، دکن میں ۱۹۴۱ٍء میں چل بسے
شاعری کا شوق انہیں بچپن سے ہی تھا وہ فطرتاً غم پرست تھے اس لئے تمام عمر غم کی پرستش کرتے رہے تخلص بھی اسی رعایت سے منتخب کیا اور شاعری میں بھی تمام اقسام کے غموں کو سموں دیا ۔ لیکن انہوں نے غم کی ترجمان بھی آفاقی طریقہ سے بھی معیاری ہے اور اس میں بلا کی تاثیر ہے ۔ سوز و گوداز اور حسرت و یاس کے معاملے میں انہیں میر ثانی سمجھنا چاہئے لیکن وہ پیکر یاس ہوتے ہوئے بھی حوصلہ نہیں توڑتے اور نا امیدی کے ماحول میں بھی انہیں امید کی شمع جلتی ہوئی نظر آتی ہے وہ ناکام لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں
؎ناکام ہے تو کیا ہے کچھ کام پھر بھی کجا
مردانہ وار جی مردانہ و مر جا
فانی نے زندگی کا مردانے وار مقابلہ کیا ہے لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا
اور ساری زندگی انہیں تڑپتا ہوا ہی رکھااور انہیں ایک زندہ لاش میں تبدیل کر دیا وہ خود فرماتے ہیں ۔
؎ فانی ہم تو جیتے جی
وہ میت ہیں بے
گور و کفن
جس کو غربت راس نہ
آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
قسمت کی بدولت انہیں جو غم کی بے پایاں
دولت حاصل ہوئی تھی وہ ایسی دولت تھی کہ کم ہونےپر نہیں آتی تھی لہذا غم سے فرار کی کوشش انہوں نے ترک کر
دی تھی اور غم حیات کو سینے سے لگا لیا
تھا
؎غم فانی اور عشق برہم کیا
جاوداں ہو تو عیش ہے ہم کیا ؟
الغرض فانی نے اپنے انداز میں غزل کو ایک نیا روپ دیا انہوں
نے عشق کے معاملات اور واقعات اور پیش آنے
والے حادثات کی تشریح بڑے غم ناک انداز میں کی ہے اسی وجہ ان کے اشعار تاثرات میں ڈوبے ہوئے ہوتے
ہیں اور پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔


