موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
ajkiurduduniya
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
مئی 26, 2022
0
Comments
ہم ملک نیپال میں دعوت کا
کا م کیسے کریں؟
ان الحمد للہ
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد
فاعوذ باللہ من
الشیطان الرجیم
،بسم اللہ الرحمن
الرحیم ۔ قال اللہ تعالی فی القرآن المجید۔۔۔۔۔۔
و من احسن قولا
ممن دعا الی اللہ و عمل صالحا و قال إننی من
المسلمین ۔
و کما قال
رسولﷺ فوَ اللّہِ لاَنْ یَہْدِیَ اللہُ بک
َ رجلاً واحداًخیرٌلکَ مِنْ اَنْ یَکونَ لکَ حُمْرُ النعمِ(مسند احمد ۲۳۲۰۹)
صدر مجلس! مربین حضرات ،اراکین اسلامی سنگھ ، یونٹس کے ذمہ دارن اور
بہنیں !
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
۔
الحمد للہ اللہ پاک
کا بے پیایاں احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں اس یک روزہ ارکان تربیتی پروگرام میں
شرکت کا موقع عنایت کیا اور مجھے اس مذاکرہ کا
حصہ بنایا جس کے لئےمیں منتظمین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا
کرتی ہوں۔
اسلامی سنگھ ایک منظم
جماعت ہے جو ملکی سطح پر منصوبہ بند طریقہ سے
دعوتی ، تعلیمی ، رفاہی ،سماجی
خدمات انجام دے رہی ہے ۔ منصوبہ بند ی سے کام کرنا اسلام کو مطلوب ہے اور اللہ اور
اس کےرسول ﷺ کا طریقہ کار بھی یہی رہا
ہےاور یہی اصول و طریقہ کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے۔
اسلام کی دعوت اور اس
کی تبلیغ ہر زمانے میں ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض رہا ہےآج کے اس دور میں جب
کہ سائنس اور ٹکنالجی کا زمانہ ہے مسلمانوں پر ان کے مذہب و عقائد پر اسلامی تہذیب
و تمدن پردشمنوں کی طرف سے بدترین حملے ہو رہے ہیں جو مختلف محاذوں سے کئے جا رہے
ہی،فکری ،سیاسی ،اقتصادی تمام تر میدان ان
کے حملوں کی زد میں ہیں۔بچے بچے ان کے ننھنے اذہان پر باطل و طاغوتی طاقت نے قبضہ جمایا ہوا ہے ۔ جن کا مقصد صرف یہ
ہے کہ مسلمانوں کے اندر سے اسلامی دعوت کا جوہر چھن جائے اور انہیں سب سے بڑے
ہتھیار سے محروم کر دیا جائے ۔
ہمارا ملک نیپال اور
اس میں رہنے والے لوگ اسلام سے منحرف ہیں مغربی تہذیب کی مرعوبیت اور اندھی تقلید میں مگن ،مختلف غلط فکری دھاروں کے بہاو ،اور
کئی طرح کے فاسد ازموں اور باطل نظریات کے ہنگامے میں صدیوں سےبہے چلے جا رہے ہیں۔ اس نازک صورت حال میں ملک نیپال کے باشندوں کو اللہ
کے راستے کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے
سیدھے سچے راستے کی طرف گمراہ انسانیت کو بلانا وقت کا اہم ترین فریضہ اور سب سے اہم تقاضہ بھی ہے ۔
اس ملک میں ہم اس طرح
سے اپنی دعوت کا آغاز کر سکتے ہیں جس طرح سے جناب رسول پاکﷺ نے کیا تھا۔
يَا
أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا
النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہم اس دین کو واقعی اپنا دین مانتے ہیں
تو اس کو انفرادی طور پر اپنی زندگی میں اور اجتماعی طو ر پر اپنے گھروں میں قائم کرنا ہوگا ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے
دین اسلام کی دعوت تبلیغ کا اہم ذمہ اپنے سر لیا ہے اور دوسروں کو اس سے آگاہ بھی
کر رہے ہیں الحمد للہ مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے اپنے بچے ہماری تربیت کے
زیادہ مستحق ہیں ۔۔۔۔ اس لئے یہ کام ہم اپنے گھر سے شروع کریں گے ان شاءاللہ ۔
وَأَنذِرْ
عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ
اس کے
بعد ہم اس دعوت کو اپنے خاندان ،اپنی سوسائٹی ، اپنی تعلیم گاہ ،اپنے ادب و صحافت
میں ،اپنی یو ٹیوب ویڈیو میں،اپنے کاروبار میں ،اپنےمعاشی معاملات میں ،اپنی انجمن
میں اپنے قومی اداروں میں اور بحیثیت مجموعی اپنی قومی پالیسی و پروگرام میں اس کو
عملا ً قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے اس کی سچی اور
پکی گواہی دیں گے۔اس لئے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اقامت دین اور شہادت حق ہمار
ا مقصد ہے اور ہماری تمام تر سعی و عمل کا
مرکز و محور بھی یہی ہونا چاہئے۔ہمیں ہر اس کام
اور ہر اس بات سے دست کش ہو جانا چاہئے جو اسلام کی ضد ہو اور جس سے اسلام
کی غلط نمایندگی ہوتی ہو۔اسلام کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے قولی اور عملی رویہ پر
نظر ثانی کرنا چاہئے اور اپنی ہر
کوشش اس راہ میں لگا دینا ہوگا کہ دین
پورے کا پورا قائم ہو جائے اور اس کی شہادت کما حقہ ادا ہو جائے اور اس کی طرف
دنیا کو ایسی دعوت دی جائے جو اتمام حجت کے لئے کافی ہو۔
وَ
لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ
اس کے بعد یہ اذن عام ہے کہ آ پ اپنی قوم سے ہٹ کر دوسرے
لوگوں میں بھی دین کی دعوت دیں۔ اس دعوت کو اپنے شہر تک ابتداء میں قائم رکھیں
۔ اس لئے کہ یہاں کے لوگ آپ سے بخوبی واقف ہیں اور اس کا انجام بھی بہتر ہوگا۔
سنجیدہ اسلامی عمل کے
جملہ مرحلوں میں دعوت کا مرحلہ بہت نازک اور اہم ہوتا ہے ،یہ مرحلہ علم و آگہی کا
ہوتا ہے شخصیت سازی اور ذہن سازی اس کے
بعد آتا ہے کیونکہ سب سے پہلے افراد کو
اسلام کے طریقے اور اس کے راستے کا علم دینا ضروری ہےتاکہ وہ مکمل طور سے سوچ سمجھ
کر اور دل کے اطمینان سے اس دعوت کو قبول کرنے یا رد کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔
دعوتی کاز کے آغاز
سے قبل ہماری اولیں ذمہ داری ہے کہ جس بات ہم کو حق اور درست سمجھیں وہ سب سے پہلے
ہماری نجی زندگی ظاہر ہونی چاہئے اور
ہماری علمی زندگی میں ہمارے افکار و
خیالات میں اس کی جھلک ملنی چاہئے۔
دعوتی میدان میں
اترنے سے پہلے اس کی خوب علمی تیاری ہو جانی چاہئے ایسا ہرگز نہ ہو کہ کم علمی کے
باعث ہم مدافعانہ اور معذرتانہ رویہ اختیار کرنے
کے لئے مجبور ہوں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہمارا برتاو اپنے مدعو کے ساتھ بہت مشفقانہ
اور اخلاقی ہونا چاہئے۔
دعوت پیش کرنے کے بہت
سے طریقے اور اسالیب ہیں یہ کام ہم تحریر و تقریر عام گفتگو کے ذریعہ بھی انجام دے
سکتے ہیں تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹ اور
یو ٹیوب کا استعمال زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔عام سنجیدہ مجلس بھی اس دعوتی کام کے
لئے موزوں ہوگی ۔
داعیان اسلام مقلد
جامد بن کر رہ گئے ہیں ۔ نئی راہیں نکالنا نئے طریقے سے دعوت کا کام کرنا ہمارے
لئے مشکل ہو گیا ہے ۔ہم اس فریضہ کو اس طرح انجام دیتے ہیں گویا یہ ان فرائض کا
ایک حصہ ہے جو ہم پر ڈالا گیا ہے جس کے ذریعہ ہم صرف آخرت کے ثواب کی امید رکھتے
ہیں اور دنیا میں غلبہ ٔ دین کی کوئی تڑپ نہیں ہوتی ۔
اس لئے کجی اور بے
راہ روی کو درست کرنا ہے تو اسرار دین کی نقاب کشائی کرنی ہوگی دین کے احکام جو بٹ
چکے ہیں انہیں ازسر نو زندہ کرنا ہوگا ملک نیپال کے اندر فکری بیداری پیدا کرنی ہے
تو علی الاعلان دعوت دین کا فریضہ انجام دینا ہوگا۔ جیسا کہ انبیاء علیھم
السلام کی تاریخ سے ملتا ہے۔
ہمارا نصب العین کیا ہے؟
مئی 25, 2022
0
Comments
ہمارا نصب العین کیا ہے؟
ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم !
اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ رب اشرح لی صدری
و یسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھو ا قولی۔
صدر مجلس! مربین حضرات
،اراکین اسلامی سنگھ ، یونٹس کے ذمہ دارن اور بہنیں !
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
الحمد للہ اللہ پاک کا بے پیایاں احسان و کرم ہے کہ اس نے
ہمیں اس یک روزہ ارکان تربیتی پروگرام میں شرکت کا موقع عنایت کیا اور مجھے اس
مذاکرہ میں حصہ لینے کی توفیق عطا کی جس کے
لئےمیں منتظمین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔
اسلامی سنگھ ایک منظم جماعت ہے جو ملکی سطح پر منصوبہ بند طریقہ
سے تعلیمی ، رفاہی ،سماجی خدمات انجام دے رہی ہے ۔ منصوبہ بند ی سے کا م کرنا
اسلام کو مطلوب ہے اور اللہ اور اس کے کا طریقہ کار بھی یہی رہا ہےاور یہی اصول و
طریقہ کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے۔
ہمارا نصب
العین’’اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر
کے ذریعہ رضائے الہی کا حصول ہے ‘‘
نصب العين کے تین درجات ہیں۔
۱) رضائے
الہی کا حصول
۲) تقرب
الہی کا حصول
۳) فلاح
اخروی کا حصول
ہمارا نصب العین تین چیزوں پر منحصر ہے
1۔ مطمح نظر/ نصب العین
2۔ کام : تعمیر انسانیت
3۔
طریقہ کار: قرآن و سنت کی روشنی میں
اہداف حاصل کیسے کریں؟
متعینہ ہدف کی حصولیابی کے لئے سنجیدگی اور متانت درکار ہے ،
ہمارے ارد گرد خواہشات کی ذرا بھی کمی نہیں ہےاصل کمی امادگی کی ہے اور اس کے کہیں زیادہ کمی استعداد کی ہے ۔
ہمارے سماج میں تقریباً جتنے بھی با اثر عناصر ہیں وہ سب کے سب بگاڑ کے لئے کام کر
رہے ہیں ۔ اصلاح و تعمیر انسانیت کے کام کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر
ہے ۔ موجودہ دور میں اجتماعی زندگی کی بگاڑ
کی سب بڑی ذمہ دار حکومت ہے ۔ خیر ۔
ان تمام حقائق کے بر خلاف یہ بات اظھر من الشمس ہے کہ ہماری قوم میں فاسد عناصر کے ساتھ ساتھ صالح
عناصر بھی موجود ہیں ان کے اصلاح و تعمیر انسانیت کی خواہش اور امادگی بھی پائی
جاتی ہے ۔ اس کے لئے تھوڑی توجہ ،تھوڑی سی سعی، حکمت کے ساتھ منظم اور پیہم کوشش کی اشد ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ سیرت و
کردار کی طاقت اور اتحاد و اتفاق ناگزیر ہے۔ کیونکہ ایک داعی اپنے اخلاق و عادات
اور مظبوط کریکٹر کی وجہ سے عوام کے اندر ضرب المثل کی طرح ہوتے ہیں۔ عوام کی
آنکھیں داعیان دین کے کردار پر لگی ہوتی ہیں کردار کی زبان سب سے زیادہ مؤثر ہوتی
ہے ۔ تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے
ممکن
جو کام
کہ انسان کا کردار کرے ہے
1۔
جماعت سے شعوری وابستگی رکھیں
2۔ فکری
پختگی پیدا کریں۔ اس کے لئے خوب خوب مطالعہ کریں۔
3۔
دینی اور شرعی معلومات میں خوب اضافہ کریں
5۔
دینی غیرت اور ایمانی حمیت پیدا کریں
6۔ عبادات، تلاوت غور و فکر کے ساتھ اور ذکر و اذکار پابندی
سے کریں
7۔
خود احتسابی انفرادی و اجتماعی
8۔ دعوت
الی اللہ کے لئے ذہنی،فکری اور عملی ہر اعتبار
سے تیاری کریں۔
9۔
ہر ممکن ذرایع سے دعوت کا کام سر انجام دینا
10۔ معاشرہ کی اصلاح کی عملا کوشش کریں۔ اس
کے اندر پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنے کی انفرادی اور اجتماعی کوشش کریں۔گھسے
پٹے اسا
لیب اور
طریقوں کو چھوڑ کر نئے طریقوں سے عوام
الناس تک اپروچ کیا جائے ان کے سامنے دین
کو سہل انداز میں پیش کیا جائے کہ نئی سرکش نسل
اس کی متحمل ہو سکے اور ان کے اندر سے دین کی نفر مٹ سکے اور وہ بھی اس نبوی ؐ مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ
لے سکیں۔اور صحابہ ؓ و صحابیات ؓکے جیسا عملی نمونہ پیش کر سکیں ۔ہم اس وقت تک دین
کو قائم نہیں کر سکتے جب تک کہ ہمارے اندر بھی مرنے اور اللہ کے لئے جان دے دینے
کا جذبہ نہ ہو۔ اس دین کو اسی صورت غلبہ مل سکتا ہے ورنہ یہ سب صرف کہنے کی باتیں
ہیں ۔ مثال سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسول ؐ کو صحابہؓ جیسی مرنے مٹنے والی نفوس قدسی
میسر تھی تو ۲۳سال کی قلیل مدت میں پوری دنیا میں اسلام پہنچ گیا
ایک انقلاب پوری دنیا نے دیکھا اور
موسی ؑ کو ایسے لوگ نہ مل سے تو اس طرح کا
انقلاب وہ نہ لا سکے ۔ آج بھی ضرورت ایسے
ہی لوگوں کی ہے جو دین پر آج بھی مرنے
مٹنے کا جذبہ رکھتے ہوں تب جا کر ایسا ہی انقلاب
برپا ہو سکتا ہے۔
جہیز کی قباحت کو اجاگر کریں۔ شادی کے موقع پر کی جانے والی
بدعات و خرافات کو واضح کریں اور ممکن حد تک روکنے کی کوشش کریں۔
والدین کو توجہ دلائیں کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت
کا ا تظام کریں۔ میراث کی تقسیم میں بیٹیوں کو شامل کریں۔ جسد کینہ غیبت چحلخوری
ٹوہ لگائی بجھائی اور ٹونے ٹوٹکے سے سماج کو پاک کریں۔
11۔
تعلیم کو عام کرنا
۱۲۔ عربی زبان
کا اہتمام کرنا ۔ اس زبان کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اللہ
نے اسلام کے پیغام کو اپنے بندوں تک پہنچانے کے لئے دوسری ہزاروں زبان کو چھوڑ کر صرف
عربی زبان کا انتخاب کیا ہے ۔
۱۳۔ انسانی حقوق کی ادائیگی اور ضرورتمند کے کام آنا۔
تاکہ دین قائم ہو۔ سارے کام اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے
مطابق ہو اور مطلوب صرف اور اللہ کی رضا ہو۔ دنیا کے کاروبار میں رضائے الہی کی
طلب و جستجو ہی ہم تمام کو اپنے نبی ﷺ کی وفاداری پرقائم رکھ سکتی ہے ۔
پرے
ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے
جس کے گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے (علامہ
اقبال ٖٖٖرحمۃ اللہ )
کیا پردہ ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے؟
مئی 25, 2022
0
Comments
کیا پردہ ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے؟
مجیدہ بیگم فلاحیؔ
اسلام اللہ کا دیا ہوا دین ہے۔ اسی لیے فطری ہے اورانسانی زندگی کے ہر گوشے میں وہ انسانوں کی رہ نمائی کرتا ہے. اسلام کی یہ رہ نمائی تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ اورہر پہلوسے مکمل ہے ۔ اسلام زندگی کے ہر گوشہ کے لیے باضابطہ ایک نظام دیتا ہے۔خواہ وہ انفرادی زندگی ہو، معاشرتی زندگی ہو، سیاسی، معاشی اور تعلیمی نظام ہو یا اخلاقی پہلوہو، تہذیب و تمدن ہویا عام انسانی سلوک و معاملات ہوں یا عبادت ہوں۔ اسی طرح مرد سے متعلق امور ہوں یا خواتین سے متعلق معاملات ہوں ۔ یہ دین مکمل ہونے کے ساتھ بھلائی کا ضامن بھی ہے۔
عزت و آبرو کے تحفظ، اخلاق کی پاکیزگی، با وقار اور پر امن معاشرہ زندگی گذارنے کے لیے جو اللہ نے متعدد احکامات دیئے انہی میں سے ایک پردہ ہے۔ یہ مرد و عورت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ البتہ جسمانی بناوٹ اور فطری ضروریات و مقتضیات کے لحاظ سے دونوں کے لیے اس کے حدود مختلف ہیں۔ ابھی میں عورتوں کے پردہ کے بارے میں اور خاص طور سے اس کے اس پہلو پر چند باتیں پیش کر رہی ہوں کہ پردہ عورت کی ترقی میں مانع نہیں معاون ہے۔ پردہ اور حجاب عورتوں کا اسلامی شعار ہے جو پاکیزگی اور پاکدامنی کا ضامن ہے۔ قرآن میں ہے: "اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔" (سورہ احزاب : ۳۳)
اسلام عورت کو بن سنور کر غیر محرم مردوں کو دعوت نظارہ دینے سے قطعاً منع کرتا ہے۔ اس نے اسے اپنی زینت کو چھپانے اور اپنے محاسن کو ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔ کیوں کہ یہ عورت کی خصوصی پونجی ہے جو سب کے لیے عام نہیں ہے۔ اسلام نے مرد وعورت دونوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کاحکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اے نبیﷺ ! مومن مردوں سے کہو اپنی نظریں جھکاکر رکھیں اور شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور مومن عورتیں بھی اپنی نظر بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ ( النور: ۳۰۔۳۱)
پردہ کرنا تمام خواتین کے لیے اللہ کا واضح حکم ہے۔ اللہ نے پردہ کا حکم نازل کر کے عورت کو قابل احترام اور قابل عزت ہستی بنا دیا ہے۔ معاشرے میں اونچا مقام عطا کیا ہے ۔ ہر خاتون کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ باپردہ رہے اور ایک باحیا عورت کی طرح دنیا میں اپنی زندگی گزارے ۔ یہ اللہ کا حکم ہے اس لیے پردہ کسی طرح بھی عورت کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ تو عورت کو تحفظ اور اعتماد فراہم کرنے کا ایک بہترین اور واحد قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ بے پردہ اور عریاں عورت معاشرہ میں غیر محفوظ ہوتی ہے۔ عورت آج کے مادی دور میں عیار و عیاش مردوں کے ذریعے محض تفریح دل اور وقتی سکون کا ذریعہ سمجھی جانے لگی ہے ۔ عورتیں بے محابادوکانوں، بازاروں، آفسوں اور نمائش گاہوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
ہمارے معاشرہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکیوں کے حسن وجمال کو سامان تجارت بنالیا گیا ہے۔ باپردہ لڑکیاں جب کسی جگہ کام کے لئے انٹرویو دینے جاتی ہیں تو ان کے پردے کی وجہ سے انہیں نوکریاں نہیں دی جاتیں، وہیں پر جب ایک بے حجاب لڑکی ظاہری بناؤ سنگار کرکے اپنے آپ کو پیش کرتی ہے تو اسے آزاد خیال اورکارآمد سمجھ کر کام دے دیا جاتا ہے ۔ ان کی جوانی اور حسن سے کام لیا جاتا ہے۔ گاہکوں کی کشش ، کم پیسوں میں مزدوری اور عیاشی مقصود ہوتی ہے۔ اس دور کی جدید جاہلیت نے عوام الناس کی بڑی اکثریت کے ذہن و دماغ میں یہ بات ڈال دی ہے کہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور یہ قدیم طرزمعاشرت ہے جس کی آج کے جدید دور سے کوئی مناسبت نہیں رہ گئی ہے۔ اس پر عمل پیرا ہو کر ایک مسلم عورت سماج اور معاشرہ میں وہ ترقی حاصل نہیں کر سکتی جو دیگر خواتین کو میسر ہے۔ باپردہ عورت معاشرہ کی ترقی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتی ہے، اس سوسائٹی کا ایک کامیاب فرد اور فعال رکن نہیں بن سکتی ہے۔ بدقسمتی سے یہی باطل نظریہ آٓج ہماری ان مسلم بہنوں کے ذہنوں میں بھی بس گیا ہے جو نہ صرف قرآن و سنت کے علم سے دور ہیں بلکہ ان کے اندر سے دینی غیرت وحمیت بھی رخصت ہو چکی ہے۔ ان خرابیوں کے پیچھے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کا اہم کردار رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی وبا نے پورے معاشرے کو اور بالخصوص نئی نسل کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بلکہ اس کے اثر سے وہ اسی عریانیت و اباحیت کو ترقی کا زینہ تصور کرتی ہیں۔ کسی بھی مئے خانہ و محفل میں دل بستگی کا سامان بن جانا اوراپنے حسن اور جوانی کے جلوے بکھیرنا، ان کے لئے ترقی ہے۔ اپنے آپ کو کسی نازیبا اداکارہ یا ماڈل کی طرح بنا لینا، ان کے لئے ترقی ہے۔ یہ نہ صرف نری جاہلیت ہے اور مغرب کی اندھی تقلید ہے بلکہ دین و ایمان کی تباہی کا سامان بھی ہے۔
ایک مومنہ عورت کا دینی حق ہے کہ وہ باپردہ رہے۔آج دینا میں مسلمان عورت کے پردہ اور حجاب کو نشانہ بنا کر اس کے دینی، انسانی، سماجی تشخص کو پامال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس کو ایک باشعور و باحیا مسلم عورت کسی صورت قبول نہیں کر سکتی ۔ انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں کو خواتین کے حقوق اور بالخصوص حجاب اور پردہ کا حق کے لیے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہئے مگر وہ کیوں اس کام کو انجام دیں ، جن کی خود اپنی ذہنیت اور منصوبہ بندی ہی حجاب مخالف ہے۔ دنیا کے اس گھناؤنے سلوک ،تخریبی ذہنیت، غیر انسانی سلوک اور خواتین مخالف سوچ رکھنے والوں کی پرزور مذمت اور حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ دنیا اگر اللہ کے حکم حجاب کو تسلیم کر لے تو اس کے دور رس اور مثبت نتائج برامد ہوں گے، ایک لڑکی پورے سکون و اطمینان سے اپنے اسکول اور کالج جائے گی ۔ ایک خاتون کو دوا علاج ، تعلیم وتدریس،عدالت اور دیگر ضروری کام یا سماجی خدمات کے لیےگھر سے باہر نکلتے ہوئے کسی کی دست درازی کا کوئی خوف لاحق نہیں ہوگا اور بہت سے فائدے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے اور دل سے اس کے قائل ہو جائیں گے۔
پردہ عورت کا حسن ہے، اس کا زیور ہے، اس کی زینت ہے، اور اس کی عزت و آبرو کا محافظ ہے۔ ساتھ ہی اس کی عزت وقار اور احترام کا ضامن ہے۔ جس سے ایک مسلم عورت جواللہ اور اس کے رسول پر کامل ایمان اور یقین رکھنے والی ہوکبھی بھی دست بردار نہیں ہو سکتی ہے۔
ہم جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات ؓ نے جنگ کے میدان میں زخمیوں کو پانی پلانے کا کام سر انجام دیا، ان کی مرہم پٹی کی اور خود میدان جنگ میں تلواربھی چلائی حتی کہ رسول ﷺنے غزوہ احد میں ہر طرف ام عمارہ رضی اللہ عنہا کو تلوار چلاتے ہوئے دیکھا۔سینکڑوں اور ہزاروں خواتین ہیں جن کی تعلیمی، دعوتی اور سماجی خدمات ہیں ، جن کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ مسلم خواتین نے یہ سب کچھ پردہ میں رہتے ہوئے کیا۔ آ ج بھی مسلم عورتیں باپردہ ہو کر جائز سرگرمیوں میں فعال حصہ لے رہی ہیں کیا وہ ترقی نہیں کر رہی ہیں۔ دنیا بھر میں بہت سی ایسی عورتیں آج بھی موجود ہیں جو عالمہ وفاضلہ ہیں، معلمات اور داعیات ہیں، ڈاکٹرس ہیں،انجینیرس ہیں، پائلٹ ہیں، جج ہیں،مصنفہ ہیں اور خطیب ہیں۔ مگر انہوں نے اپنے حجاب کوبرقرار رکھا۔ ان کا حجاب ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا ۔ان میں چند نام رفیعہ ارشد ،سیدہ فلک ،سلمہ ، ایمن عامر؛ ایک باپردہ کمرشیل پائلٹ ہے۔ فاطمہ، مریم مختار ہیں۔ یہ اور ان کے علاوہ باپردہ خواتین کی بہت سی روشن مثالیں ہیں کہ پردہ ان کی ترقی میں حائل نہیں ہے۔
جملہ آسمانی مذاہب میں پردہ نہ صرف جائز ہے بلکہ مطلوب اور محمود ہے ۔ اسی طرح تاریخ انسانی کی ہر ترقی یافتہ سلطنت اور قوم میں خواتین کو باپردہ دیکھا گیا ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی عورتوں کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے وہ قوم تباہ ہوگئی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی بہت سی ایسی خواتین ہیں جو پردہ میں رہ کر تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں، ہاسپیٹل میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور انسانی معاشرے کی دیگر خدمات انجام دے رہی ہیں تاکہ اپنی تعلیم اور صلاحیت و لیاقت کو اپنے سماج اور معاشرے کے عروج کے لئے استعمال کر سکیں ۔ جب محض پردہ اور حجاب اس کی ترقی کے منازل طے کرنے میں رکاوٹ کا سبب سمجھا جاتا ہے اور کام کے مواقع نہیں دیے جاتے ہیں تو اس کام کو اللہ کی رضا کے لئے خیراباد کہہ دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اللہ کی زمین وسیع ہے۔
میڈیہ کا میں ایک کالم نگار سعدیہ دہلوی کا یہ کہنا بجا ہے کہ پردے کے معاملے کو میڈیا میں منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت کی حیا اور انکساری ہماری تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ پردہ کرنے والی خواتین کو کسی بھی طرح سے کم کیوں سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ہم ہندوستانی جدیدیت اور مغربیت میں فرق نہیں کر پا رہے ہیں۔ اتنی جلدی ہم مغربی تہذیب سے متاثر ہورہے ہیں کہ ہم اپنی تہذیب کو بھولتے جارہے ہیں۔ ہندوستان میں ہندو عورتیں گھونگٹ کرتی ہیں اور سر پر دوپٹہ رکھنا ہماری تہذیب کا حصہ ہے تو مسلمان خواتین کے پردہ کرنے پر اتنی بحث کیوں۔
عورت کی حیا اور انکساری اسلامی تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پردے جیسے روزمرہ کے بنیادی سوالات کو حل کرنے میں خود خواتین کو بھی برابر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آج کےاس پرفتن دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ شرعی پردہ میں گھر سے باہر نکلا جائے ،حیا کو اپنی ڈھال بنایا جائے اور موجودہ دور کی تمام تر فحاشیوں کا حکمت کے ساتھ جواب دیا جائے۔ ہمارے آس پاس موجود بے حیائی اور فحاشی پر مبنی ٹی وی شوز اور بل بورڈ کی نفی کرکے ہر سطح پر منصوبہ بند طریقہ سے ان تمام طرح کی بے حیائیوں کی روک تھام کے لئے سعی و جہد کی جائے۔ ہم اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اسلامی نہج پر کریں تاکہ ہمارا گھر اور معاشرہ اسلامی معاشرہ بن سکے اور مغربی تہذیب و ثقافت کی آندھیاں اثر انداز نہ ہو سکے۔ اسلامی احکام و فرامین کو خود بھی اپنائیں اور اپنےدائرہ اثر میں رہنے والوں کوبھی اس کی ترغیب دیں ۔ ان شا ٍءاللہ العزیز وہ دن دور نہیں کہ جب ہر ایک میدان عمل میں باپردہ خواتین نظر آئیں گی ۔
……
خدمت والدین
فروری 21, 2022
0
Comments
خدمت والدین
قرطبی نے اپنی اسناد مسلسل سے یہاں
اک روایت حضرت جابر سے کی ہے یوں بیاں
ایک دن تشریف فرماں تھے محمد مصطفی
ساتھ میں اصحاب بھی تھے باکمال و صفا
ایک شخص دربار عالی میں معاً حاضر ہوا
اپنے ابا جان کی کرنے شکایت وہ لگا
باپ میرا،مال میرالیتا رہتا ہے حضور
پوچھتا مجھکو نہیں ہے،ہے بھلا کس کا قصور
آپ نے سن لی شکایت اور اور بیٹے سے کہا
اے نوجواں تو گھر کو جا اور باپ کو اپنے بلا
نوجواں گھر کو چلا جبرئیل پھر پہنچے وہاں
جس سے ظاہر ہو گیا حضرت پہ اک راز نہاں
جبرئیل یوں گویا ہوئے حضرت رسول پاک سے
ایک خفیہ بات پوچھیں آپ اسی کے باپ سے
کیا ہیں وہ کلمات جو کہ آپ نے دل میں کہا
ہیں نہیں ظاہر کسی پر وہ بھلے ہیں یا برے
نوجواں واپس ہوا اب ساتھ لے کر باپ کو
اور حاضر کر دیا خود اس نے اپنے آپ کو
دین الہی کا قیام
فروری 02, 2022
0
Comments
دین الہی کا قیام
ہو چکا فرسودہ بالکل
عہد حاضر کا نظام
اب بدلنا لازمی
ہی آئین باطل تمام
قومیت ،جمہوریت،الحاد و لا
ادریت
کر رہا ہے سارا عالم دور سے
ان کو سلام
اب ظلمتیں کافور ہوں
نور سے قرآن کے
اب نہ ہوگا پھر کبھی
انسان انسان کا غلام
اٹھ کھڑے ہو نوجوانوں پنجۂ باطل شکن
عام کر دو چپہ چپہ
میں مواخاتی پیام
سیرت نبویؐ سے بنے
ایوان باطل میں شکگاف
پھر جہاں کو ہے ضرورت
اسوۂ خیر الانام
آرہی ہیں اب صدائیں غور سے
خاطیؔ سنو
اب تو ہوگا دہر میں دین الہی کا قیام
