موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
HAZRAT IBRAHIM ALAIHISSALAM
جولائی 11, 2021
0
Comments
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی ہمارے لئے نمونہ
قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ (سورہ الممتحنہ۔ )
تم لوگوں کے لئے ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں میں ایک اچھا
نمونہ ہے۔
تمہید:
حضرت ابراہیمؑ جلیل القدر اور مقرب ترین پیغمبر وں میں ایک
ہیں۔ جنہیں خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست کے خطاب سے نوازا گیا۔ حضرت ابراہیمؑ ، عراق، مصر، شام، فلسطین سے لے
کر عرب صحرائی وادیوں تک توحید و رسالت کی دعوت عام کیا ۔ اپنے دعوتی مشن کی تکمیل
کے لئے سرزمین عرب اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ ، شام و فلسطین میں دوسرے بیٹے
حضرت اسحاق ؑ اور مشرقی اردن میں اپنے بھتیجے حضرت لوطؑ کو مقرر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں۶۹ مقامات پر حضرت ابراہیمؑ
کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے اباء
واجداد عرب سے ہجرت کر کے بابل میں آباد ہوگئے۔
۱۔ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی
حضرت ابراہیم علیہ السلام
تقریباً چار ہزار سال قبل عراق کے شہر ار میں پیدا ہوئے۔*
ان کا والد آزر مذہبی
پیشوا تھا، بت بناکر بیچا کرتاتھا۔*
۲۔ حضرت ابراہیمؑ کس ملک میں پیدا ہوئے اور ملکی سیاسی صورت حال
۲۔ حضرت ابراہیمؑ کابچپن
۳۔ حضرت ابراہیمؑ کی فیملی بیک گراونڈ
۱۔ بت پرست
۲۔
پیشہ : صنم تراشی
اور اس کی تجارت
۴۔حضرت ابراہیمؑ کی
قوم
۱۔ بت پرست
۱۔ ستارے ،
چاند، سورج کی پرستش کرتے تھے ۔
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ
اِبْـرَاهِـيْمَ وَالَّـذِيْنَ مَعَهٝ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِـمْ اِنَّا
بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّهِۖ كَفَرْنَا بِكُمْ
وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّـٰى
تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَحْدَهٝٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ
لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّـٰهِ مِنْ شَىْءٍ ۖ
رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ (4)
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کے بعض درخشاں پہلو !
قرآن مجید میں
حضرت موسیؑ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ کا
ذکر کثرت سے ہوا ہے ۔ ان کی زندگی
کے مختلف پہلو ؤں ، عظمت، ان کی دعوت و تبلیغ اور ان کے دلائل اوران کی قربانیوں کو خوب نمایاں طور سے ذکر کیا ہے۔ ان کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں کو اختصار کے
ساتھ چار بڑے نقاط میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
۱۔ حنیفیت
۱۔ حضرت ابراہیم ؑ خالص توحید کے عالم بردارتھے۔
۲۔ ہر شرک سے ان کا دامن پاک تھا۔
۲۔
سراپا اطاعت:
حضرت ابراہیم ؑ کی ابھری ہوئی دوسری صفت یہ بتائی گئی کہ وہ اللہ کے فرمابردار تھے ۔
اذقال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العالمین
(البقرۃ ۱۳۱ ) اس کے رب نے جب اس سے کہا : جھک جاو ، اس نے
کہا کہ: میں جھک گیا اللہ رب العالمین کے سامنے
حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم سے بیوی اورچھوٹے بچے کو بے آب
و گیا وادی میں چھوڑ دیا ۔
رَّبَّنَآ إِنِّىٓ أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِى
بِوَادٍ غَيْرِ ذِى زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ ٱلْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ
ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجْعَلْ أَفْـِٔدَةً مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهْوِىٓ إِلَيْهِمْ
وَٱرْزُقْهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
پروردگار ، میں نے
ایک بے آب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم کے پاس لا بسایا۔ پروردگار
، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہذا تو لوگوں کے دلوں
کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکرگزار بنیں۔
۱۔ حضرت ہاجرہ ؑ پانی کی تلاش میں صفا و مروا کے
درمیان چکر لگانا ۔
۲۔ آب زمزم کا
چشمہ نکل آنا ۔
۴۔ قربانی :
حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم سے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار
ہوگئے۔
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ
إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا
أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاء اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۔ الصافات ۔ ۱۰۲
وہ لڑکا جب اس کے
ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا
تو ابراہیم ؑ نے ان سے کہا ’’ بیٹا، میں
خواب دیکھتاہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ، اب تو بتا ، تیرا خیال ہے‘‘ ؟ اس نے
کہا ، ’’ ابا جان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہےاسے کر ڈالئے ، آپ ان شاء اللہ
مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔ ‘‘
فلما اسلما وتلہ للجبین ۔ و نادینٰہ ان یابراہیم
۔ قد صدقت الرءیا۔
آخر کو جب دوںوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیمؑ نے
بیٹے کو ماتھے کے بل گرادیا ۔ اور ہم ندادی اے ابراہیم ؑ تو نے خواب سچ کردکھایا۔
لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا
وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا
لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُحْسِنِينَ
نہ ان کے گوشت اللہ کو
پہنچتے ہیں نہ خون ، مگر اسے تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔ اس نے ان کو تمہارے لئے اس
طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اس کی تکبیر کرو۔ اور اے نبیﷺ بشارت دے دے نیکوکار لوگوں کو۔
۳۔ دعوتی جد و جہد:
آزر کے بُت اور حضرت ابراہیمؑ
حضرت ابراہیمؑ نے والد کو بُت تراشتے اور اُن کو
پوجتے دیکھا، تو اُن سے سوال کیا،یہ کیا ہیں ؟ والد نے کہا کہ’’ یہ ہمارے خدا ہیں‘‘۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے
وَاِذْ قَالَ اِبْرَاهِيْـمُ لِاَبِيْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ
اَصْنَامًا اٰلِـهَةً ۚ اِنِّـىٓ اَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ سورہ الانعام۔(۷۴)
اور یاد کروجب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تو
بتوںکو خدا مانتا ہے، میں تجھے اور تیری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
معبودِ حقیقی
کی جستجو اور نظامِ کائنات پر غور و تدبّر
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو
بچپن ہی میں رُشد و ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائی تھی۔ بچپن ہی سے حیران ہو کر
سوچتے تھے کہ اپنے ہاتھوں سے تراشے پتھر ہمارے معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟اُنہیں
معبودِ حقیقی کی تلاش تھی، جس نے کُل کائنات کو بنایا ہے۔ دن، رات اسی جستجو اور
فکر میں رہتے۔ پھر باری تعالیٰ نے اُنہیں کائنات کی کچھ اور چیزوں کا بھی مشاہدہ
کروایا ۔ جس کا ذکر اللہ نے سورۃ الانعام میں تفصیل سے فرمایا ۔
وَكَذٰلِكَ نُرِىٓ
اِبْرَاهِيْـمَ مَلَكُوْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُـوْنَ مِنَ
الْمُوْقِنِيْنَ (۷۵)فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَاَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ
هٰذَا رَبِّىْ ۖ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ (۷۶)فَلَمَّا
رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّىْ ۖ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ
لَّمْ يَـهْدِنِىْ رَبِّىْ لَاَكُـوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّيْنَ
(۷۷)فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّىْ هٰذَآ اَكْبَـرُ ۖ
فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ اِنِّـىْ بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُـوْنَ
(۷۸)اِنِّـىْ وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّـذِىْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ
حَنِيْفًا ۖ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (۷۹)
ابراہیمؑ کو ہم نے اسی طرح زمین و آسمان کا نظام سلطنت دکھاتے
تھے اور اس لئے دکھاتے تھےکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے ۔ چنانچہ جب رات اس
پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارہ دکھا ، کہا ’’ یہ میرا رب ہے‘‘ مگر جب وہ ڈوب گیا
تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گریدہ نہیں ہوں ۔ پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو
کہا یہ میرا رب ہے۔ مگر وہ بھی ڈوب گیا تو
کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل
ہوگیا ہوتا۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ میرا رب ، یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر
جب وہ بھی ڈوب گیا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا ’’ ایے برادران قوم ، میں ان سب سے بیزار
ہوں جنھیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو۔ میں نے تو یکسو ہوکر اپنا رخ اس ہستی کی طرف
کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور میں ہرگیز شرک کرنے والوں میں سے
نہیں ہوں۔
والد سے مناظرہ
حضرت ابراہیم علیہ السّلام کونبوت ملنے کے بعد سب سے
پہلے اپنے والد کو توحید کی دعوت دی۔اس سلسلے میں اُن کا اپنے والد سے کیا مناظرہ
ہوا؟ اللہ نے سورۂ مریم میں بہترین نقشہ
کھینچا ہے۔
یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ قَدۡ جَآءَنِیۡ مِنَ
الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ یَاۡتِکَ فَاتَّبِعۡنِیۡۤ اَہۡدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا ﴿۴۳﴾
یٰۤاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ
الشَّیۡطٰنَ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِیًّا ﴿۴۴﴾
یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡۤ
اَخَافُ اَنۡ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَکُوۡنَ لِلشَّیۡطٰنِ
وَلِیًّا ﴿۴۵﴾
ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو میرے ساتھ ہو
جائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر لے چلوں گا۔ ابا شیطان کی پوجا نہ کیجئے بیشک شیطان اللہ کا
نافرمان ہے۔ ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو اللہ کا عذاب آ پکڑے تو آپ شیطان کے
ساتھی ہو جائیں۔
خلاصہ بحث :
واذابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمات
فاتمہن قال انی جاعلک للناس اماما (البقرۃ: ۱۲۴)
ابراہیمؑ کو اس کے رب نے بعض باتوں میں آزمایا (امتحان لیا) اس
پر وہ پورا اترا تو اس کے رب نے کہا: ہم تمہیں دینا کے لئے امام بنارہے ہیں۔
معلوم ہوا کہ دنیا میں آدمی قربانیوں سے امام بنتا ہے، وہ شخص دینا کا امام ، قائد اور لیڈر ہے جو دین کے
لئے قربانی دے ، کسی اور مقصد سے نہیں ، صرف اللہ کے دین کے لئے ۔
قل اننی ہدٰنی ربی الی صراط
مستقیم دینا قیما ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین ( الانعام: ۱۶۱ )
اے پیغمبر ﷺ آپ یہ واعلان کردیجئے کہ میرے رب نے مجھے سیدھا
راستہ دکھایا ہے، سیدھا دین ، وہ دین جسے ابراہیمؑ نے اختیار کیا تھا۔ اس ابراہیم
نے جو ساری دنیا سے کٹ کر اللہ کے لئے یکسو ہو گیا تھا اور وہ مشرکین میں سے نہ تھا۔
آپ سے کہا گیا تھا کہ اعلان کردیں:
قل ان صلاتی ونسکی و
محیای ومماتی للہ رب العالمین، لاشرک لہ وبذالک امرت وانا اول المسلمین (الانعام: ۱۶۲۔ ۱۶۳ )
کہو میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور مرنا سب اللہ رب
العالمین کے لئے ہے، کوئ دوسرا اس کا شریک
نہیں ،اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے میں اس کے آگے سرجھکا رہا ہوں۔
حج اور قربانی:
۱۔ حج کے دوران صفاو مروا کے درمیان سعی کرنا وہ عمل ہے جس کو حضرت ہاجرہؑ نے پانی کی تلاش میں بے چینی کے عالم کیا تھا۔
۲۔ رمی جمار کا عمل جو تمام حجاج کرام کرتے وہ حضرت ابراہیمؑ
اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ اللہ کاحکم کی تعمیل میں شیطان نے بہکایا تھا۔ اسی
کی یادگار ہے۔
قربانی ہر سال جو ذی الحجہ کے ۱۰ ، ۱۱، ۱۲، اور ۱۳ویں تاریخوں میں کرتے ہیں وہی سنت ابراہیم ادا کرتے ہیں ۔
