موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
مئی 26, 2022
0
Comments
ہم ملک نیپال میں دعوت کا
کا م کیسے کریں؟
ان الحمد للہ
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد
فاعوذ باللہ من
الشیطان الرجیم
،بسم اللہ الرحمن
الرحیم ۔ قال اللہ تعالی فی القرآن المجید۔۔۔۔۔۔
و من احسن قولا
ممن دعا الی اللہ و عمل صالحا و قال إننی من
المسلمین ۔
و کما قال
رسولﷺ فوَ اللّہِ لاَنْ یَہْدِیَ اللہُ بک
َ رجلاً واحداًخیرٌلکَ مِنْ اَنْ یَکونَ لکَ حُمْرُ النعمِ(مسند احمد ۲۳۲۰۹)
صدر مجلس! مربین حضرات ،اراکین اسلامی سنگھ ، یونٹس کے ذمہ دارن اور
بہنیں !
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
۔
الحمد للہ اللہ پاک
کا بے پیایاں احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں اس یک روزہ ارکان تربیتی پروگرام میں
شرکت کا موقع عنایت کیا اور مجھے اس مذاکرہ کا
حصہ بنایا جس کے لئےمیں منتظمین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا
کرتی ہوں۔
اسلامی سنگھ ایک منظم
جماعت ہے جو ملکی سطح پر منصوبہ بند طریقہ سے
دعوتی ، تعلیمی ، رفاہی ،سماجی
خدمات انجام دے رہی ہے ۔ منصوبہ بند ی سے کام کرنا اسلام کو مطلوب ہے اور اللہ اور
اس کےرسول ﷺ کا طریقہ کار بھی یہی رہا
ہےاور یہی اصول و طریقہ کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے۔
اسلام کی دعوت اور اس
کی تبلیغ ہر زمانے میں ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض رہا ہےآج کے اس دور میں جب
کہ سائنس اور ٹکنالجی کا زمانہ ہے مسلمانوں پر ان کے مذہب و عقائد پر اسلامی تہذیب
و تمدن پردشمنوں کی طرف سے بدترین حملے ہو رہے ہیں جو مختلف محاذوں سے کئے جا رہے
ہی،فکری ،سیاسی ،اقتصادی تمام تر میدان ان
کے حملوں کی زد میں ہیں۔بچے بچے ان کے ننھنے اذہان پر باطل و طاغوتی طاقت نے قبضہ جمایا ہوا ہے ۔ جن کا مقصد صرف یہ
ہے کہ مسلمانوں کے اندر سے اسلامی دعوت کا جوہر چھن جائے اور انہیں سب سے بڑے
ہتھیار سے محروم کر دیا جائے ۔
ہمارا ملک نیپال اور
اس میں رہنے والے لوگ اسلام سے منحرف ہیں مغربی تہذیب کی مرعوبیت اور اندھی تقلید میں مگن ،مختلف غلط فکری دھاروں کے بہاو ،اور
کئی طرح کے فاسد ازموں اور باطل نظریات کے ہنگامے میں صدیوں سےبہے چلے جا رہے ہیں۔ اس نازک صورت حال میں ملک نیپال کے باشندوں کو اللہ
کے راستے کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے
سیدھے سچے راستے کی طرف گمراہ انسانیت کو بلانا وقت کا اہم ترین فریضہ اور سب سے اہم تقاضہ بھی ہے ۔
اس ملک میں ہم اس طرح
سے اپنی دعوت کا آغاز کر سکتے ہیں جس طرح سے جناب رسول پاکﷺ نے کیا تھا۔
يَا
أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا
النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہم اس دین کو واقعی اپنا دین مانتے ہیں
تو اس کو انفرادی طور پر اپنی زندگی میں اور اجتماعی طو ر پر اپنے گھروں میں قائم کرنا ہوگا ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے
دین اسلام کی دعوت تبلیغ کا اہم ذمہ اپنے سر لیا ہے اور دوسروں کو اس سے آگاہ بھی
کر رہے ہیں الحمد للہ مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے اپنے بچے ہماری تربیت کے
زیادہ مستحق ہیں ۔۔۔۔ اس لئے یہ کام ہم اپنے گھر سے شروع کریں گے ان شاءاللہ ۔
وَأَنذِرْ
عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ
اس کے
بعد ہم اس دعوت کو اپنے خاندان ،اپنی سوسائٹی ، اپنی تعلیم گاہ ،اپنے ادب و صحافت
میں ،اپنی یو ٹیوب ویڈیو میں،اپنے کاروبار میں ،اپنےمعاشی معاملات میں ،اپنی انجمن
میں اپنے قومی اداروں میں اور بحیثیت مجموعی اپنی قومی پالیسی و پروگرام میں اس کو
عملا ً قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے اس کی سچی اور
پکی گواہی دیں گے۔اس لئے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اقامت دین اور شہادت حق ہمار
ا مقصد ہے اور ہماری تمام تر سعی و عمل کا
مرکز و محور بھی یہی ہونا چاہئے۔ہمیں ہر اس کام
اور ہر اس بات سے دست کش ہو جانا چاہئے جو اسلام کی ضد ہو اور جس سے اسلام
کی غلط نمایندگی ہوتی ہو۔اسلام کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے قولی اور عملی رویہ پر
نظر ثانی کرنا چاہئے اور اپنی ہر
کوشش اس راہ میں لگا دینا ہوگا کہ دین
پورے کا پورا قائم ہو جائے اور اس کی شہادت کما حقہ ادا ہو جائے اور اس کی طرف
دنیا کو ایسی دعوت دی جائے جو اتمام حجت کے لئے کافی ہو۔
وَ
لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ
اس کے بعد یہ اذن عام ہے کہ آ پ اپنی قوم سے ہٹ کر دوسرے
لوگوں میں بھی دین کی دعوت دیں۔ اس دعوت کو اپنے شہر تک ابتداء میں قائم رکھیں
۔ اس لئے کہ یہاں کے لوگ آپ سے بخوبی واقف ہیں اور اس کا انجام بھی بہتر ہوگا۔
سنجیدہ اسلامی عمل کے
جملہ مرحلوں میں دعوت کا مرحلہ بہت نازک اور اہم ہوتا ہے ،یہ مرحلہ علم و آگہی کا
ہوتا ہے شخصیت سازی اور ذہن سازی اس کے
بعد آتا ہے کیونکہ سب سے پہلے افراد کو
اسلام کے طریقے اور اس کے راستے کا علم دینا ضروری ہےتاکہ وہ مکمل طور سے سوچ سمجھ
کر اور دل کے اطمینان سے اس دعوت کو قبول کرنے یا رد کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔
دعوتی کاز کے آغاز
سے قبل ہماری اولیں ذمہ داری ہے کہ جس بات ہم کو حق اور درست سمجھیں وہ سب سے پہلے
ہماری نجی زندگی ظاہر ہونی چاہئے اور
ہماری علمی زندگی میں ہمارے افکار و
خیالات میں اس کی جھلک ملنی چاہئے۔
دعوتی میدان میں
اترنے سے پہلے اس کی خوب علمی تیاری ہو جانی چاہئے ایسا ہرگز نہ ہو کہ کم علمی کے
باعث ہم مدافعانہ اور معذرتانہ رویہ اختیار کرنے
کے لئے مجبور ہوں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہمارا برتاو اپنے مدعو کے ساتھ بہت مشفقانہ
اور اخلاقی ہونا چاہئے۔
دعوت پیش کرنے کے بہت
سے طریقے اور اسالیب ہیں یہ کام ہم تحریر و تقریر عام گفتگو کے ذریعہ بھی انجام دے
سکتے ہیں تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹ اور
یو ٹیوب کا استعمال زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔عام سنجیدہ مجلس بھی اس دعوتی کام کے
لئے موزوں ہوگی ۔
داعیان اسلام مقلد
جامد بن کر رہ گئے ہیں ۔ نئی راہیں نکالنا نئے طریقے سے دعوت کا کام کرنا ہمارے
لئے مشکل ہو گیا ہے ۔ہم اس فریضہ کو اس طرح انجام دیتے ہیں گویا یہ ان فرائض کا
ایک حصہ ہے جو ہم پر ڈالا گیا ہے جس کے ذریعہ ہم صرف آخرت کے ثواب کی امید رکھتے
ہیں اور دنیا میں غلبہ ٔ دین کی کوئی تڑپ نہیں ہوتی ۔
اس لئے کجی اور بے
راہ روی کو درست کرنا ہے تو اسرار دین کی نقاب کشائی کرنی ہوگی دین کے احکام جو بٹ
چکے ہیں انہیں ازسر نو زندہ کرنا ہوگا ملک نیپال کے اندر فکری بیداری پیدا کرنی ہے
تو علی الاعلان دعوت دین کا فریضہ انجام دینا ہوگا۔ جیسا کہ انبیاء علیھم
السلام کی تاریخ سے ملتا ہے۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔