موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
بہادر شاہ ظفر
ajkiurduduniya.blogspot.com
جنوری 31, 2020
0
Comments
جنوری 31, 2020
0
Comments
بہادر شاہ ظفر ۱۷۷۵ عیسوی میں پیدا ہوئے،انکا تاریخی نام ابو ظفر رکھا گیا، ان کے والد کا
اسم گرامی اکبر شاہ تھا۔ یہ مرزا اکبر شاہ عالم کے دوسرے صاحبزادے تھے۔ بہادر شاہ ظفر کی تعلیم و تربیت شاہی طریقے سے
ہوئی ان کے اتالیق حافظ محمد ابراہیم تھے،
ان کی بنیادی تعلیم مثلا قرآن و حدیث ، اردو،خوشنویشی اس وقت کے مشہور و
معروف قاری حافظ محمد جلیل کے ذریعہ ہوئی۔
علم و ادب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ تمام شاہی فنون میں جن میں شہسواری ،تیر اندازی ،
تیغ زنی شامل تھی مہارت حاصل کی۔
بہادر شاہ ظفر نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ مغل سلطنت کے
زوال کا زمانہ تھا، لیکن علم وادب ،شعر و فنون بامِ عروج پر تھے، علم و ادب کےاعتبار
سے دہلی اور آگرہ کا سارے برِّ صغیر میں
اونچا مقام تھا۔ دلّی میں بڑے بڑے استاد
شاعر جمع تھےاور شب روز مشاعروں کی محفلیں سجی رہتی تھیں ، ان میں مرزا اسد اللہ
خاں غالبؔ ، شاہ نصیر، ابراہیم ذوق اور مولانا امام بخش کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
بہادر شاہ ظفر انہیں
باکمال شاعروں کی صحبت و معیت نصیب ہوئی۔ ان کو شاعری کا شوق بچپن ہی
سے تھا، انہوں نے سب سے پہلے شاہ نصیر سے
اصلاح لی ، ان کے بعد میر کاظم بےقرار سے جو شاہ نصیر کے شاگرد تھے، ان کے ذوق سے
اصلاح لینے لگے اور جب ان کا انتقال ہو گیا تو مرزا غالب سے اپنی شاعری کی اصلاح
کا کام کروایا۔
بہادر شاہ ظفر جس مغلیہ تخت و تاج کے شہنشاہ تھےاس کی حالت
بد سے بد تر ہوچکی تھی اوروہ خود ضعیفی کے دور میں پوری طرح داخل ہو چکے تھے،
انکی عمر ۶۲ باسٹھ سال کی ہو چکی تھی۔انہوں نے سلطنت کو سنبھالنے کی کافی کوشش کی
لیکن مغل
سلطنت کی آخری تباہی انہیں کے ہاتھوں ان کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔رفتہ رفتہ انکا
اقتدار کم سے کم ہوتا گیااور انگریزوں کی گرفت مظبوط سے مظبوط تر ہوتی چلی گئی،
حتی کہ آگرہ کی عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا کہ
قلعہ دہلی کے باہر بادشاہ کو کسی قسم
کا کوئی استحقاق
حاصل نہیں ۔
انگریزوں کا اقتدار
برِّ صغیر میں بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا اور ان کے مظالم بھی ہندو اور
مسلمان پر بڑھ چکے تھے۔و ہ کھلم کھلا عسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے۔تنگ آمد بجنگ
آمدکی مصداق بر صغیر میں ہندو اور مسلمانوں نے
انگریزوں کو اس ملک سے باہر نکال دینے کا فیصلہ کر لیا اور جنگ آزادی کے
لئے منظم پیمانہ پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ علماء کرام نے
جہاد کے فتوے دئے،میرٹھ سے بغاوت کا سیلاب امنڈ آیا ۔ کئی انگریز افسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور
مجاہدین کا ایک جم غفیر دہلی کی جانب روانہ ہو گیا، بہادر شاہ اور کئی شہزادوں نے
مجاہدین کا ساتھ دیا اور خوب جم کر لڑائی ہوئی۔ بخت خاں نے جس کے ہاتھوں
میں مجاہدین کی کمانڈ تھی کئی معرکوں میں انگریزوں کو عبرت ناک شکست دی مگر افسوس
کے بہادر شاہ کے چند درباریوں نے غداری کی وہ انگریزوں سے مل گئے جس کی وجہ سے بخت خاں کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے
اورمجاہدین کی فتح شکست میں بدل گئی ۔ انگریز قلعہ معلی ٰ پر قابض ہو گئےاور انہوں
نے مغل شہزادوں اور مجاہدین کے خون سے خوب
ہولی کھیلی اور بہادر شاہ ظفر گرفتار ہوکر
رنگون بھیج دئے گئے جہاں کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
خواتین کی معاشی جدوجہد : ایک مختصر تجزیاتی مطالعہ
ajkiurduduniya.blogspot.com
جنوری 30, 2020
0
Comments
جنوری 30, 2020
0
Comments
بسم
اللہ الرحمن الرحیم ۔
خواتین کی معاشی جدوجہد : ایک
مختصر تجزیاتی مطالعہ
مجیدہ
بیگم فلاحیؔ(کمیاہی،سنسری)
اس
کرہ ارضی پر انسانی زندگی کی بقاء و سلامتی اور اس کے لئےوسائل کی تلاش و جستجو کو
معیشت کہا جاتا ہے۔ زمین پر موجود ہر جان دار
معاشی تگ ودو میں مصروف ہے۔جب کہ ہر
جاندار کے رزق کی ذمہ داری خود اللہ نے لے رکھی ہے۔
’’ وما مِن دابۃ فی الارض الا علی اللہ
رزقہا‘‘ ( سورۃ الہود/ایت نمبر ۶) ترجمہ:۔زمین
میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔
آج
پوری دنیا میں مہنگائی، بیروزگاریـ، روز مرہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اورزندگی کی
سہولیات کی حصولیابی نے انسان کو معاشی حیوان بنا دیا ہے۔گھر کے مردوں کی کمائی سے
گذربسر مشکل ہوگیا ہے۔ نتیجہ عورتیں بھی کسب معاش کے لئےگھر سے باہر نکل رہی
ہیں۔خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی مہم کابنیادی نظریہ ہے کہ ہر شخص
اپنی معاش کا خود ذمہ دار ہے۔ معاشرے میںاچھےاور برے فرد اور خاندان کا میعار
دولتمندی پر ہے۔ مال ودولت کی حرص و طمع نے وبائی صورت اختیار کر لی اور انسانیت ناپید ہے۔
آج
پوری دنیا میں علم معاشیات کا چرچاہے۔ نئی اصطلاحات وضع کی جار ہی ہیں، بے شمار
ایسے ادارے وجود میں آرہے ہیں جن کا مقصدمعاشی مقابلے میں آگے نکلنا ہے ، اس کے لئے نت نئی پالیسیاں اور منصوبے بنائے
جارہے ہیں۔
معاشرہ اور خواتین:۔
معاشرہ میں خواتین کا مقام و مرتبہ اورعلمی و عملی لیاقت و صلاحیت کو انسانی خوبی کے لحاظ سے نہیں
دیکھا جاتا ہے۔ اخلاق اور دین داری کوئی میعار
نہیں رہ گیا ہے۔بلکہ اسکا انتخاب
معاشی ضرورت کے پیش نظر کیا جاتا ہےکہ وہ اپنے گھر اور خاندان کو معاشی طور پر
کتنا مستحکم کر سکتی ہے !عورت کی معاشی خود انحصاری کی اصطلاح بھی گمراہ کن ہے۔کہا
یہ جاتا ہے کہ عورت کما کر نہیں لاتی ، اسی لئے اس کو مردوں کے ستم کا نشانہ بننا
پڑتا ہے۔ اگر وہ مردوں کی طرح اعلی تعلیم حاصل کرلےان کے شانہ بشانہ چلے اور ان کے
ساتھ معاشی دوڑ میں شامل ہو جائے ، تو اسکو بھی معاشرے میں جینے کا وہی حق ملےگاجو
مرد کو حاصل ہے۔
اقوا م متحدہ اور معاشیات:۔
اقوام متحدہ (U.N)کے قیام کا مقصد معیشت اور انسانی حقوق کی
پاسدای ہے ۔ انسانی حقوق کے تحفظات کے لئےمختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں،جس میں
مزدور، غریب،کسان ، بچے ، بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں۔ پوری دنیا کےحکام کویہ باور
کرایا گیا ہے کہ وہ ان سفارشات کی بنیاد پر لازما قانون سازی کریں اور اس پر عمل کو یقینی بنائیں۔ مذکورہ طبقات میں سب سے زیادہ توجہ حقوق نسواں
پر دی گئیں ہیں؛ خواتین کو ان پر ہونے
والے مظالم سے تحفظ فراہم کرنا۔ مردوں کےمساوی درجہ دینا۔اقوام متحدہ ان تمام امور
کی انجام دینے میںلگی ہوئی ہے حتی کہ ۱۸
دسمبر ۱۹۷۹ ء کو ا
ایک کنونشن کو منظوری دی جس کا نام ،سیڈارکھا گیا،اس کا مقصد عورت کے خلاف ہر قسم
کے ناروا سلوک اورامتیازی رویہ کا خاتمہ کا کنوینشن قرار دیا گیا۔۔ جسے انگلش
میں CEDAWکہتے
ہیں۔جس کا Full formہے۔
Convention
of Elimation of all forms of Discrimination Againts Women تقریبا ۲۰
ممالک کی منظوری کے بعد یہ وجود میں آئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنس کی
بنا پرکوئی پابندی یا تفریق روانہیں رکھی جا سکتی،جو مردوں کے ساتھ برابری کی
بنیاد پر۔ ازدواجی حیثیت کے قطع نظر عورتوں کو ایسے انسانی حقوق اور بنیادی آزادی
کے حصول اور ان سے استفادہ کرنے پر اثر انداز نہ ہو ۔سیاسی، اقتصادی ،سماجی،ثقافتی
، شہری یا کسی بھی شعبئہ حیات میں عورتوں کے استحقاق کی نفی کریے یا انکی بجا
آوری میں روکاوٹ کا باعث بنے۔
سیڈاکے آرٹیکل سے۔۔۔:۔
سیڈا میں جو سفارشات پیش کئے گئے ہیں ان میں یہ سوچ کا رفرما ہے کہ انسانی قدر و قیمت مال و
متاع پر منحصر ہے۔ عورتوں کو معاشی لحاظ مستحکم کرنے کے لئے سیڈاجو بھی لائحہ عمل
پیش کرتی ہے وہ درج ذیل ہیں۔ تعلیم اور ملازمتوں میں خواتین کو مردوں کےمساوی مواقع
اور بین الاقوامی و قومی سطح پر یکساں نمائندگی شامل ہے۔ یہ ایک مخلوط معاشرت کے
رواج کو فروغ دیتا ہے اور اسی کو عورت کی ترقی اور empowerment سمجھا جاتا ہے۔ اس کنونشن میں خاندانی استحکام اور معاشرے کی فلاح
و درستگی کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔اس کے کل ۳۰ آرٹیکل ہیںجو تقریبا سب کے سب
خواتین سے متعلق ہیں۔ اسکا مختصر جائزہ پیش خدمت
ہے۔
۱۔ ریاستیں ایسے تمام اقدامات
کریںگی تاکہ روزگار کے میدان میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو اور
انہیں مردوں کے برابر مواقع میسر ہوں ۔
۔ خصوصا کام کرنے کا حق
۔
رزوگار حاصل کرنے کے یکساں مواقع اور بھرتی کے یکساں ضابطے
۔ روزگار اور پیشہ کے آزادانہ
اختیار کا حق
۔ یکساں اجرت کا حق
۔ ہر قسم کی مراعات ،کام کی یکساں
اہمیت اور یکساں ضوابط کے تحت کام کرنے کا حق
۔ سماجی تحفظ خصوصا ریٹائر منٹ ،بے
روزگاری، بیماری ، بوڑھاپے،یا دیگر معذوری کے دوران مراعات اور تنخواہ کے ساتھ
چھٹیوں کا حق
۔ دوران ملازمت تحفظ اور صحت کی
سہولتوں کی فراہمی بشمول حمل اور زچگی کے دوران صحت کی حفاظت کا حق
مذکورہ بالا سفارشات کے مطالعے کے بعد دین اسلام کا تھوڑا سا شعور رکھنے
والا انسان یہ ضرور سمجھ لیگاکہ یہ سارے حربے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں ۔حقوق
نسواں اور معاشی ترقی کے نام پر عورتوں کو گھر کے محفوظ دیواروں سےنکال کر غیر
محفوظ بنادیا۔ عورتیں بذات خود اپنی بربادی کا سامان تیار کر رہی ہیں اور
جانتے بوجھتے اپنے آپ کواور عزت نفس کی تباہی میںڈال رہی ہیں ۔
معاش کے لئے باہر نکلنے والی خواتین۔۔۔۔دنیاکی نظر میں !!!!
ایک
چینی اسکالر یوتیک (youtike)کا کہنا ہے کہ۔۔۔۔
،، خواتین کو اپنے جنس پر فخر ہونا چاہئے۔۔۔۔۔ جنسی شناخت کو برقرار رکھتے
ہوئے اپنے ذمہ داری کی انجام دہی میں ان کی عظمت کا راز ہے۔
ایک خاتون صحافی پامیلا روبی بتاتی ہیں ۔۔۔۔ برسر روزگار خواتین کے لئے دو
ہی راستے ہیں یا کہ وہ خود کو مردانہ کلچر میں ڈھال دیںیا پھر ان اداروں کو چھوڑ
دیں۔
امریکہ کی ایک نو مسلم خاتون عائشہ علاویہ کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔ بعض خواتین کی
طرف سے حقوق کے نام پر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ وہ کس بات کا مطالبہ کر رہی ہیں ؟ کیا
وہی مقام جو مغرب کی عورتیں حاصل کر چکی ہیں اور جہاں سے نکلنے کے لئے وہ تڑپ رہی
ہیں ، حقوق کی تلاش میں وہ منشیات ، شراب، عریانی اور بے راہ روی کی ساری حدیں پار
کر چکی ہیں۔ میں مسلمان عورتوں کو متنبہ کرنا چاہتی ہوں کہ وہ ہمارے تجربات سے
فائدہ اٹھایں
اسی
راستے پر چلنے کے بجائے ٹھنڈے دل سے اپنے مقام پر غور کریں۔
اسلام اور معیشت نسواں:۔
اسلام نے عورت کی کفالت کا مکمل انتظام کیا ہے۔بیٹی کی پرورش ، تعلیم و
تربیت کی پوری ذمہ داری باپ کے سپرد کی گئی ہے۔ بیٹی کی پیدائش کو اللہ کی رحمت
قرار دیا گیا ہے ۔حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے جنت
میں آپ ﷺ کی رفاقت اسے حاصل ہوگی ۔ من عال جاریتین حتی قد ادرکتا دخلت الجنۃ
اناوھو کھاتین واشار باصبعیہ السبابۃ والوسطی،بابان معجلان عقوبتھما فی الدنیا
البغی والعقوق / حاکم ، المستدرک علی الصحیحین۔
بھائی اپنی بہن کی کفالت کرے گاہے ۔ شوہر بیوی کا نان نفقہ اور دگر ضروریات
زندگی کا مکمل ذمہ دار ہے ،ارشاد باری تعالی ہے۔
’’الرجالُ قوّامونَ علی النساء
بماَ فضّلَ اللہُ بَعضَھُم علی بَعض وبما انفقوا من اموالھم‘‘۔۔ ( النساء۔ ۳۴ ) مرد عورت پر قوام ہیں ،اس بنا پر
کہ اللہ تعالی نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد
اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔
۔
خاندانی نظام میں مرد ہی گھر کا قوام ہوتا ہے کہ اللہ اسے اس لائق بنایا ہے اس کے
اندر ایسی صلاحیت رکھی ہے اور اللہ نے عورت کو فطرتا ایسا بنایا ہے کہ اسے خاندانی
زندگی میں مرد کی حفاظت اور خبرگیری کے تحت رہنا ہے۔ان تمام تر باتوں سے بخوبی یہ
بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ نے عورت کے نازک کندھے پر معاشی کوئی ذمہ داری نہیں
ڈالی اگر افراد میں سے کوئی بھی عورت کا کفیل نہ ہو تو اسلامی حکومت اس کی کفالت
کرے گی اور اسکی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔اسلام نے عورت
کو وراثت میں حق دیا ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر قرآن و احادیث موجود ہے۔
اسلام نے عورت کی کفالت کا کامل ترین بندوبست کیا ہے اور انہیں اصول کو
مظبوطی سے تھامنے میں ہی پوری نسوانیت کی بھلائی ہے ۔اب أیئے ذرا اس بات پر غور
فکر کریں کہ اسلامی کفالتی نظام کو کیسے بہتر بنایا جائے۔
(۱) عورت
کے لواحقین مرد کو تعلیم دی جائے ،ذمہ داریوں سے أگاہ کیا جائے، اس کے کفالت کی
حالت کو بہتر بنایا جائے۔
(۲) کسی بھی مرد کو بے روزگار رہنے
نہیں دیا جائے،اسے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کا عادی بنایا جائے۔
وراثت کاقانونی حق عورت کو دلوایا جائے، جو لوگ
اللہ کے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف مناسب قانونی کاروائی کی جائے۔
(۴ ) حق
مہر مرد کی حیثیت کے مطابق رکھا جائے اور اسکی ادایئگی کو یقینی بنایا جاے ،اسکا
تعین زمانہ ھذا کہ حساب سے ہو تاکہ عورت معاشی طور پر مستحکم ہو سکے ،خدا نخواستہ
کل کوئی پریشانی لاحق ہو تو وہ در در کی ٹھوکریں نہ کھائے، اپنے بھائیوں کے رحم و
کرم پر نہ رہ جائے۔
ہمارا معاشرہ اور تعلیم یافتہ خواتین:۔
ہمارے معاشرے کے اندر آج کل یہ تصور پایا جاتا ہے کہ عورتیں صرف گھر کی
چہار دیواری کے اندر مقید ہو کر رہ جائیں،صرف بچے پیدا کریں گھر کے کام کاج کو
دیکھیں، بلکہ سماج اور معاشرے کے تعلق سے ان تعلیم یافتہ خواتین پر بھی چند ذمہ
داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے دائرے میں رہ کر سماجی ،معاشرتی اور سیاسی کاموں
میں حصہ لیں۔ جب تک سماج کی تعلیم یافتہ خواتین کو صحیح طریقے سے متحرک نہیں کیا
جائے گا معاشرہ میں سدھار کا کام صحیح معنوں میں نہیں ہو سکے گا، ستر و حجاب کے
تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اسلامی بنیادی حدودو قیود کا خاص خیال رکھتے ہوئے
مرد اور عورتیں ایک مجلس میں معاشرے کی اسلامی ثقافت و تہذب کو برقرار رکھنے کے لئے خواتین کے اندر
دین اسلام کا صحیح شعور پیدا کرنے کے لئے تبادلئہ خیال کر سکتی ہیں ۔ تاریخ اسلامی
کے مطالعہ سے بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ معروف کے حکم اور منکرات سے بچاؤ کے
لئے مرد اور عورتوں نے مل کر کام کیا تھا ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ
أ یت نمبر ۷۱ میں
فرماتا ہے۔
وَالمومُنونَ والمُومِناتِ بَعضُھُم أولِیائُ
بعض یامُرُونَ بالمعروفِ وینھونَ عنِ المنکَر۔
ترجمہ :۔ مومن مرد ااور مومن
عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ،بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔
اس
آیت کریمہ سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہاکہ معروف کا حکم اور منکرات سے بچنے کی
تلقین مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی کر سکتی ہیں ۔ خواتین کے لئے اسلامی شعائر
اور اسکے تقاضوں کی باپندی لازمی ہے ، تاریخ کے اوراق میں بہت سارے دلائل ہیں ۔
حضرت عائشہ ؓ جنکو ۲۰۰۰ سے زائد احادیث یاد تھیں،جو
عورتیں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ مرد کی بھی رہنمائی کیا کرتی تھیں، حضرت خدیجۃ
الکبریٰ ؓ اپنے وقت کی ماہر تاجرہ تھیںجن
کا کاروبار کئی ممالک میں پھیلا ہوا تھا۔حضرت ام سلمیٰ ؓ جن کے مشورے پر حضرت محمد
مصطفی ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر عمل کیا تھا
،اسی طرح سے جنگ احد کے موقع پر حضرت ام عمارہ ؓنے آپ ﷺ کی مدافعت میں جس
ہمت اور پامردی کا ثبوت دیا اس کی شہادت خود آپ ؐ ان الفاظ دی ہے ’’ما التفت یمنا
و لاشمالا الا وانا ارھا تقاتل دونی ‘‘
(عورت اسلامی معاشرے میں از مولانا سید جلال الدین عمری ص ۱۷۷ ) ۔
آج جب ہم اپنے معاشرہ اور ماحول کا جائزہ لیتے ہیں تو آٹے میں نمک کے
برابرتعلیم یافتہ خواتین نظر آتی ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ کم سنی میں شادی کردی
جاتی ہے۔ کچھ ایسی بھی بہنیں ہیں جن کو اللہ نے بہت ساری صلاحیتوں سے نوازہ ہے ،وہ
بہت سارے دینی امور کی انجام دہی میں اپنی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں
،مگر شوہر کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے بہت سارے دینی مجلسوں میں شرکت سے قاصر ہو
جاتی ہیں ،خاطر خواہ فوائد کے حصول سے خود بھی محروم رہ جاتی ہیں اور معاشرہ بھی
ان سے مستفید نہیں ہو پاتا ہے ۔ ایسی صورت میں معاشرے کا بااثر و رسوخ افراد کی
ذمہ داری بنتی ہے کہ متعلقہ افراد کی ذہن سازی کرے ۔ انہیں بھی دنیی مجالس میں
شرکت کی دعوت دے اور اپنی باتوں سے آگاہ کرے۔
آج کی خواتین اسلام کے دئے ہوئے حقوق سے کافی دور ہے،اسے دین اسلام کا
مطالعہ کرنا چاہیے اور شریعت نے خواتین کو کسب معاش کا جو اصول و ضابطہ مدیا ہے
اسکا صحیح علم حاصل کرنا چاہئے ، وراثت میںجو حقوق متعین کیا ہے اس کو حاصل کرے
اور بہنوں کو ترغیب دیں کہ ان کا یہ شرعی حق ہے، ساتھ ہی بھایئوں کو چاہئے کہ بہن
کو حق میراث سے قطعا محروم نہ کرے ۔ تقسیم میراث کو معاشرے میں رواج دیا جائے اور
ساتھ ہی اس شرعی حکم کی خلاف ورزی کے بھیانک انجام سے معاشرہ کے افراد کو باخبر کیا جائے ۔ مغربی
تہذیب ا ور اسکی ثقافت سے مکمل اجتناب کیا جائے ۔ اللہ خواتین کو اسلام کی صحیح
سمجھ عطا فرمائیں آمین۔
حوالہ جات:۔
۱۔ تفہیم القرآن۔مولانا ابو لاعلی مودودی ؒ
۲۔
عورت اسلامی معاشرے میں ۔ مولانا سید جلال الدین عمری
۳۔ خواتین معاشی اختیار اور تعلیم امکانات اور
حکمت عملی۔ خالد رحمن ، سلیم منصور خالد
علامہ اقبال اور دیگر شعرأ
ajkiurduduniya.blogspot.com
جنوری 30, 2020
0
Comments
جنوری 30, 2020
0
Comments
علامہ اقبال ؒ اور دیگر شعرأ
بیسویں صدی کے اردو شعرأ میں علامہ اقبال ؒ ممتاز و معروف
شاعر ہیں ۔ ان کو شاعر مشرق بھی کہا جاتا ہے۔ انکی شاعری میں زیادہ تر عزم و عمل
کا پیام خودی کا پیغام عشق و معرفت کے اسرار و
رموز پائے جاتے ہیں۔
ان کے ہم عصر شعرأ میں سیماب اکبر آبادی ممتاز ہیں،انہیں
نظم اور غزل دونوں کلام پر یکساں قدرت
حاصل تھی۔ فن عروض پر بھی کامل عبور حاصل تھا۔ وہ شاعری میں آگرہ اسکول کے بانی
کہلاتے تھے۔ اسے دہلی اور لکھنؤ کے دبستانوں کا امتزاج سمجھنا چاہئے۔ دوسرے ممتاز
گو شاعر جوش ملیح آبادی ہیں جو شاعر انقلاب کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کو بھی
نظم اور غزل دونوں پر یکساں قدرت حاصل ہے۔
حالی اور ابوالکلام آزاد کی جدید شاعری کے
اثر عام طور پر شعرا کی توجہ غزل کہنے سے
ہٹ گئی تھی ، لیکن مولانا حسرت موہانی، اصگر گونڈوی، فانی بدایونی، مولانا صفی
لکھنوی ، عزیز لکھنوی اور جگر مرادابادی نے اس صنف میں جان ڈال دی اور اس کے دامن
کو وسیع کرکے اس لائق بنایا کہ پھر اس کی
افادیت اور اہمیت میں کافی حد تک اضافہ ہو
گیا۔ ان شاعر کے کلا م میں جدید غزل گوئی کی تمام تر خوبیاں اور عناصر موجود ہیں۔
فراق گورکھ پوری
اور فیض احمد فیض ؔ کا شمار بھی جدید غزل گو شاعر میں ہوتا ہے،
بلا شبہ انہوں نے غزل کے حسن میں نکھار پیدا کیا ہے۔ جدید دور کے شاعر وں میں
مولانہ ظفر علی ، حفیظ جالندھری ، احسان دانش
اور عظمت اللہ خان
کے ناموں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔
U.G.C NET/ JRF II paper Urdu Adab December 2012
ajkiurduduniya.blogspot.com
جنوری 28, 2020
0
Comments
جنوری 28, 2020
0
Comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم
قارئین !
امید ہے آپ تمام اللہ کے فضل و کرم سے بخیر و عافیت ہوں گے۔
آپ کی خدمت میں
۲۰۱۲ دسمبرکا دوسرا حل کیا ہوا
سوال نامہ پیش کیا جا رہا ہے، آ پ کو ضرور پسند آئیگا ۔
۱۔ پیاسی جو
تھی سپاہ خُدا تین رات کی ساحل سے سر پٹکتی تھی موجیں فرات کی۔
اس شعر میں استعمال ہونے والی صفت کیا ہے:
( الف) توشیخ (ب) تلمیح
( ج ) حسن
ِ تعلیل (د) مجاز ِ مرسل
۲۔ ان میں سے کس
شاعر نے فارسی الفاظ اور تراکیب کا زیا دہ استعمال کیا ہے؟
(الف) میرا جی
(ب) اختر الایمان
(ج) ن ۔ م۔ راشد (د)
قیّوم نظر
۳۔ ان میں سے کتاب ’’ترقی پسند ادب‘‘ کے خالق ہیں؟
(الف) احتشام
حسین (ب) ممتاز حسین
(ج) محمد حسین (د) علی سردار جعفری
۴۔ بلبل ہند مر
گیا ہیہات جس کی بات بات میں تھی ایک بات۔
اس شعر میں
ہیں:
(الف) تشبیہ (ب) استعارہ
(ج) تضاد (د)
حسنِ تعلیل
۵۔ کلیات اقبال کی
صحیح ترتیب ہے۔
(الف) بالِ جبریل، ارمغانِ حجاج، ضربِ کلیم، بانگِ
درا
(ب) ارمغانِ حجاز،
ضرب کلیم، بانگِ درا، بال جبریل
(ج) ضربِ کلیم، بانگَ
درا ، ارمغانِ حجاز، بال جبریل
(د) بانگِ
درا ، بالِ جبریل، ضرب کلیم، ارمغانِ حجاز
۶۔ کتاب ’’
تنقیدی افکار‘‘ کے مصنف ہیں۔
(الف) گوپی
چندر نارنگ (ب) وہاب اشرفی
(ج) شمس الرحمن فاروقی (د)
وارث علوی
۷۔ مسدس کے
آخری دو مصرعوں کو کہتے ہیں۔
(الف) حسنِ
مطلع (ب) حسنِ بیان
(ج) بیت (د) بندش
۸۔ دہلی سے لکھنؤ
آنے والے شاعروں کے نام ۔
(الف) ذوق و مومن (ب) میر و سودا
(ج) درد ،
داغ (د) منت و ممنون
۹۔ ناول ’’لہو
کے پھول کی ‘‘ کل جلدیں ہیں۔
(الف) تین (ب) چار
(ج) دو (د)پانچ
۱۰۔ فرما سکے نہ
یہ کہ شہ مشرقین ہوں مولا نے سر جھکا
کہ کہا میں حسین ہوں۔
اس مشہور بیت
کا تعلق ہے۔ انیس کے مرثیے۔۔۔۔۔۔۔
(الف) نجدا
فارسِ میدانِ تہوّر حر
(ب) جب نوجوان پسر پسر شہِ دین سے جدا ہوا ۔
(ج) جب ر ن
میں سر بلند علی کا علم ہوا۔
(د) نمک خواں
تکلم ہے فصاحت میری۔
۱۱۔ حالیؔ نے شاعری کی جو شرطیں بتائی
ہیں انکی ترتیب ہے۔۔۔۔۔
(الف) کائنات کا مطالعہ ، تخیل، تفحصِ
الفاظ۔
(ب) تفحصِ
الفاظ، تخیل، کائنات کا مطالعہ
(ج) تخیل، کائنات کا مطالعہ ، تحفص ِ الفاظ
(د) کائنات کا
مطالعہ، تخیّل ، تفحصِ الفاظ
۱۲۔ شاعری میں ’’
علویت‘‘ کا نظریہ پیش کرنے والے
مغربی نقّاد ہیں۔۔۔۔
(الف) ہو ریس (ب)
افلاطون
(ج) لانجائنس (د) ارسطو
۱۳۔ ناول امراؤ جان ادا میں خانم کی بیٹی کا نام ہے۔۔۔۔۔
(الف) خورشید (ب) بسم اللہ
(ج) انوری (د) حُسن آرا
۱۴۔ ناول ’’ بستی‘‘
اور ’’خُدا کی بستی‘‘کے مصنف ہیں؟
(الف) حیات اللہ انصاری ، قرۃ
العین حیدر۔
(ب)
انتظار حسین، شوکت صدیقی۔
(ج) کرشن
چندر، عصمت چغتائی۔
(د) جمیلہ
ہاشمی، جیلانی بانو۔
۱۵۔ موت سے کس کو
دستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے
اس شعر کا
تعلق جس مثنوی سے ہے اس کا نام ہے۔۔۔۔۔۔
(الف) گلزارِ
نسیم (ب) سحر البیان
(ج) زہر عشق (د)خنجرِ
عشق
۱۶۔ ذکرِ میر کے
مترجم کا نام ہے۔۔۔۔
(الف) خواجہ
احمد فاروقی (ب) شمس
الرحمن فاروقی
(ج) نثار احمد فاروقی (د) ذاکر حسین فاروقی
۱۷۔ ’’طاؤس
چمن کے مینا‘‘کے کے مصنف ہیں۔
(الف)
انتطار حسین (ب) انور سجاد
(ج) نّیر مسعود (د) اقبال مجید
۱۸۔ تحریک
ِآزادی سے متعلق ناول کا نام ہے۔۔۔
(الف) شامِ اودھ (ب)
راجہ گدھ
(ج) لہو کے پھول (د) ٹیڑھی لکیر
۱۹۔ کون سے شاعر کی شناخت صرف نظم نگارکی حیثیت سے ہے۔۔۔
(الف) شہر یار (ب) محمد علوی
(ج) قاضی سلیم (د) راجیندر منچندا
بانی
۲۰۔ مضمون’’
رسالہ در معرفتِ استعارہ‘‘ کے مصنف ہیںْْْْْ
(الف)
ممتاز حسین (ب) احتشام
حسین
(ج) علی سردار
جعفری (د) پروفیسر عبد العلیم
۲۱۔ زبانی ترتیب کے اعتبار سے نشاندہی کریں۔۔۔
(الف) سودا۔ غالب۔ ناسخ ۔ انشا ء (ب) غالب ۔ سودا۔ انشاء ۔ ناسخ
(ج) سودا۔ انشاء۔ ناسخ۔ غالب (د) ناسخ ۔ انشاء۔ سودا ۔ غالب
۲۲۔ مصرعے کو مکمل کریں۔۔۔۔
صورت شمشیر ہے دستِ ۔۔۔۔۔ میں وہ قوم۔
(الف) جفا (ب) صفا (ج) قضا (د) وفا
۲۳۔ میرا جی اور ن۔ م راشد کا تعلق ہے۔۔۔۔۔
(الف) ترقی پسندی سے (ب) جدیدیت سے
(ج) ما بعد جدیدیت سے (د) حلقہ ارباب ِ ذوق
۲۴۔ ’’صبح کرنا شام کرنا ہے جوئے شیر کا‘‘ اس مصرع کو مکمل کریں۔۔۔
(الف) کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
(ب) موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
(ج) کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
(د) سینہ شمشیر سے باہر ہے دمِ شمشیر کا
۲۵۔ رستم شیر کی طرح بہادر ہے۔ اس جملے میں حرفِ تشبیہ ہے۔۔۔
(الف) رستم (ب) بہادر (ج) کی طرح (د) شیر
۲۶۔ نہ شاعر ہیں نہ افسانہ نگار۔۔۔۔
(الف) احتشام حسین (ب) گوپی چند نارنگ
(ج) شمس الرحمن فاروقی (د) نیاز فتح پوری
۲۷۔ تانیثیت کے لئے بحث کرتی ہے۔۔۔۔
(الف) نئی عورت کے مجموعی مسائل سے
(ب) فرد کے سماجی مسائل سے
(ج) پرانی عورت کے مسائل سے
(د) مرد کے انفرادی مسائل سے
۲۸۔ قید و بند کی صعوبتیں اٹھانے والے شاعر ہیں۔۔۔۔
(الف) فیض و حسرت (ب) راشد و میرا جی
(ج) امیر و داغ (د) مجاز و جاں نثار اختر
۲۹۔ تنقید کے لیے ضروری ہے۔۔۔
(الف) استدلال (ب) فلسفہ (ج) عالمانہ نثر (د) شگفتہ بیانی
۳۰۔ شعر کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ضروری ہے۔۔۔
(الف) غزل کے لیے (ب) مثنوی کے لیے
(ج) قصیدے کے لیے (د) سلام کے لیے
۳۱۔ دوسروں کا خاکہ اڑانے والی صفت ہے۔۔۔
(الف) واسوخت (ب) ہجو
(ج) مثنوی (د) ریختی
۳۲۔ صحافی اور ناول نگار دونوں ہیں۔۔۔
(الف) حیات اللہ انصاری (ب) احسن فاروقی
(ج) جوگندر پال (د) جمیلہ ہاشمی
۳۳۔ ’’ کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ ہے۔۔۔
(الف) ایک طویل افسانہ ہے (ب) ناولٹ
(ج) ایک ضخیم ناول ہے (د) سفر نامہ
۳۴۔ ایلیٹ کی ایک نظم کے ترجمے کو سر نامے کے طور پر جس ناول میں شامل کیا گیا ہےاس کا نام ہے۔۔۔۔
(الف) اداس نسلیں (ب) آگ کا دریا
(ج) ٹیڑھی لکیر (د) خدا کی بستی
۳۵۔ گیان پیٹھ اور سرسوتی سماّن پانے والے ادیبوں کا جوڑا ہے۔۔۔
(الف) شمس الرحمن فاروقی ۔ شہر یار
( ب) نیز مسعود۔ شمس الرحمن فاروقی
(ج) قرۃ العین حیدر نیز مسعود
(د) گوپی چند نارنگ شمس الرحمن فاروقی
۳۶۔ تنقید کا اصل مقصد ہے۔۔۔
(الف) فن پارے کی قدر متعین کرنا (ب) فن پارے کی متن متعین کرنا
(ج) فن پارے کی تحسین و ستائش (ج) فن پارے کی وضاحت و صراحت
۳۷۔ مجّرد کو مجسّم کرنے کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔۔
(الف) علامت میں (ب) تمثیل میں
(ج) استعارے میں (د) پیکر میں
۳۸۔ ان میں سے کس ادیب نے سفر نامہ نہیں لکھا ہے؟
(الف) انتظار حسین (ب) ابن انشاء
(ج) احتشام حسین (د) شمس الرحمن فاروقی
۳۹۔ کون سا مصرع موزوں نہیں ہے؟
(الف) بے خطر کود پڑ ا آتش نمردو میں عشق
(ب) گری ہے جس پہ بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
ج) وہی گوشہِ قفس ہے فصل گل کا ماتم
(د ) غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
۴۰۔ شاعری کو مخرّبِ اخلاق کہنے والا فلسفی ہے
(الف) ارسطو (ب) افلاطون
(ج) سقراط (د) فیثا غورث
۴۱۔ قدیم حکایتوں اور جاتک کتھا ؤں سے اپنا موضوع مستعار لینے والے افسانہ نگار ہیں۔۔۔
(الف) کرشن چندر (ب) بلراج میزا (ج) انتظار حسین (د) سعادت
حسین منٹو
۴۲۔ ترقی پسند ادبی سرمائے کا محاکمہ کرنے والے ادیب ہیں ۔۔
(الف) کیفی اعظمی (ب) اسلوب احمد انصاری
(ج) خورشید الاسلام (د) خلیل الرحمن اعظمی
۴۳۔ غلام مصطفٰی خان شیفتہ کا تعلق ہے۔۔۔
(الف) میر کے عہد سے (ب) غالب کے عہد سے
(ج) اقبال کے عہد سے (د) فیض کے عہد سے
۴۴۔ ان میں کس کا تعلق شاعری سے ہے؟
(الف) جیلانی بانو (ب) ذکیہ مشہدی
(ج) زاہدی زیدی (د) رشید جہاں
۴۵۔ ان میں سے کون سی کتاب آرائشی زبان میں نہیں ہے۔۔
(الف) فسانہ عجائب (ب) نو طرز مرصع
(ج) طلسمِ ہوش ربا (د) رانی کیتکی کی کہانی
۴۶۔ ’’ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیئم
تو نے وہ گنج ہائے گرا نما یہ کیا کیے‘‘
’’ سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گیئں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گیئں ‘‘
ان دونوں شعروں میں ہے۔۔۔۔۔
(الف ) اتحادِ معنیٰ (ب) افتراقِ معنیٰ
(ج) انحرافِ معنیٰ (د) اختلافِ معنیٰ
۴۷۔ جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق
میں یہ سمجھوںگا کہ۔۔۔۔۔۔شمعیں فروزاں ہو گئیں
(الف) شمعیں (ب) شمع
(ج) شمعیں دو (د) دو شمعیں
۴۸۔ان میں سے ادیبوں کے کس دستے نے اقبالؒ کی باقاعدہ تفھیم و تعبیر کی؟
(الف) اسلوب احمد انصاری : خلیفہ عبد الحکیم
(ب) شمس الرحمن فاروقی : وارث علوی نے
(ج) سردار جعفری : وزیر آغا نے
(د) وقار عظیم : خورشید الاسلام نے
۴۹۔ جدیدیت اور ما بعد جدیدیت میں مشترک عنصر ہے۔۔۔
(الف) سیاسی وابستگی (ب) سیاسی نا وابستگی
(ج) مقصدیت (د) سماجی مسائل کی عکاسی
۵۰۔ یعنی موقع ہو جہاں عبارت ہو وہی ۔ اس مصرع میں اشارہ ہے۔۔
(الف) بلاغت کی طرف (ب) طلاقت کی طرف
(ج) نزاکت کی طرف (د) فصاحت کی طرف
نوٹ : اپنی رائے سے ضرورآگاہ کریں۔
آپ سے پھر اگلی پیش کش میں ملاقات ہوتی ہے
اپنا خیال رکھیں اور خوش رہں اور خوشیاں بانٹیں
اللہ حافظ
۲۱۔ زبانی ترتیب کے اعتبار سے نشاندہی کریں۔۔۔
(الف) سودا۔ غالب۔ ناسخ ۔ انشا ء (ب) غالب ۔ سودا۔ انشاء ۔ ناسخ
(ج) سودا۔ انشاء۔ ناسخ۔ غالب (د) ناسخ ۔ انشاء۔ سودا ۔ غالب
۲۲۔ مصرعے کو مکمل کریں۔۔۔۔
صورت شمشیر ہے دستِ ۔۔۔۔۔ میں وہ قوم۔
(الف) جفا (ب) صفا (ج) قضا (د) وفا
۲۳۔ میرا جی اور ن۔ م راشد کا تعلق ہے۔۔۔۔۔
(الف) ترقی پسندی سے (ب) جدیدیت سے
(ج) ما بعد جدیدیت سے (د) حلقہ ارباب ِ ذوق
۲۴۔ ’’صبح کرنا شام کرنا ہے جوئے شیر کا‘‘ اس مصرع کو مکمل کریں۔۔۔
(الف) کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
(ب) موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
(ج) کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
(د) سینہ شمشیر سے باہر ہے دمِ شمشیر کا
۲۵۔ رستم شیر کی طرح بہادر ہے۔ اس جملے میں حرفِ تشبیہ ہے۔۔۔
(الف) رستم (ب) بہادر (ج) کی طرح (د) شیر
۲۶۔ نہ شاعر ہیں نہ افسانہ نگار۔۔۔۔
(الف) احتشام حسین (ب) گوپی چند نارنگ
(ج) شمس الرحمن فاروقی (د) نیاز فتح پوری
۲۷۔ تانیثیت کے لئے بحث کرتی ہے۔۔۔۔
(الف) نئی عورت کے مجموعی مسائل سے
(ب) فرد کے سماجی مسائل سے
(ج) پرانی عورت کے مسائل سے
(د) مرد کے انفرادی مسائل سے
۲۸۔ قید و بند کی صعوبتیں اٹھانے والے شاعر ہیں۔۔۔۔
(الف) فیض و حسرت (ب) راشد و میرا جی
(ج) امیر و داغ (د) مجاز و جاں نثار اختر
۲۹۔ تنقید کے لیے ضروری ہے۔۔۔
(الف) استدلال (ب) فلسفہ (ج) عالمانہ نثر (د) شگفتہ بیانی
۳۰۔ شعر کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ضروری ہے۔۔۔
(الف) غزل کے لیے (ب) مثنوی کے لیے
(ج) قصیدے کے لیے (د) سلام کے لیے
۳۱۔ دوسروں کا خاکہ اڑانے والی صفت ہے۔۔۔
(الف) واسوخت (ب) ہجو
(ج) مثنوی (د) ریختی
۳۲۔ صحافی اور ناول نگار دونوں ہیں۔۔۔
(الف) حیات اللہ انصاری (ب) احسن فاروقی
(ج) جوگندر پال (د) جمیلہ ہاشمی
۳۳۔ ’’ کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ ہے۔۔۔
(الف) ایک طویل افسانہ ہے (ب) ناولٹ
(ج) ایک ضخیم ناول ہے (د) سفر نامہ
۳۴۔ ایلیٹ کی ایک نظم کے ترجمے کو سر نامے کے طور پر جس ناول میں شامل کیا گیا ہےاس کا نام ہے۔۔۔۔
(الف) اداس نسلیں (ب) آگ کا دریا
(ج) ٹیڑھی لکیر (د) خدا کی بستی
۳۵۔ گیان پیٹھ اور سرسوتی سماّن پانے والے ادیبوں کا جوڑا ہے۔۔۔
(الف) شمس الرحمن فاروقی ۔ شہر یار
( ب) نیز مسعود۔ شمس الرحمن فاروقی
(ج) قرۃ العین حیدر نیز مسعود
(د) گوپی چند نارنگ شمس الرحمن فاروقی
۳۶۔ تنقید کا اصل مقصد ہے۔۔۔
(الف) فن پارے کی قدر متعین کرنا (ب) فن پارے کی متن متعین کرنا
(ج) فن پارے کی تحسین و ستائش (ج) فن پارے کی وضاحت و صراحت
۳۷۔ مجّرد کو مجسّم کرنے کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔۔
(الف) علامت میں (ب) تمثیل میں
(ج) استعارے میں (د) پیکر میں
۳۸۔ ان میں سے کس ادیب نے سفر نامہ نہیں لکھا ہے؟
(الف) انتظار حسین (ب) ابن انشاء
(ج) احتشام حسین (د) شمس الرحمن فاروقی
۳۹۔ کون سا مصرع موزوں نہیں ہے؟
(الف) بے خطر کود پڑ ا آتش نمردو میں عشق
(ب) گری ہے جس پہ بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
ج) وہی گوشہِ قفس ہے فصل گل کا ماتم
(د ) غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
۴۰۔ شاعری کو مخرّبِ اخلاق کہنے والا فلسفی ہے
(الف) ارسطو (ب) افلاطون
(ج) سقراط (د) فیثا غورث
۴۱۔ قدیم حکایتوں اور جاتک کتھا ؤں سے اپنا موضوع مستعار لینے والے افسانہ نگار ہیں۔۔۔
(الف) کرشن چندر (ب) بلراج میزا (ج) انتظار حسین (د) سعادت
حسین منٹو
۴۲۔ ترقی پسند ادبی سرمائے کا محاکمہ کرنے والے ادیب ہیں ۔۔
(الف) کیفی اعظمی (ب) اسلوب احمد انصاری
(ج) خورشید الاسلام (د) خلیل الرحمن اعظمی
۴۳۔ غلام مصطفٰی خان شیفتہ کا تعلق ہے۔۔۔
(الف) میر کے عہد سے (ب) غالب کے عہد سے
(ج) اقبال کے عہد سے (د) فیض کے عہد سے
۴۴۔ ان میں کس کا تعلق شاعری سے ہے؟
(الف) جیلانی بانو (ب) ذکیہ مشہدی
(ج) زاہدی زیدی (د) رشید جہاں
۴۵۔ ان میں سے کون سی کتاب آرائشی زبان میں نہیں ہے۔۔
(الف) فسانہ عجائب (ب) نو طرز مرصع
(ج) طلسمِ ہوش ربا (د) رانی کیتکی کی کہانی
۴۶۔ ’’ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیئم
تو نے وہ گنج ہائے گرا نما یہ کیا کیے‘‘
’’ سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گیئں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گیئں ‘‘
ان دونوں شعروں میں ہے۔۔۔۔۔
(الف ) اتحادِ معنیٰ (ب) افتراقِ معنیٰ
(ج) انحرافِ معنیٰ (د) اختلافِ معنیٰ
۴۷۔ جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق
میں یہ سمجھوںگا کہ۔۔۔۔۔۔شمعیں فروزاں ہو گئیں
(الف) شمعیں (ب) شمع
(ج) شمعیں دو (د) دو شمعیں
۴۸۔ان میں سے ادیبوں کے کس دستے نے اقبالؒ کی باقاعدہ تفھیم و تعبیر کی؟
(الف) اسلوب احمد انصاری : خلیفہ عبد الحکیم
(ب) شمس الرحمن فاروقی : وارث علوی نے
(ج) سردار جعفری : وزیر آغا نے
(د) وقار عظیم : خورشید الاسلام نے
۴۹۔ جدیدیت اور ما بعد جدیدیت میں مشترک عنصر ہے۔۔۔
(الف) سیاسی وابستگی (ب) سیاسی نا وابستگی
(ج) مقصدیت (د) سماجی مسائل کی عکاسی
۵۰۔ یعنی موقع ہو جہاں عبارت ہو وہی ۔ اس مصرع میں اشارہ ہے۔۔
(الف) بلاغت کی طرف (ب) طلاقت کی طرف
(ج) نزاکت کی طرف (د) فصاحت کی طرف
نوٹ : اپنی رائے سے ضرورآگاہ کریں۔
آپ سے پھر اگلی پیش کش میں ملاقات ہوتی ہے
اپنا خیال رکھیں اور خوش رہں اور خوشیاں بانٹیں
اللہ حافظ

