موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
جدید اردو نثر کا تدریجی ارتقأ
ajkiurduduniya.blogspot.com
جولائی 24, 2019
0
Comments
جولائی 24, 2019
0
Comments
جدید اردو نثر کا تدریجی ارتقاء
ابتدا دراصل اردو
نثر کا وجود اردو نظم کے بعد ہوا ہے۔ محققین
زبان اردوکے انکشافات کے مطابق اس
کا رواج سب سے پہلے دکن میں شروع ہوا۔
زبان اردو کے ابتدائی نثر نگاروں میں شیخ اشرف جہانگیر،
حضرت گیسو دراز،عبد اللہ
حسینی ، عین الدین گنج العلم، شاہ میران جی اور ملا وجہی کا شمار ہوتا ہے، ملا
وجہی
نے ۱۶۳۵ء یا ۱۶۳۶ء میں سب رس لکھی، یہ اردو نثر کا ایک مستند نمونہ تھا۔ ۱۷۳۲
ء میں فضلی نے وہ
مجلس لکھی جو روضۃ
الشہداء کا ہندی ترجمہ تھا۔
یہ دور ایسا
دور تھا کہ اردو نثر ہو یا اردو نظم فارسی
کے مقابلے میں احساس کم تری لکا شکار تھی
چناچہ شاعروں ناور اردو نثر نگاروں نے اردو زبان کی طرف خاص توجہ دی اور اس میں بھی فارسی کے
زیادہ سے زیادہ الفاظ
استعمال کئے۔ ابتدائی دور کی ایک خصوصیت یہ تھی کہاس دور میں نثر نگاروں نے
مذہب اور تصوف زیادہ توجہ دی اور اس کے علم
بردار وہ صوفی اور درویش تھے جو تبلیغ دین
کو ہر
حال میں مقدم سمجھتے تھےاور تحریر و تقریر کے ذریعہ شب و روز اسلام کی نشر و
اشاعت میں مصروف و
مشغول رہتے تھے۔
اٹھارویں
صدی عیسوی کی ابتدا اردو نثر کی تاریخ میں بڑی اہم ہے، کیونکہ یہ
وہ دور تھا جب مغل
حکو مت دم توڑ نے کے قریب پہنچ چکی تھیاور اس دور میں سرکاری
زبان فارسی تھی اسکی اہمیت اور
افادیت بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ یہی وہ دور تھا جس
میں اردو زبان کو پھلنے اور پھولنے کا
زریں موقع
نصیب ہوا ۔ کیونکہ اسوقت بر
صغیر میں کوئی ایسی زبان نہ تھی جو فارسی کی جگہ لے سکتی تھی۔
فورٹ ولیم کالج ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۸۰۰ء میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کا لج کا
قیام عمل
میں آیا، اس کے پرنسپل جان گلکرائسٹ تھے۔یہ کالج اس لیے قائم کیا گیا
تھا کہ حکمراں طبقے کے انگریزوں کو دیسی زبان سکھانا مقصود تھی۔تاکہ وہ مقامی
لوگوں سے گھل مل سکیں اور اپنے نظریات کا
پرچہار کر سکیں ،ڈاکٹر گلکرایسٹ نے اس
مقصد کے لئے اچھے اچھے اور نامور ادیبوں
اور مصنفوں کی تلاش شروع کردی،چناچہ اس تلاش کے نتیجے میںکالج میں ملک کے مشہور
نثر نگار جمع ہو گئے۔ جن میں میر امن دہلوی، شیر علی افسوس، میر بہادر علی حسینی،
مرزا لطف علی ، حیدر بخش حیدری اور اور
نہال چند لاہوری شامل تھے۔ ان ادیبوں نے درسی کتب لکھیں اور قصے کہانیاں بھی لکھیں
اور فارسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ اس دور کی تصانیف میں باغ و
بہار بہت مشہور ہے جو میر امن دہلوی کی
تصنیف ہے۔ مذہبی ، اخلاقی اور افسانوی ادب
کے علاوہ اسی صدی کے آغاز سے اردو میں
خالص ادبی اور تنقیدی موضوعات کا بھی
آغاز ہوتا ہے۔
مذہبی تحریرں
مرزا رفیع سودا نے اپنے دیوان مرثیہ کا دیباچہ اردو میں لکھا اسے اردو نثر
میں تنقید کے ابتدائی نمونوں
میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت
ٍہے کہ اس دور میں اردو نثرو ادب کی ترقی زیادہ تر مذہبی اخلاقی اور داستانی
تصانیف کی مرہون منت ہے پروفیسر مولانا حامد حسین
قادری کے قول کے مطابق دہلی کے ایک نامور
حکیم شریف خان نے قرآن کریم کا
اردو میں ترجمہ کیا، یہ ترجمہ شاہ عبد القادر
دہلوی کے ترجمے سے بیس سال پہلے
کیا گیا تھا بعض محقیقن شاہ رفیع
الدین کے ترجمے کو پہلا ترجمہ بتاتے ہیں
جو تقریبا ۱۷۶۷ء میں ہوا ۔ مولانا شاہ عبد القادر کے دوسرے بھائی تھے ان کے ترجمہ قرآن شریف کا نام موضوع القرآن ہےمولانا شاہ عبد القادر کا ترجمہ اردو
محاوروں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے اس لئے ان کے اس ترجمہ میں روانی ہے۔
فسانہ عجائب
ہم واضح کر چکے ہیں کہ فورٹ ولیم کالج میں اچھے اچھے نثر نگاروں کا
اجتماع تھا ۔ انہوں نے جو
داستانیں تصنیف کیں وہ بہت مقبول ہوئیں اور اردو نثر کی ترقی پر بھی ان کا بہت اثر پڑا لیکن کالج کے علاوہ بھی اس دور میں ایسے منصفین موجود تھے جنہوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں رجب علی بیگ سرور اور فقیر محمد گویا کا نام قابل ذکر ہے، اس زمانے میں بالخصوص سرور کی تصنیف ’’ فسانہ عجائب ‘‘ بہت مقبول ہوئی۔
داستانیں تصنیف کیں وہ بہت مقبول ہوئیں اور اردو نثر کی ترقی پر بھی ان کا بہت اثر پڑا لیکن کالج کے علاوہ بھی اس دور میں ایسے منصفین موجود تھے جنہوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں رجب علی بیگ سرور اور فقیر محمد گویا کا نام قابل ذکر ہے، اس زمانے میں بالخصوص سرور کی تصنیف ’’ فسانہ عجائب ‘‘ بہت مقبول ہوئی۔
دریائے لطافت
۱۸۰۸ء میں اردو نثر کے مشہور شاعر سید
انشا ٔ
اللہ خاں انشا ٔ اور مرزا قتیل کی مشترکہ تصنیف ہے
جو فارسی زبان
میں لکھی گئی تھی یہ اردو کی سب سے پہلی
قواعد ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے اس کے پہلےحصے میں اردو زبان کے مختلف نمونے اور
قواعد بیان کئے گئے ہیں دوسرے میں عروض ،قافیہ،
منطق ، علم معانی، علم بیان وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اردو زبان کی
بنیاد اور بناوٹ پر بھی روشنی ڈالی گئی
ہے، انداز تحریر ظریفانہ ہے۔ لسانیات پر
اردو میں اسے پہلی کتاب سمجھنا چاہئے،چونکہ
یہ اردو کی پہلی قواعد بھی ہے اس وجہ سے اس کا درجہ بھی بلند ہے۔
غالب کے خطوط
میر امن دہلوی ؔ سے پہلےاردو نثر تصنع سے پر تھی اور اسی کو بہتر سمجھا جاتا تھا ، لیکن میر امن نے نثر
میں سادگی کو ترجیح دی اور اسی کو بہتر سمجھا ۔ مگر مرزا اسداللہ خان غالب نے نثر میں سادگی کے معیار کو
اور بھی بلند کر دیا ۔ غالب کے خطوط سادہ بیانی اور اور دلکش طرز تحریر کا آ یئنہ ہیں ان کے خطوط کا
بعد کے نثر نگاروں میں اثر پڑا اور وہ اپنی تحریروں میں سادگی کو ترجیح دینے لگے۔
نشاط ثانیہ اور زبان اردو
۱۸۵۷ء کے بعد کا دور اردو نثر کی تاریخ میں بڑا اہم قرار دیا گیا ہے، اس دور میں بڑے بڑے نثر نگار
منظر عام پر آئے ہیں۔ ان میں سر سید احمد خاں، مولانا شبلی نعمانی ، مولانا حالی، مولانا محمد حسین آزاد کے
نام قابل ذکر ہیں۔ سر سید احمد نے دراصل نثر نگاری میں غالبؔ کے طرز سادگی کو آگے بڑھایا ہےاور
اس کو خوب پروان چڑھایا ہے۔ ایک رسالہ تہذیب الاخلاق کے نام سے جاری کیا ، معاشرتی ، تمدنی،
تعلیمی اور مذہبی مسائل پر بہت کچھ لکھا انکی تحریر کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہےکہ موضوع کی
ضرورت کے لحاظ سے ان کا قلم اپنا طرز بھی اسی کے موافق خود بخود تیار کرتا جاتا ہے۔ اس دور کو اردو
ادب میں نشاط ثانیہ کے دور تعبیر کیا جاتا ہے۔ مولانا شبلی ؒ نے زیادہ تر مذہبی مضامین لکھے ان کی نثر میں
بھی سادگی اور شگفتگی ہے اور ساتھ میں علمی وقار بھی پایا جاتا ہے۔مولانا محمد حسین آزاد منفرد قسم کے نثر
نگار ہیں لیکن سادسگی اور برجستگی میں وہ سر سید سے کم درجہ نہیں رکھتے ہیں ۔مولانا حالی بھی ایک
کامیاب نثر نگار ہیں انکی تحریر نے بھی اس دور کے اردو نثر کو ایک منفرد مقام پر چھوڑا ہے۔
تنقید و تحقیق
تنقیدی ادب صحیح
انداز کی سوانح نگاری کا آ غاز دراصل
حالی سے ہی ہوتا ہے۔ ان کے اس نئے تنقیدی
انداز کو وحید الدین سلیم مہدی الافادی
اور مولوی عبد الحق نے ترقی دی ۔ ان کے علاوہ
جو دوسرے نقاد
منظر عام پر آئےانہوں نے
بھی حالی کی پیروی کرتے ہوئے ادب کی
سماجی حیثیت کو اپنے پیش نظر رکھا ۔
ان
نقادوں میں مجنوں گررکھ پوری ، اختر رائے پوری،پروفیسر احتشام حسین،آل احمد
سروراور احتشام حسین
کے نام سر فہرست ہیں۔ بعض نقادوں نے جن پروفیسر حمد حسین قادری ، مسعود حسین
ادیب، نیاز فتخ
پوری ، عبد الرحمن بجنوری، اور عندلیب شادنی شامل ہیں انہوں نے
علیحیدہ راہ نکالی ہےلیکن فیض حالی
سے بھی حاصل کی ہے۔ ان نقادوں کے علاوہ عصر
حاضر کے بلند پایہ نقادوں میں ڈاکٹر سید عبد اللہ، پروفیسر وقار اعظیم ، رام بابو
سکسینہ، ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، وبادت بریلوی، محمد حسن عسکری، کلیم الدین
احمد،حافظ محمد محمود شیرانی کا شمار ہوتا ہے اور ان کی خدمات کو تنقید و تحقیق کے
میدان میں فراموش نہیں کیا جا سکتا ہ۔
ناول
اورافسانہ
اردو کی نثر ترقی میں ناول نگاروں نے بھی حصہ
لیا ہے۔ مولانا نزیر احمد، پنڈت رتن ناتھ
شرشار، مولانا
عبد الحلیم شرر اور مرزا
محمد ہادی رسوا نے فرسودہ داستان نگاری کی جگہ
اردو ادب میں معیاری ناول نگاری
کو رواج دیا ۔ جن کی تقلید بعد کے ناول نگاروں نے کی۔ اس کے بعد پریم چند کے ذریعہ ناول
نگاری
اور افسانہ نگاری کا کا جدید دور شروع ہوا۔ ان کے بعد یعنی پہلی جنگ عظیم کے
بعد ناول نگار اور افسانہ
نویس نیا شعور
لیکر میدان میں آئے اور ترقی پسند تحریک سے
ناول نگاری اور افسانہ نویسی کو فروغ حاصل
ہوا۔ سجاد ظہیر ، کرشن چند، عصمت
چغتائی، احمد ندیم قاسمی، قرۃ العین حیدر، ڈاکٹر احسن فاروقی ، ریئس
احمد جعفری،
رشید اختر ندوی،شوکت صدیقی وغیرہ نے ناولوں اور اردو افسانوں کے ذریعہ اردو ادب کو
بہت فروغ دیا۔ اس طرح سے اردو نثری
ادب میں کافی اضافہ ہوا۔
ڈرامہ نگار
اردو نثر کی ترقی میں ڈرامہ نگاروں کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اردو میں ڈرامہ کی
ادائیگی ایک
عرصہ نظم میں ہوتی رہی نثر
کا رواج رفتہ رفتہ ہوا۔ ابتدا کے ڈرامہ نگاروں میں امانت احسن، بیتاب بنارسی، رونق بنارسی، حسینی میاں
ظریف وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔ ان کے بعد آغا حشر کاشمیرینے بڈرامے میں اچھا ادبی معیار قائم
کیا ہے۔ ان کے ڈراموں کا اردو کے اعلی
ادب میں شمار ہوتا ہےیہ بھی حشر کا کارنامہ
ہے کہ انہوں نے اردو ڈراموں میں نثر کو اصلی مقام دیا ۔ موجودہ دور کے ڈرامہ
نگاروں میں امتیاز علی تاج، حکیم احمد شجاع ، عشرت رحمانی ، سردار جعفری، مرزا
ادیب، ڈاکٹر اشتیاق قریشی ، اوپیندر ناتھ
اشک، صالحہ عابد حسین اور پروفیسر نجیب کے
نام قابل ذکر ہیں۔
مزاح نگار اور طنز نگار
اردو نثر کی ترقی میں مزاح نگاروں نے اور طنزنگاروں نے بھی حصہ لیا ہے۔ مرزا غالب کی شخصیت پہلی شخصیت ہےجنہوں نے خطوط میں مزاح کا عنصر نہایت عمدگی سے شامل کیا ہےاس کے بعد منشی سجاد منظر عام پر آئے۔ وہ خود بھی ایک اچھے مزاح نگار تھے اور اپنے اخبار اودھ پنچ میں بھی مزاح نگاروں کا ایک اچھا خاصا گروہ شامل کر لیا تھا۔ اس دور کے مزاح نگاروں میں میر محفوظ علی اور مرزا فرحت علی بیگ کے نام حاص ہیں۔ ان کے بعد کے مزاح نگاروں میں عظیم بیگ چغتائی شوکت تھانوی کنہیا لال کپور، پطرس بخاری اور رشید احمد صدیقی نے گراں قدر اضافہ کیا ہے
انشا پرداز
اردو نثر کی ترقی میں انشا پردازوں نے بھی نمایاں حصہ لیا ہے ان میں مولانا محمد حسین آزاد،
خواجہ حسن نظامی مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبد الماجد دریا بادی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
علماء کرام اور زبان اردو
اردو نثر کے ابتدائی دور میں نثر نگاروں نے زیادہ توجہ دی وہ مذہب اور تصوف تھا ا ور اس کے علم بردار صوفی درویش اور علماء حضرات تھےجو تقریر اور تحریر کے ذریعہ شب و روز اسلام کی اشاعت میں مشغول رہتے تھے۔ شاہ رفیع الدین ، حکیم شریف خاں اور شاہ عبد القدر کے قرآنی ترجمے بھی اسی میں شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نثر نگاروں نے متعدد رسائل بھی مذہب اخلاق اور تصوف پر لکھے۔ یہ سلسلہ ابتدا سے شروع ہوا اور اس وقت تک جاری رہا۔
مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ ، علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا احمد رضا خاں بریلوی، مولانا اسلم جیراج پوری، مولانا عبد السلام ندوی، مولانا ابو الوفا ثناء اللہ ، مولانا شاہ اسمعیل شہید ؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی، خواجہ حسن نظامی، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا مفتی محمد شفیع، اور مولانا احتشام الحق تھانوی نے اردو نثر میں دینی ادب کو بہت فروغ دیا ۔
صحافیوں کی خدمات
اردو نثر کو پروان چڑھانے میں صحافیوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے سب سےپہلے اردو کا اخبار جاری کیا تھا، یہ جنگ اازادی سے پہلے کی بات ہے،جنگ آزادی کے اردو زبان میں شائع ہونے والے اخباروں میں اودھ اخبار، اودھ پنچ قابل ذکر ہیں۔ اودھ اخبار لکھنؤ سے منشی نول کشور نے جاری کیا تھا، اس اخبار میں پنڈت رتن ناتھ سرشار اور عبد الحلیم شرر بھی شامل رہے۔ سرشارکا فسانہ آزاد سب سے پہلے اسی اخبار میں شائع ہونا شروع ہوا تھا۔اودھ پنچ منشی سجاد حسین کا اخبار تھا۔
اس اخبار نے اردو زبان ادب کی ترقی میں جو حصہ لیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہےاس اخبار نے مزاحیہ صحافت کو ایک تحریک بنا دیا ۔ اس کی مقبولیت کا یہ اثر ہوا کہ بر صغیر میں متعدد مزاحیہ اخبار شائع ہونے لگے، چکبست کے الفاظ میں ’’ اودھ پنچ کی یادگار خدمت یہ ہے کہ اس نے اردو نثر کو اس کا ثنوعی زیور اتار کر جس میں سوائے کاغذی پھولوں کے کچھ نہ تھاایسے پھولوں سے آراستہ کیا جن میں قدرتی لطافت کا رنگ موجود تھا۔‘‘
ان اخباروں میں نوک جھونک بھی ہوتی رہتی تھی، جنگ آزادی کے بعد اردو صحافت کا یہ پہلا دور تھا ، دوسرا دور سر سید احمد سے شروع ہوتا ہےوہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے مسلمانوں میں جدید علوم حاصل کرنے کی ضرورت کا شعور پیدا کرنے کے لئے اخبار سائنٹفک سو سائٹی جاری کیا جو بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی گزٹ بن گیا۔ اسی اخبار میں مولانا حالی کے کہنے کے مطابق سماجی،علمی،اخلاقی،سیاسی ہر قسم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔۱۸۷۰ء میں سر سید نے تہذیب الاخلاق جاری کیا تھا یہ رسالہ ماہ نامہ تھا یہ اپنے مفید اور معلوماتی مضمامین کی وجہ سے کافی مشہور ہوا۔
اس کے بعد قابل ذکر اخبارات و رسائل میں مولانا محمد علی جوہر کے ہمدم مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال و البلاغ شامل ہیں ،بالخصوص الہلال ایک ایسے آتش فشاں کی مانند تھا جس سے انگریزی سماج ہمیشہ خوف کھاتا رہا۔
ان اخبارات کے بعد جو اخبارات شائع ہوئے ہندوستان ،مسلم گزٹ ، زمیندار مدینہ شامل ہیں بالخصوص مولانا ظفر علی خاںکا اخبار زمیندار جو لاہور سے نکلتا تھا ھق گوئی اور بے باکی میں مشہور تھا اس نے سامراجی حکومت کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی جس کی بنا پر اسے کئی بار بند ہونا پڑااور مولانا ظفر علی خانکو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔
پاکستان نبنے کے بعد جو اخبارات وہاں سے شائع ہوئےان میں روزنامہ جنگ، روزنامہ انجام، روزنامہ امروز، روزنامہ نوائے وقت کے نام قابل ذکر ہیں اور عصر حاضر کے اخبارات مین روزنامہ مشرق رونامہ کوہستان، روزنامہ جسارت کے نام قابل ذکر ہیں۔
ادبی صحافت میں رسائل و جرائد نے بھی ترقی کی منزلیں طے کی ہیں ان میں مخزن ، اردوئے معلی، علیگڈھ میگزین، معارف،اردو، ادیب، نگار، شاعر، عالمگیر، ہمایوں، نیرنگ خیال، ساقی، ادبی دنیا، ادب لطیف، سویرا، نقوش،افکار وغیرہ شامل ہیں۔
نوٹ :۔ مضمون علامہ سید منیر ؔ کی کتاب سے ماخوذ ہے۔
انشا پرداز
اردو نثر کی ترقی میں انشا پردازوں نے بھی نمایاں حصہ لیا ہے ان میں مولانا محمد حسین آزاد،
خواجہ حسن نظامی مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبد الماجد دریا بادی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
علماء کرام اور زبان اردو
اردو نثر کے ابتدائی دور میں نثر نگاروں نے زیادہ توجہ دی وہ مذہب اور تصوف تھا ا ور اس کے علم بردار صوفی درویش اور علماء حضرات تھےجو تقریر اور تحریر کے ذریعہ شب و روز اسلام کی اشاعت میں مشغول رہتے تھے۔ شاہ رفیع الدین ، حکیم شریف خاں اور شاہ عبد القدر کے قرآنی ترجمے بھی اسی میں شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نثر نگاروں نے متعدد رسائل بھی مذہب اخلاق اور تصوف پر لکھے۔ یہ سلسلہ ابتدا سے شروع ہوا اور اس وقت تک جاری رہا۔
مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ ، علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا احمد رضا خاں بریلوی، مولانا اسلم جیراج پوری، مولانا عبد السلام ندوی، مولانا ابو الوفا ثناء اللہ ، مولانا شاہ اسمعیل شہید ؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی، خواجہ حسن نظامی، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا مفتی محمد شفیع، اور مولانا احتشام الحق تھانوی نے اردو نثر میں دینی ادب کو بہت فروغ دیا ۔
صحافیوں کی خدمات
اردو نثر کو پروان چڑھانے میں صحافیوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے سب سےپہلے اردو کا اخبار جاری کیا تھا، یہ جنگ اازادی سے پہلے کی بات ہے،جنگ آزادی کے اردو زبان میں شائع ہونے والے اخباروں میں اودھ اخبار، اودھ پنچ قابل ذکر ہیں۔ اودھ اخبار لکھنؤ سے منشی نول کشور نے جاری کیا تھا، اس اخبار میں پنڈت رتن ناتھ سرشار اور عبد الحلیم شرر بھی شامل رہے۔ سرشارکا فسانہ آزاد سب سے پہلے اسی اخبار میں شائع ہونا شروع ہوا تھا۔اودھ پنچ منشی سجاد حسین کا اخبار تھا۔
اس اخبار نے اردو زبان ادب کی ترقی میں جو حصہ لیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہےاس اخبار نے مزاحیہ صحافت کو ایک تحریک بنا دیا ۔ اس کی مقبولیت کا یہ اثر ہوا کہ بر صغیر میں متعدد مزاحیہ اخبار شائع ہونے لگے، چکبست کے الفاظ میں ’’ اودھ پنچ کی یادگار خدمت یہ ہے کہ اس نے اردو نثر کو اس کا ثنوعی زیور اتار کر جس میں سوائے کاغذی پھولوں کے کچھ نہ تھاایسے پھولوں سے آراستہ کیا جن میں قدرتی لطافت کا رنگ موجود تھا۔‘‘
ان اخباروں میں نوک جھونک بھی ہوتی رہتی تھی، جنگ آزادی کے بعد اردو صحافت کا یہ پہلا دور تھا ، دوسرا دور سر سید احمد سے شروع ہوتا ہےوہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے مسلمانوں میں جدید علوم حاصل کرنے کی ضرورت کا شعور پیدا کرنے کے لئے اخبار سائنٹفک سو سائٹی جاری کیا جو بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی گزٹ بن گیا۔ اسی اخبار میں مولانا حالی کے کہنے کے مطابق سماجی،علمی،اخلاقی،سیاسی ہر قسم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔۱۸۷۰ء میں سر سید نے تہذیب الاخلاق جاری کیا تھا یہ رسالہ ماہ نامہ تھا یہ اپنے مفید اور معلوماتی مضمامین کی وجہ سے کافی مشہور ہوا۔
اس کے بعد قابل ذکر اخبارات و رسائل میں مولانا محمد علی جوہر کے ہمدم مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال و البلاغ شامل ہیں ،بالخصوص الہلال ایک ایسے آتش فشاں کی مانند تھا جس سے انگریزی سماج ہمیشہ خوف کھاتا رہا۔
ان اخبارات کے بعد جو اخبارات شائع ہوئے ہندوستان ،مسلم گزٹ ، زمیندار مدینہ شامل ہیں بالخصوص مولانا ظفر علی خاںکا اخبار زمیندار جو لاہور سے نکلتا تھا ھق گوئی اور بے باکی میں مشہور تھا اس نے سامراجی حکومت کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی جس کی بنا پر اسے کئی بار بند ہونا پڑااور مولانا ظفر علی خانکو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔
پاکستان نبنے کے بعد جو اخبارات وہاں سے شائع ہوئےان میں روزنامہ جنگ، روزنامہ انجام، روزنامہ امروز، روزنامہ نوائے وقت کے نام قابل ذکر ہیں اور عصر حاضر کے اخبارات مین روزنامہ مشرق رونامہ کوہستان، روزنامہ جسارت کے نام قابل ذکر ہیں۔
ادبی صحافت میں رسائل و جرائد نے بھی ترقی کی منزلیں طے کی ہیں ان میں مخزن ، اردوئے معلی، علیگڈھ میگزین، معارف،اردو، ادیب، نگار، شاعر، عالمگیر، ہمایوں، نیرنگ خیال، ساقی، ادبی دنیا، ادب لطیف، سویرا، نقوش،افکار وغیرہ شامل ہیں۔
نوٹ :۔ مضمون علامہ سید منیر ؔ کی کتاب سے ماخوذ ہے۔
زبان ِ اردو کی ابتداء اور تدریج
ajkiurduduniya.blogspot.com
جولائی 14, 2019
0
Comments
جولائی 14, 2019
0
Comments
اردو زبان اور محققین کی آرا
اس کےوجود میں آنے اور اسکی ابتدا کے متعلق محققین کیے
خیالات مختلف ہیں، جیسے حافظ محمود شیرانی
کہتے ہیں کہ ’’
اردو پنجاب میں پیدا ہوئی
‘‘ اور دوسرے محققین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو نے سندھ میں جنم لیاہے۔
مولانا محمد حسین آزاد
، ڈاکٹر رام بابو سکسینہ اور
پروفیسر حامد سین قادری نے بالترتیب اپنی کتابوں
، آب حیات، تاریخ ادب اردو اور تاریخ داستان اردو میں یہ بات ثابت کیا ہے
کہ اردو دلی کے نواحی علاقوں میں پیدا
ہوئی ہے اور پروان چڑھی ہے ۔ یہ تمام تر دعوے اور نظریات دراصل اردو زبان کی
افادیت ، مقبولیت اور اس کی عظمت کا بین ثبوت ہیں
کیونکہ برصغیر کا ہر علاقہ یہ ثابت
کرنے میں پیش پیش ہے کہ اردو کا مخزن اس کا علاقہ ہے، بحر حال اردو کے
پرستاروں کے لئے یہ بات بڑے فخر کی ہے کہ اس زبان کو ہر طبقہ ہرگروہ
دل و جان سے پسند کرتا ہے۔
محققین نے اپنے اپنےدعؤں اور اس کی صداقت میں جو دلائل
پیش کئے ہیں وہ بڑے وزنی ہیں اور انہیں بڑے خلوص کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، مثال کے
طور پر حافظ محمود شیرانی کہتے ہیں
’’ جب
مسلمان سندھ اورپنجاب کے بعد دہلی کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں وہ فاتح کی حیثیت سے
داخل تو ایک مخصوص
زبان پنجاب سے اپنے ہمراہ لے گئے ، یہ بات قابل توجہ ہے کہ پنجاب میں ملتان کے علاقے میں بولی جانے والی زبان ملتانی
اردو زبان
سے بہت ملتی جلتی ہے۔ دونوں میں اسماء و افعال کے خاتمہ پر الف آتا ہے، دونوں میں جمع بنانے کا طریقہ ایک
ہے
اور بہت حد
تک ان میں تذکیر و تانیث بنانے کے قواعد و
طریق آپس میں ملتے جلتے ہیں ۔ اس دعوے کو ثابت کرتے
ہوئے
وہ مزید کہتے ہیں
کہ پنجابی زبان میں بہت سے الفاظ
ایسے ہیں جو قدیم اردو میں بعینہ پائے جاتے ہیں ، بلکہ بعض تو جدید اردو
میں بھی
مستعمل ہیں مثلا لک ( لکھ) کھنڈ ( کھانڈ) آیت
(آیت) بھنڈ (
بھانڈ ) اسی طرح پنجابی کے بعض محاورے
بھی
مستعمل
ہیں مثلا
دن دہاڑے ملنا جلنا، چپ چپاتے ، مانگنا
تاگنا وغیرہ‘‘
سندھ اور جنوبی ہند سے اردو کی ابتداء کے سلسلے میں یہ دلیل
کافی وزنی ہے کہ سندھ اور ہندوستان کا جنوبی ساحلی علاقہ ہی ایسا علاقہ تھا ،
جہاں مسلمانوں کی آمد رفت
سب سے پہلے شروع ہوئی جب کہ ہندو
ستان پر مسلمانوں نے حملہ بھی نہیں کیا
تھا ، اس لئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ ان علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں
سب سے پہلے مسلمانوں کی زبانوں سے متاثر
ہوئی ہوں گی۔
مولوی نصیر
الدین ہاشمی نے اپنی کتاب ’’ دکن میں اردو ‘‘ میں بڑے وزنی دلائل سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اردو زبان دکن کی پیداوار ہے۔ اردو کی ابتداء کے معتلق
میر امن دہلوی کا قول ہے’’ جب اکبر شاہی تخت پر بیٹھا تو ایک زبان اردو مقرر ہوئی
چنانچہ اردو کی ابتداء اکبر کے دربار سے وابستہ
ہو گئی ۔ سر سید فرماتے ہیں ’’ جب شاہ جہاں
سریر آراء و ہند ہوا اور امور سلطنت کی لگام کو بدست خود تھاما تو خود بخود ایک زبان نے جنم لیا جس کو اردو
کہتے ہیں‘‘
امام بخش
صہبائی کہتے ہیں ’’ جو بولی شاہ جہاں کے
زمانے میں رائج ہوئی اس کا نام اردو قرار پایا ۔ مولانا آزاد
کی تحقیق ہے کہ ’’رفتہ رفتہ شاہ جہاں کے زمانے میں اس زبان کا نام اردو ہو گیا‘‘ بحر حال مختلف محققین کے مختلف دعوے ہیں اگر ان
سب کا خلوص ِ دل سے تجزیہ کیا جائے تو
بظاہر یہ دعوے صحیح معلوم ہوتے ہیں لیکن انہیں دعوؤں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے
آجاتی ہے کہ اردو کے نشو ونما میں کسی ایک علاقہ
نے حصہ نہیں لیا ۔ بلکہ تمام
علاقوں کے لوگوں نے حسب ِ
استطاعت حصہ لیا ہے اور اہل ِ
گجرات نے بھی
اور دہلی ، آگرہ اور ان کے نواحی علاقوں کے رہنے والوں نے بھی۔
اصلیت
اردو
کی ابتداء دراصل اس طرح ہوئی کہ جب
مسلمانوں نے ہندوستاں پر حملے کئے اور علاقوں پر علاقے فتح کئے تو فاتحین کے بہت سے لوگوں نے مفتوحہ علاقوں میں سکونت اختیار کر لی اور یہاں کے مقامی لوگوں میں گھل مل گئے
مسلمانوں کی زبان نے جس عربی ، فارسی ، پشتو اور ترکی وغیرہ
کے الفاظ شامل تھے ۔ مقامی زبان پراکرت
اور خاص
طور پر برج بھاشا کے ساتھ کے ساتھ
ساتھ ملکر رفتہ رفتہ ایک نئی صورت اختیار کر لی ۔ اردو در
اصل اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے اور اسے
ترقی دینے میں پنجاب سندھ ، دکن ، گجرات اور یوپی غرض تمام علاقوں کے باشندوں کا مساوی حصہ ہے۔ اس لئے یہ خصوصیت کسی ایک علاقہ کو حاصل نہیں ہو سکتی کہ وہ یہ دعوے ٰ
کر کے کہ اردو اس علاقے میں پیدا ہوئی
البتہ یہ کہنا بلکل بجا ہے کہ اردو کا جو پودا مختلف علاقوں کے لوگوں نے مل کر لگایا تھا اس کی آبیاری دہلی اور آگرہ
اور ان کے نواحی علاقوں میں کی گئی اور وہیں یہ پودھ بڑھ کر جوان اور ثمر آور ہوا۔
اردو
معلیٰ
اردو نثر کی زبان کا
لفظ ہے اور اس کے معنیٰ ’’ لشکر ‘‘ کے ہیں
۔ مغلوں کے زمانے میں لشکر گاہ کو اردو معلی ٰ کے نام سے موسوم کرتے تھے اور بازار اردو کا بازار کہلاتا تھا۔ صاف ظاہر
ہے کہ اس بازار میں کئی زبانیں بولی جاتی ہوں گی ، کیونکہ لشکر میں بھی بھانت بھانت کے لوگ شامل تھے انہیں لوگوں
کے اشتراک سے ایک ایسی زبان وجود میں آئی
جو کئی زبانوں کا مجموعہ تھی اور یہی
دراصل اردو کہلائی۔ چنانچہ ان حقائق کے پیش نظر بھی یہی بات قابل تسلیم ہے
کہ اردو کو پروان چڑھانے ، اس کی نوک پلک سنوارنے اور اس کو دلہن کی طرح خوبصورت
اور حسین بنانے میں سب سے زیادہ دہلی ، آگرہ
اور ان کے نواحی علاقوں کے باشندوں کا ہی ہے۔
اردو
کی ترقی
بحر حال اردو رفتہ رفتہ
ترقی کرکے عروج کی اس منزل تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ زبانوں میں ہوتا ہے۔ بلکہ عربی کے بعد اردو ہی ایک ایسی زبان ہے جس کا مقابلہ دنیا کی
کوئی زبان نہیں کر سکتی۔ حقیقت یہ ہے
کہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کی مقبولیت اور اہمیت بھی ان زبانوں کے مقابلے میں رفتہ
رفتہ کم ہوتی جا رہی ہے ۔ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اردو ہی ایک ایسی زبان ہے جو دنیا کے ہر ملک اور شہر میں بولی اور سمجھی
جاتی ہےاور بر صغیر کے ستر کروڑ عوام اس زبان کو بولتے اور سمجھتے ہیں۔
اس زبان کی
یہ خصوصیت ہے کہ اس میں پھلنے پھولنے کی وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو زندہ زبانوں میں ہوتی ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ دوسری زبانوں کے الفاظ اس خوبی سے اپنے اندر
جزب کر لیتی ہے کہ وہ اس کے اپنے الفاظ معلوم ہونے لگتے ہیں۔
Solved cbscnet urdu 3rd paper july 28 , 2016.
ajkiurduduniya.blogspot.com
جولائی 01, 2019
0
Comments
جولائی 01, 2019
0
Comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس پرچہ میں کل (۷۵) معروضی سوالات ہیں، جن میں ہر ایک کے
لئے (۲) نمبر مختص ہیں۔
تمام سوالات کے جوابات سرخ رنگ سے لکھے گئے ہیں۔ اور اسے CBSCNET کی
افیشیل ویب سائٹ سے حاصل کیا گیا ہے؟
۱۔ ذیل میں ایک دعویٰ اور
ایک دلیل دی گئی ہے۔ انہیں غور سے پڑھئے اور صحیح زمرے کی نشاندہی کیجئے:
دعویٰ
: اردو کی پہلی سب سے بڑی ادبی
تحریک علی گڈھ تحریک ہے۔
دلیل : کیونکہ اس نے جدید اردو ادب کی تمام اصناف میں
غیر معمولی اضافہ کیا۔
(۱) دعویٰ صحیح ہے اور دلیل بھی صحیح ہے۔ (۲)
دعویٰ صحیح ہے، دلیل غلط ہے۔
(۳)دلیل غلط ہے، دعویٰ صحیح ہے (۳)
دعویٰ غلط ہے، دلیل بھی غلط ہے۔
(۲) درجہ ذیل میں سے کس نے فارم کو ٹریجڈی کی جان بتایا ہے؟
(۱) افلاطون (۲) ارسطو (۳) ہوریس (۴)
لان جائنس
(۳) خوگر نہیں کچھ
یوں ہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو
تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا
میر ؔ نے یہ شعر دکن
کے کس شاعر کی تعریف میں لکھا ہے؟
(۱) سراج اورنگ
آبادی (۲) ولی اورنگ آبادی
(۳) محمد قلی قطب شاہ (۴) ہاشمی بیجا پوری
(۴) ’’ ساڑھے پانچ فٹ کا قد ، چار انگل چوڑی کلائی ، شیر کا
سا کلا، سفید بگلا بال، بڑا سادہانہ، بڑے
بڑے دانت ،
بھائی سی ٹھوری ! اور آواز تو ماشاء اللہ ابا میاں سے ایک سر نیچی ہی
ہوگی۔‘‘
(۱) چوتھی کا جوڑا (۲) چھوئی موئی
(۳) بھو
پھوپھی (۴)
دو ہاتھ
(۵) کس شاعر کو ایک زمانہ تک اردو شاعری کا باوا آدم تصور
کیا جاتا تھا؟
(۱) ا ٓبرو (۲)
حاتم
(۳) ولی (۴) میر
(۶) ’’ فن ِ داستان گوئی ‘‘ اور ’’سخن ہائے گفتی‘‘ کس کی
کتابیں ہیں؟
(۱) وقار
عظیم (۲) کلیم الدین احمد
(۳) احسن فاروقی (۴) خواجہ احمد فاروقی
(۷) صبح کرنا شام کا لانا
ہے جوئے شیر کا
درج ذیل مصرعوں میں
سے صحیح مصرعے کا انتخاب کیجیے اور درج بالا مصرعے کو مکمل کیجئے:
(۱) بس کہ ہوں غالب
اسیری میں بھی آتش زیرپا
(۲) کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
(۳) جذبہ بے اختیار شوق دیکھا چاہئے
(۴) نقش فریادی ہے کس
کی شوخی تحریر کا
(۸) غالب کے سفر ِ
کلکتہ کی غرض و غایت کیا تھی؟
(۱) سیر و سیاحت (۲) دوست احباب سے ملاقات
(۳) مشاعرے میں شرکت (۴) وظیفے کی بازیابی
(۹) خاک ڈال آنکھوں
میں میری ، قافلہ جاتا رہا
درجہ ذیل مصرعوں میں سے صحیح مصرعے کا انتخاب کرکے مطلع مکمل کیجئے:
(۱) کب
زمین و آسماں فاصلہ جاتا رہا
(۲) توڑ
کر رنگہ کا سلسلہ
جاتا رہا
(۳) پانو
کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا
(۴) کوسوں پیچھے چھوڑ کر میں قافلہ جاتا رہا
(۱۰) ذیل میں سے
کس مثنوی میں منوہر و مدمالتی کی عشقیہ بیان ہوئی ہے؟
(۱) پھول
بن (۲)
گلشن عشق
(۳) میز
بانی نامہ (۴) خوب ترنگ
(۱۱) ’’پکچر گیلری ‘‘کس
کی تصنیف ہے؟
(۱) عصمت چغتائی (۲) قرۃ العین حیدر
(۳) رشید
جہاں (۴)
سعادت حسین منٹو
(۱۲) اخبار ’’
مساوات‘‘ اور ہفت وزہ ’’ مصور‘‘ کے مدیر کون تھے؟
(۱) حیات
اللہ انصاری (۲) سعادت حسین منٹو
(۳) مولانہ ابو لاکلام آزاد (۴) حسرت موہانی
(۱۳) عصمت چغتائی
کے افسانے ’’ ننھی کی نانی‘‘ میں کردار ننھی کی نانی کے تین مزید نام ہیں۔ ذیل میں
دئے گئے
چار ناموں میں سے غلط ناموں کی
نشان دہی کیجئے۔
(۳) بسم
اللہ کی ماں (۴) بہن جی
۱۴۔ پریم چند کا کون سا
افسانہ رسالہ زمانہ میں سب سے پہلے شائع ہوا تھا؟
(۱) کفن (۲) نجات
(۳) دنیا کا سب سے انمول رتن (۴) ستیہ گرہ
۱۵۔ کاگا سب تن کھائیو چن چن کھایئو ماس۔ دوئی نیناں مت کھایئو پا
ملن کی آس
گیت کے یہ بول درج ذیل
میں سے کس افسانے کے اختتام استعمال ہوئے ہیں؟
(۱) فوٹو گرافر (۲)
جلا وطن
(۳) نظارہ
درمیاں ہے (۴) یہ غازی ی تیرے پر اسرار بندے
۱۶۔ چلی سمت ِ غیب سے وہ ہوا کہ چمن سرور کا
جل گیا
مگر ایک شاخِ نہال ِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
یہ
شعر کس کا ہے؟
(۱)
ولی اورنگ آباد (۲) وجہی
(۳) سراج اورنگ آبادی (۴) میر تقی میر
۱۷۔ ’’ آج لگن سوں اس جہاں میں‘ ہندو ستان میں ،
ہندی زبان میں اس لطافت، اس چھندا ں سوں
نظم نثر ملا کر گُلا کر یوں نیں بولیاں ‘‘
اس دعوے کا مدعی مصنف کون ہے؟
(۱)
انشاء اللہ خاں انشاء (۲) ملا وجہی
(۳)
بندہ نواز گیسو دراز (۴)
فضل علی فضلی
۱۸۔ پہنچا قریبِ فوجِ خدا جب وہ بے وفا چرچا ہوا
حسین کے لشکر جا بجا
ہشیار اے
امام کے اصحاب و اقرباء ہاں!نیزے تانو تیغیں سنبھالو غضب
ہوا
آتا ہے وہ فرس کی ادھر باگ پھیرکے
لایا ہے کربلا میں جو سید کو گھیرے
اس بند میں کس کی آمد کی اطلاع ملتی ہے؟
(۱) ابن سعد (۲) شِمر
(۳) حضرت
حُر (۴) مرحب
۱۹۔ مسدس کاایک بند تین اشعار پر مشتمل ہوتا ہے۔
آخری شعر کو کیا کہتے ہیں؟
(۱) مطلع (۲)
مقطع
(۳) بیت (۴) شاہ بیت
۲۰۔ موت مجھ کو دیکھائی دیتی ہے جب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں
یہ شعر ’’ مضامینِ پطرس ‘‘ کے کس مضمون درج ہے؟
(۱)
کتَے (۲)
مرید پور کا پیر
(۳)
مرحوم کی یاد میں (۴) سویرے جو کل آنکھ میری کُھلی
۲۱۔ مسعود شاہ کس مثنوی کا کردار ہے؟
(۱)
زہر عشق (۲)
گلزار نسیم
(۳)
خواب و خیال (۴) سحر البیان
۲۲۔ انگریزی شاعر نینی سن کی نظم ’’ دی ڈیتھ آف اولڈ
ایر‘‘ The death of the old year) )کا منظوم ترجمہ ’’ سال ِ گزشتہ
کے نام سے کس نے کیا ہے؟
(۱)
نظم طبا طبائی (۲) سرور
جہاں آبادی
(۳)
جوش ملیح آبادی (۴)
فیض احمد فیض
۲۳۔ ان میں سے کون سا کردار ناول’’ لندن کی ایک رات ‘‘ کا
نہیں ہے؟
(۱)
نعیم (۲)
عارف
(۳) راؤت (۴) احسان
۲۴۔ فانی بدایونی
پہلے کیا تخلص کرتے تھے ؟
(۱) عاصی (۳) شاہی
(۳) آہی (۴) شوکت
۲۵۔پیاسی جو
تھی سپاہِ خدا تین رات کی ساحل
سے سرپٹکتی تھی موجیں فرات کی
اس شعر میں کون سی صنعت ہے؟
(۱) استعارہ (۲)
تشبیہ
(۳) حسنِ تعلیل (۴) مبالغہ
۲۶۔کون سا بیان درست ہے؟
(۱) ’نقش
فریادی‘ فیض خالص غزلوں کا مجموعہ ہے۔
(۲) تنہائی ، رقیب سے، کتے،زنداں نامہ کی نمائندہ
نظمیں ہیں۔
(۳) دست تنگ دست کی غزلیں اور نظمیں ، فیض کے زمانہ
اسیری کی یاد گار ہیں۔
(۴) دست
صبا میں کئی ایسی غزلیں ہیں جو حدیث ِ دلبری کو صحیفہ کائنات بنا دیتی ہیں۔
۲۷۔ ہم سر اس کا نہیں ندیم نہیں سب
ہیں حادث کوئی قدیم نہیں
حادث
اور قدیم میں کون سی صنعت ہے؟
(۱) مراعات النظیر (۲)تجنیس
ناقص و زائد
(۳) تضاد (۴) تنسیق الصفات
۲۸۔ سلطان
محمد خان کس کے والد کا نام ہے؟
(۱)
مجروح سلطان پوری (۲)
سلطان حیدر جوش
(۳)
سجاد حیدر یلدرم (۴) فیض احمد فیضؔ
۲۹۔
’’ پروین‘‘ آغا حشر کے کس ڈرامے کا کردار
ہے؟
(۱) سلور کنگ (۲) آنکھ کا نشہ
(۳)
یہودی کی لڑکی عشق
اور فرض
عشق
اور فرض
۳۰۔’’
اردو میں قصیدہ نگاری کا جائزہ‘‘ کس کی تصنیف ہے؟
(۱) ابو محمد سحر (۲) شیخ چاند
(۳) خلیق انجم (۴) محمود
الہیٰ
۳۱۔ ’’ دستور الفصاحت ‘‘ کو کس مصنف نے محقق نے جدید تحقیق کی روشنی میں مرتب کیا ہے؟
(۱) رشید
حسن خان (۲) امتیاز علی خان عرشی
(۳) قاضی عبد الودود (۴) حنیف نقوی
۳۲۔
’’ یہ نظم آداب حکومت ، انمل بے جوڑ جنسی ملاپ یا شادی، دنیاوی علم، سحر سامری
اور اسرار پر مشتمل ہے‘‘۔
یہ بات کس نظم کے بارے میں کہی گئی ہے؟
(۱) پھول بن (۲) بکٹ کہانی
(۳) قطب مشتری (۴) کدم راؤ پدم
راؤ
۳۳۔ ابن قتیبہ
شاعری کو اچھے اور برے کے اعتبار سے کتنے حصوں میں تقسیم کرتا ہے؟
(۱)
دو (۲) تین
(۳) چار (۴)
پانچ
۳۴
۔ اہل ِ فنا کو نام سے ہستی کے ننگ ہے۔
درجہ ذیل میں سے صحیح مصرع لے کر مطلع
مکمل کیجیے:
(۱)
اے نشہ ظھور یہ تیری ترنگ ہے
(۲)
اس کی زبان ہی اسے کام نہنگ ہے
(۳) لوح مزار مری چھاتی یہ سنگ ہے
(۴) اس گلشن جہاں کا جو کچھ کہ ڈھنگ ہے
۳۵۔
’’ مرشد کا مقولہ ہے اور میرا تجربہ کہ اگر انسان کو بد ترین دشمن کی تلاش ہو تو اس کو اپنے عزیزوں میں مل جایئں گے اور
بہترین
دوست کی ضرورت ہو تو غیروں کا جائزہ لینا چاہیے ۔ یعنی عزیزوں سے دشمن اور غیروں
سے زیادہ دوست نہیں ہوتے۔‘‘
یہ
اقتباس ’ مضامین رشید کے کس مضون سے ماخوذ ہے؟
(۱) مرشد (۲)
مثلث
(۳) گھاگ (۴) کارواں پیداست
۳۶۔
ذیل میں ایک دعویٰ اور دلیل دی گئی ہے۔ انہیں غور سے پڑھیے اور
صحیح زمرے کی نشان دہی کیجیے؛
دعویٰ
: مقدمہ شعر و شاعری ،اردو تنقید
کا منشور ہے۔
دلیل : کیونکہ مقدمہ شعر وشاعری اردو تنقید کی پہلی باضابطہ کتاب ہے۔
(۱) دعویٰ صحیح ہے، دلیل غلط ہے۔
(۲) دلیل صحیح ہے، دعویٰ
غلط ہے۔
(۳)دعویٰ صحیح ہے، دلیل بھی صحیح ہے
(۴)، دعویٰ غلط ہے،
دلیل بھی غلط ہے۔
۳۷۔
سراج الدین کس افسانے کا کردار ہے؟
(۱) کالی شلوار (۲) ٹوبہ ٹیک سنگھ
(۳) کھول دو (۴) یزید
۳۸۔ دحونیہ لوک کس کی تصنیف ہے؟
(۱) آنند وردھن (۲) بھرت منی
(۲) ابھینو گپت (۴) اچاریہ شنکک
۳۹۔
کس نے شاعری کو سائنس پر اولیت دی ہے؟
(۱)
ٹی ۔ ایس ۔ ایلٹ (۲) آئی ۔ اے ۔ رچرڈس
(۳)
لان جائنس (۴) افلاطون
۴۰۔’’ بچی کو
چار پائی پر آہستہ سے میں نے سلا دیا، خیال آیا بیوی کو جگا کر خود میں سو رہوں، اتنے میں چوکیدار کی چیخ سنائی دی، اس محلے کے چوکیدار کی آواز ایسی ہے گویا چور
کو دیکھ کر خوف کےمارے اس کی چیخ نکل گئی
۔‘‘
یہ
اقتباس مضامین رشید کےکس مضمون سےماخوذ ہے؟
(۱) کچھ کا کچھ (۲) پاسبان
(۳) آمد میں آورد (۴) چار پائی
۴۱۔ ’’ ناول امراؤ جاں ادا ‘‘ میں کس کردار کی قسمت کوٹھےمیں آتی ہے؟
(۱) خورشید جان (۲)
بسم اللہ جان
(۳) امیرن (۴) رام دائی
۴۲۔ فانی کا مدفن کس شہر میں ہے؟
(۱)
بنارس (۲) حیدرا ٓباد
(۳)
علی گڑھ (۴)
بدایوں
۴۳۔ کس نے رام پور دار السرور کہا ہے؟
(۱) داغ (۲)
سر سید احمد خان
( ۳)
غالب (۴)
نذیر احمد
۴۴۔ خیمہ
میں بالی سکینہ سے کسی نے یہ کہا لے
مبارک ہو میدان سے پھر دولہا آیا
دوڑی خیمے یہ
سنتے ہی سکینہ
دکھیا اور
جلدی سے در خیمہ اسنے بند کیا
کہتی تھی نیگ جب تک
کہ نہیں لے لوں گی
بھائی نوشاہ کو خیمہ
میں نہ آنے دونگی
یہ بند کس کی تخلیق ہے؟
(۱) فصیح (۲)
دلگیر
(۳) دبیر (۴) انیس
۴۵۔ ما گدھی پراکرت کا چلن کس علاقے میں تھا ؟
(۱)
متھرا (۲)
پنجاب
(۳) جنوبی بہار (۳) دلی اور اس کے گرد و نواح
۴۶۔ قافیہ
کی بنیاد جن حروف یا حرکت پر ہوتی ہے وہ کون سا حرف کہلاتا ہے؟
(۱)
نفی (۲)
رکن
(۳)
ایطا (۴) روی
۴۷۔ملا وجی
نے ’قطب مشتری‘ میں ’’ در شرح شعر گوید‘‘ کے تحت
جو اشعار کہے ہیں ، ان سے کس چیز کا اظہار ہوتا ہے؟
(۱) دکنی زبان کا وافر استعمال
(۲) تنقیدی خیالات
(۳) عشقیہ جذبات
(۴)
متصوفانہ خیالات
۴۸۔ ’’ شعر
العجم کے مطالعے کے بعد میری ذاتی رائے یہ
قائم ہوئی کہ علامہ شبلی اس تصنیف کے
دوران میں موّ رخانہ و محققانہ
فرائض کی نگہداشت میں ایک
بڑی حد تک غافل رہے ہیں۔ ‘‘
(۱) مولانہ
حببیب الرحمن خان شروانی (۲) مولانہ امتیاز خان عرشی
(۳) مولوی عبد الحق (۴)
محمود شیرانی
۴۹۔ ’ دھنی رام ‘
کس افسانے کا کردار ہے؟
(۱) اپنے دکھ مجھے دے دو (۲) گرم کوٹ
(۳)
گرہن (۴)
لاجونتی
۵۰۔ سجدہ شکر میں ہے شاخ ثمر دار ہر ایک
دیکھ کر باغِ جہاں میں کرمِ عزّ و جل
اس شعر میں کون سی صنعت ہے؟
(۱) ایہام
(۲) تلمیح
(۳) سوال و جواب (۴) حسنِ تعلیل
۵۱۔ گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
صحیح
مصرعہ اول لے کر شعر مکمل کیجئے ۔
(۱) زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے
پوچھ
(۲) بندگی میں گھٹ کہ رہ جاتی ہے اک جوے
کم آب
(۳) آشکارا ہے یہ اپنی
قوت تسخیر سے
(۴) اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں
میں ہے
۵۲۔
’ سنورِل ‘کس کا افسانہ ہے؟
(۱) منٹو (۲) عصمت چغتائی
(۳) کرشن چندر (۴) راجیندر سنگھ بیدی
۵۳۔
ہمارے آگے جب ترا کسو نے نام لیا
دل ستم
زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
میرؔ کے منقولہ بالا شعر پر درجہ ذیل
تبصرہ کس نے کیا ہے؟
’’
مگر ایسے دھمے الفاظ میں وہی لوگ جوش کو
قائم رکھ سکتے ہیں جو میٹھی چھری سے تیز
خنجر کا کام لینا جانتے ہیں ۔‘‘
(۱) حالی (۲)
شمس الرحمن فاروقی
(۳) خواجہ احمد فاروقی (۴) مولوی عبد الحق
۵۴۔
سب سے مقدم اور ضروری چیز جو کہ شاعرکو
غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے، قوت
متخیلہ یا تخیل ہےجس کو انگریزی مین امیجینشن کہتے ہیں ۔‘‘
(۱) شبلی (۲) سیدعبد اللہ
(۳) حالی (۴)
امداد امام اثر
۵۵۔
کن دو کتابوں میں لڑکیوں کو سگھڑ بننے،تعلیم حاصل کرنے، اوراچھی زندگی گزارنےکے
پہلو پیش کیے گئے ہیں؟
(۱) آب
حیات ، نیرنگِ خیال (۲) مرأۃ العروس ، بنات النعش
(۳) توبۃ النصوح (۴) شریف زادہ ، ذات شریف
۵۶۔
چشمِ تر ، رنگِ زرد، دل میں درد،
پاؤں کہیں رکھتا ، آبلہ پائی سے
کہیں اور جا پڑتا ، نہ راہ میں بستی نہ گاؤں ، نہ میل نہ سنگ نشان ، راہ کا سر نہ
پاؤں ،دل صفا منزل میں عزم در دل
دار ،آبلوں کو انس خار ، سخت بدحواسی تھی، کانٹوں
کی زبان تلووں کے خون کی پیاسی تھی۔
نہ کوچ کی طاقت
نہ یارائے مقام ۔‘‘
درج
بالا اقتباس کس داستان سے ماخوذ ہے؟
(۱)
نوطرز مرصع (۲) فسانہ عجائب
(۳)
بوستان ِ خیال (۴)
رانی کیتکی کی کہانی
۵۷۔
درجہ ذیل شعر کس شاعر کا ہے؟
پیتا
بغیر اذن تھی اتنی کہاں مجال
در
پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیا
(۱) اصغر گونڈوی (۲) جگر مراد
آبادی
(۳) حسرت موہانی (۴) شاد عظیم آبادی
۵۸۔
’ خنداں ‘ کا مصنف کون ہے؟
(۱) مجتبیٰ حسین (۲) رشید
احمد صدیقی
(۳) کنہیا لال کپور (۴) خواجہ حسن
نظامی
۵۹۔
فکر جمیل خواب پریشاں ہے آج کل
شاعر
نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے
آج کل
کس
کا شعر ہے؟
(۱) جگر مراد
آبادی (۲) حسرت موہانی
(۳) اصغر گونڈوی (۴) فراق گورکھ پوری
۶۰۔
نقطے ہوں سپند خوش بیانی
جدول
ہو حصار سحر خوانی
سپند،
سحرخوانی اور حصار میں کون سی صنعت ہے؟
(۱) مشاکلہ (۲) تجنیس
(۳) ایہام (۴)
مراعات النظیر
۶۱۔میر اثر کے علاوہ ان کے کس دوسرے معاصر نے ’’ خواب و خیال ‘‘ کے عنوان سے مثنوی
لکھی ہے؟
(۱)
سودا (۲)
مصحفی
(۳) میر تقی میر (۴) قائم چاند پوری
۶۲۔ گؤ دان کے کردار
ہوری کی موت کیسے واقع ہوتی ہے؟
(۱)
نقاہت سے (۲) لو لگنے سے
(۳)
قرض کے بوجھ سے (۴)
گوبر کے غیر ذات کی عورت سے شادی کرنے سے
۶۳۔ آگ کا
دریا کب شائع ہوا؟
(۱)
۱۹۵۹ (۲) ۱۹۵۸
(۳)
۱۹۵۷ (۴)
۱۹۶۰
۶۴۔ امراؤ جان ادا
میں پیر بخش اور دلاور خان امیرن
اور رام دئی کو ابتداََ کس کےگھر پر رکھتے ہیں؟
(۱)
نواب سلطان (۲) کریم
(۳)
بوا حسینی (۴)
چھبن میاں
۶۵۔ درجہ ذیل میں سے کس نے ’’معروضی تلازمہ‘‘ Objective correlative)) تصور
پیش کیا ہے؟
(۱) ٹی ۔ ایس ۔ ایلٹ (۲) میتھو آر لینڈ
(۳)
ہوریس (۴)
ارسطو
۶۶۔ کون سا بیان صحیح ہے؟
(۱) ’ آہنگ ‘مجاز کا شعری مجموعہ ہے
(۲) ’
کرشن بیتی ‘ کنھیا لال کپور کے مضامین کا مجموعہ ہے۔
(۳)
’ آگرہ بازار ‘ محمد حسن کا ڈرامہ ہے۔
(۴)
’ صبح وطن ‘ سرور جہان آبادی کا شعری مجموعہ ہے۔
۶۷۔ زمانی لحاظ سے کون سی ترتیب درست ہے؟
(۱) کاغذی
پیرہن ، نیا عہد نامہ، زندگی اے
زندگی
(۲) نیاعہد
نامہ، کاغذی پیرہن، زندگی اے زندگی
(۳) کاغذی پیرہن، زندگی اے زندگی، نیا عہد نامہ
(۴)
زندگی اے زندگی، نیا عہد نامہ، کاغذی پیرہن
۶۸۔ ان میں کون ترقی پسند شاعر ہے؟
(۱)
ن۔ م راشد (۲) میرا
جی
(۳)
سردار جعفری (۴) قیوم
نظر
۶۹۔ اردو میں آزاز نظم کا فروغ کس دور میں زیادہ
ہوا؟
(۱)
رومانیت کے دور میں (۲) ترقی پسند تحریک کے دور میں
(۳)
علی گڑھ تحریک کے دور میں (۴) ما بعد
جدیدیت کے دور میں
۷۰۔ پراکرت کی کل کتنی شکلیں تھیں؟
(۱)
دو (۲) تین
(۳)
چار (۴) پانچ
۷۱۔درجہ ذیل میں سے کسے اس کے حاسدوں نے قتل کیا؟
(۱) نصرتی (۲)ابن
نشاطی
(۳)
حسن شوقی (۴) اشرف
بیابانی
۷۲۔ ’’ وہ بس گئی پر اجڑ گئی ‘‘ یہ معنی خیز جملہ کس
افسانے کا ہے؟
(۱)
سونفیا (۲)
کالی شلوار
(۳) ننھی کی نانی (۴) لاجونتی
۷۳۔ جاں اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچپن کہ دل
غم
عشق اگر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
اس شعر میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟
(۱)
لف و نشر مرتب (۲) تشبیہ
(۳)
صعنتِ حسنِ تعلیل (۴) لف و نشر غیر مرتب
۷۴۔ یہ سادگی کیسی دلپزیر ہے! ہر لفظ بلور شفاف ،
ترنم بھی موجود ہے۔ یہ غالب کی خصوصیت ہے؟
غالب
کے تعلق سے یہ کلمات کس کے ہیں؟
(۱)
عبد الرحمن بجنوری (۲) کلیم
الدین احمد
(۳)خورشید
الاسلام (۴) آلِ احمد سرور
۷۵۔ ’’ طلسم خیال‘‘ کس کا افسانوی مجموعہ ہے؟
(۱)
سجاد حیدر یلدرم (۲)
قرۃ العین حیدر
(۳) کرشن چندر (۴) انتظار حسین
(تمام
شد)
