موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
کیا پردہ ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے؟
مئی 25, 2022
0
Comments
کیا پردہ ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے؟
مجیدہ بیگم فلاحیؔ
اسلام اللہ کا دیا ہوا دین ہے۔ اسی لیے فطری ہے اورانسانی زندگی کے ہر گوشے میں وہ انسانوں کی رہ نمائی کرتا ہے. اسلام کی یہ رہ نمائی تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ اورہر پہلوسے مکمل ہے ۔ اسلام زندگی کے ہر گوشہ کے لیے باضابطہ ایک نظام دیتا ہے۔خواہ وہ انفرادی زندگی ہو، معاشرتی زندگی ہو، سیاسی، معاشی اور تعلیمی نظام ہو یا اخلاقی پہلوہو، تہذیب و تمدن ہویا عام انسانی سلوک و معاملات ہوں یا عبادت ہوں۔ اسی طرح مرد سے متعلق امور ہوں یا خواتین سے متعلق معاملات ہوں ۔ یہ دین مکمل ہونے کے ساتھ بھلائی کا ضامن بھی ہے۔
عزت و آبرو کے تحفظ، اخلاق کی پاکیزگی، با وقار اور پر امن معاشرہ زندگی گذارنے کے لیے جو اللہ نے متعدد احکامات دیئے انہی میں سے ایک پردہ ہے۔ یہ مرد و عورت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ البتہ جسمانی بناوٹ اور فطری ضروریات و مقتضیات کے لحاظ سے دونوں کے لیے اس کے حدود مختلف ہیں۔ ابھی میں عورتوں کے پردہ کے بارے میں اور خاص طور سے اس کے اس پہلو پر چند باتیں پیش کر رہی ہوں کہ پردہ عورت کی ترقی میں مانع نہیں معاون ہے۔ پردہ اور حجاب عورتوں کا اسلامی شعار ہے جو پاکیزگی اور پاکدامنی کا ضامن ہے۔ قرآن میں ہے: "اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔" (سورہ احزاب : ۳۳)
اسلام عورت کو بن سنور کر غیر محرم مردوں کو دعوت نظارہ دینے سے قطعاً منع کرتا ہے۔ اس نے اسے اپنی زینت کو چھپانے اور اپنے محاسن کو ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔ کیوں کہ یہ عورت کی خصوصی پونجی ہے جو سب کے لیے عام نہیں ہے۔ اسلام نے مرد وعورت دونوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کاحکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اے نبیﷺ ! مومن مردوں سے کہو اپنی نظریں جھکاکر رکھیں اور شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور مومن عورتیں بھی اپنی نظر بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ ( النور: ۳۰۔۳۱)
پردہ کرنا تمام خواتین کے لیے اللہ کا واضح حکم ہے۔ اللہ نے پردہ کا حکم نازل کر کے عورت کو قابل احترام اور قابل عزت ہستی بنا دیا ہے۔ معاشرے میں اونچا مقام عطا کیا ہے ۔ ہر خاتون کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ باپردہ رہے اور ایک باحیا عورت کی طرح دنیا میں اپنی زندگی گزارے ۔ یہ اللہ کا حکم ہے اس لیے پردہ کسی طرح بھی عورت کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ تو عورت کو تحفظ اور اعتماد فراہم کرنے کا ایک بہترین اور واحد قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ بے پردہ اور عریاں عورت معاشرہ میں غیر محفوظ ہوتی ہے۔ عورت آج کے مادی دور میں عیار و عیاش مردوں کے ذریعے محض تفریح دل اور وقتی سکون کا ذریعہ سمجھی جانے لگی ہے ۔ عورتیں بے محابادوکانوں، بازاروں، آفسوں اور نمائش گاہوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
ہمارے معاشرہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکیوں کے حسن وجمال کو سامان تجارت بنالیا گیا ہے۔ باپردہ لڑکیاں جب کسی جگہ کام کے لئے انٹرویو دینے جاتی ہیں تو ان کے پردے کی وجہ سے انہیں نوکریاں نہیں دی جاتیں، وہیں پر جب ایک بے حجاب لڑکی ظاہری بناؤ سنگار کرکے اپنے آپ کو پیش کرتی ہے تو اسے آزاد خیال اورکارآمد سمجھ کر کام دے دیا جاتا ہے ۔ ان کی جوانی اور حسن سے کام لیا جاتا ہے۔ گاہکوں کی کشش ، کم پیسوں میں مزدوری اور عیاشی مقصود ہوتی ہے۔ اس دور کی جدید جاہلیت نے عوام الناس کی بڑی اکثریت کے ذہن و دماغ میں یہ بات ڈال دی ہے کہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور یہ قدیم طرزمعاشرت ہے جس کی آج کے جدید دور سے کوئی مناسبت نہیں رہ گئی ہے۔ اس پر عمل پیرا ہو کر ایک مسلم عورت سماج اور معاشرہ میں وہ ترقی حاصل نہیں کر سکتی جو دیگر خواتین کو میسر ہے۔ باپردہ عورت معاشرہ کی ترقی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتی ہے، اس سوسائٹی کا ایک کامیاب فرد اور فعال رکن نہیں بن سکتی ہے۔ بدقسمتی سے یہی باطل نظریہ آٓج ہماری ان مسلم بہنوں کے ذہنوں میں بھی بس گیا ہے جو نہ صرف قرآن و سنت کے علم سے دور ہیں بلکہ ان کے اندر سے دینی غیرت وحمیت بھی رخصت ہو چکی ہے۔ ان خرابیوں کے پیچھے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کا اہم کردار رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی وبا نے پورے معاشرے کو اور بالخصوص نئی نسل کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بلکہ اس کے اثر سے وہ اسی عریانیت و اباحیت کو ترقی کا زینہ تصور کرتی ہیں۔ کسی بھی مئے خانہ و محفل میں دل بستگی کا سامان بن جانا اوراپنے حسن اور جوانی کے جلوے بکھیرنا، ان کے لئے ترقی ہے۔ اپنے آپ کو کسی نازیبا اداکارہ یا ماڈل کی طرح بنا لینا، ان کے لئے ترقی ہے۔ یہ نہ صرف نری جاہلیت ہے اور مغرب کی اندھی تقلید ہے بلکہ دین و ایمان کی تباہی کا سامان بھی ہے۔
ایک مومنہ عورت کا دینی حق ہے کہ وہ باپردہ رہے۔آج دینا میں مسلمان عورت کے پردہ اور حجاب کو نشانہ بنا کر اس کے دینی، انسانی، سماجی تشخص کو پامال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس کو ایک باشعور و باحیا مسلم عورت کسی صورت قبول نہیں کر سکتی ۔ انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیموں کو خواتین کے حقوق اور بالخصوص حجاب اور پردہ کا حق کے لیے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہئے مگر وہ کیوں اس کام کو انجام دیں ، جن کی خود اپنی ذہنیت اور منصوبہ بندی ہی حجاب مخالف ہے۔ دنیا کے اس گھناؤنے سلوک ،تخریبی ذہنیت، غیر انسانی سلوک اور خواتین مخالف سوچ رکھنے والوں کی پرزور مذمت اور حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ دنیا اگر اللہ کے حکم حجاب کو تسلیم کر لے تو اس کے دور رس اور مثبت نتائج برامد ہوں گے، ایک لڑکی پورے سکون و اطمینان سے اپنے اسکول اور کالج جائے گی ۔ ایک خاتون کو دوا علاج ، تعلیم وتدریس،عدالت اور دیگر ضروری کام یا سماجی خدمات کے لیےگھر سے باہر نکلتے ہوئے کسی کی دست درازی کا کوئی خوف لاحق نہیں ہوگا اور بہت سے فائدے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے اور دل سے اس کے قائل ہو جائیں گے۔
پردہ عورت کا حسن ہے، اس کا زیور ہے، اس کی زینت ہے، اور اس کی عزت و آبرو کا محافظ ہے۔ ساتھ ہی اس کی عزت وقار اور احترام کا ضامن ہے۔ جس سے ایک مسلم عورت جواللہ اور اس کے رسول پر کامل ایمان اور یقین رکھنے والی ہوکبھی بھی دست بردار نہیں ہو سکتی ہے۔
ہم جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات ؓ نے جنگ کے میدان میں زخمیوں کو پانی پلانے کا کام سر انجام دیا، ان کی مرہم پٹی کی اور خود میدان جنگ میں تلواربھی چلائی حتی کہ رسول ﷺنے غزوہ احد میں ہر طرف ام عمارہ رضی اللہ عنہا کو تلوار چلاتے ہوئے دیکھا۔سینکڑوں اور ہزاروں خواتین ہیں جن کی تعلیمی، دعوتی اور سماجی خدمات ہیں ، جن کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ مسلم خواتین نے یہ سب کچھ پردہ میں رہتے ہوئے کیا۔ آ ج بھی مسلم عورتیں باپردہ ہو کر جائز سرگرمیوں میں فعال حصہ لے رہی ہیں کیا وہ ترقی نہیں کر رہی ہیں۔ دنیا بھر میں بہت سی ایسی عورتیں آج بھی موجود ہیں جو عالمہ وفاضلہ ہیں، معلمات اور داعیات ہیں، ڈاکٹرس ہیں،انجینیرس ہیں، پائلٹ ہیں، جج ہیں،مصنفہ ہیں اور خطیب ہیں۔ مگر انہوں نے اپنے حجاب کوبرقرار رکھا۔ ان کا حجاب ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا ۔ان میں چند نام رفیعہ ارشد ،سیدہ فلک ،سلمہ ، ایمن عامر؛ ایک باپردہ کمرشیل پائلٹ ہے۔ فاطمہ، مریم مختار ہیں۔ یہ اور ان کے علاوہ باپردہ خواتین کی بہت سی روشن مثالیں ہیں کہ پردہ ان کی ترقی میں حائل نہیں ہے۔
جملہ آسمانی مذاہب میں پردہ نہ صرف جائز ہے بلکہ مطلوب اور محمود ہے ۔ اسی طرح تاریخ انسانی کی ہر ترقی یافتہ سلطنت اور قوم میں خواتین کو باپردہ دیکھا گیا ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی عورتوں کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے وہ قوم تباہ ہوگئی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی بہت سی ایسی خواتین ہیں جو پردہ میں رہ کر تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں، ہاسپیٹل میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور انسانی معاشرے کی دیگر خدمات انجام دے رہی ہیں تاکہ اپنی تعلیم اور صلاحیت و لیاقت کو اپنے سماج اور معاشرے کے عروج کے لئے استعمال کر سکیں ۔ جب محض پردہ اور حجاب اس کی ترقی کے منازل طے کرنے میں رکاوٹ کا سبب سمجھا جاتا ہے اور کام کے مواقع نہیں دیے جاتے ہیں تو اس کام کو اللہ کی رضا کے لئے خیراباد کہہ دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اللہ کی زمین وسیع ہے۔
میڈیہ کا میں ایک کالم نگار سعدیہ دہلوی کا یہ کہنا بجا ہے کہ پردے کے معاملے کو میڈیا میں منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت کی حیا اور انکساری ہماری تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ پردہ کرنے والی خواتین کو کسی بھی طرح سے کم کیوں سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ہم ہندوستانی جدیدیت اور مغربیت میں فرق نہیں کر پا رہے ہیں۔ اتنی جلدی ہم مغربی تہذیب سے متاثر ہورہے ہیں کہ ہم اپنی تہذیب کو بھولتے جارہے ہیں۔ ہندوستان میں ہندو عورتیں گھونگٹ کرتی ہیں اور سر پر دوپٹہ رکھنا ہماری تہذیب کا حصہ ہے تو مسلمان خواتین کے پردہ کرنے پر اتنی بحث کیوں۔
عورت کی حیا اور انکساری اسلامی تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پردے جیسے روزمرہ کے بنیادی سوالات کو حل کرنے میں خود خواتین کو بھی برابر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آج کےاس پرفتن دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ شرعی پردہ میں گھر سے باہر نکلا جائے ،حیا کو اپنی ڈھال بنایا جائے اور موجودہ دور کی تمام تر فحاشیوں کا حکمت کے ساتھ جواب دیا جائے۔ ہمارے آس پاس موجود بے حیائی اور فحاشی پر مبنی ٹی وی شوز اور بل بورڈ کی نفی کرکے ہر سطح پر منصوبہ بند طریقہ سے ان تمام طرح کی بے حیائیوں کی روک تھام کے لئے سعی و جہد کی جائے۔ ہم اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اسلامی نہج پر کریں تاکہ ہمارا گھر اور معاشرہ اسلامی معاشرہ بن سکے اور مغربی تہذیب و ثقافت کی آندھیاں اثر انداز نہ ہو سکے۔ اسلامی احکام و فرامین کو خود بھی اپنائیں اور اپنےدائرہ اثر میں رہنے والوں کوبھی اس کی ترغیب دیں ۔ ان شا ٍءاللہ العزیز وہ دن دور نہیں کہ جب ہر ایک میدان عمل میں باپردہ خواتین نظر آئیں گی ۔
……











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔