موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
ہمارا نصب العین کیا ہے؟
مئی 25, 2022
0
Comments
ہمارا نصب العین کیا ہے؟
ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم !
اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ رب اشرح لی صدری
و یسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھو ا قولی۔
صدر مجلس! مربین حضرات
،اراکین اسلامی سنگھ ، یونٹس کے ذمہ دارن اور بہنیں !
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
الحمد للہ اللہ پاک کا بے پیایاں احسان و کرم ہے کہ اس نے
ہمیں اس یک روزہ ارکان تربیتی پروگرام میں شرکت کا موقع عنایت کیا اور مجھے اس
مذاکرہ میں حصہ لینے کی توفیق عطا کی جس کے
لئےمیں منتظمین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔
اسلامی سنگھ ایک منظم جماعت ہے جو ملکی سطح پر منصوبہ بند طریقہ
سے تعلیمی ، رفاہی ،سماجی خدمات انجام دے رہی ہے ۔ منصوبہ بند ی سے کا م کرنا
اسلام کو مطلوب ہے اور اللہ اور اس کے کا طریقہ کار بھی یہی رہا ہےاور یہی اصول و
طریقہ کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے۔
ہمارا نصب
العین’’اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر
کے ذریعہ رضائے الہی کا حصول ہے ‘‘
نصب العين کے تین درجات ہیں۔
۱) رضائے
الہی کا حصول
۲) تقرب
الہی کا حصول
۳) فلاح
اخروی کا حصول
ہمارا نصب العین تین چیزوں پر منحصر ہے
1۔ مطمح نظر/ نصب العین
2۔ کام : تعمیر انسانیت
3۔
طریقہ کار: قرآن و سنت کی روشنی میں
اہداف حاصل کیسے کریں؟
متعینہ ہدف کی حصولیابی کے لئے سنجیدگی اور متانت درکار ہے ،
ہمارے ارد گرد خواہشات کی ذرا بھی کمی نہیں ہےاصل کمی امادگی کی ہے اور اس کے کہیں زیادہ کمی استعداد کی ہے ۔
ہمارے سماج میں تقریباً جتنے بھی با اثر عناصر ہیں وہ سب کے سب بگاڑ کے لئے کام کر
رہے ہیں ۔ اصلاح و تعمیر انسانیت کے کام کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر
ہے ۔ موجودہ دور میں اجتماعی زندگی کی بگاڑ
کی سب بڑی ذمہ دار حکومت ہے ۔ خیر ۔
ان تمام حقائق کے بر خلاف یہ بات اظھر من الشمس ہے کہ ہماری قوم میں فاسد عناصر کے ساتھ ساتھ صالح
عناصر بھی موجود ہیں ان کے اصلاح و تعمیر انسانیت کی خواہش اور امادگی بھی پائی
جاتی ہے ۔ اس کے لئے تھوڑی توجہ ،تھوڑی سی سعی، حکمت کے ساتھ منظم اور پیہم کوشش کی اشد ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ سیرت و
کردار کی طاقت اور اتحاد و اتفاق ناگزیر ہے۔ کیونکہ ایک داعی اپنے اخلاق و عادات
اور مظبوط کریکٹر کی وجہ سے عوام کے اندر ضرب المثل کی طرح ہوتے ہیں۔ عوام کی
آنکھیں داعیان دین کے کردار پر لگی ہوتی ہیں کردار کی زبان سب سے زیادہ مؤثر ہوتی
ہے ۔ تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے
ممکن
جو کام
کہ انسان کا کردار کرے ہے
1۔
جماعت سے شعوری وابستگی رکھیں
2۔ فکری
پختگی پیدا کریں۔ اس کے لئے خوب خوب مطالعہ کریں۔
3۔
دینی اور شرعی معلومات میں خوب اضافہ کریں
5۔
دینی غیرت اور ایمانی حمیت پیدا کریں
6۔ عبادات، تلاوت غور و فکر کے ساتھ اور ذکر و اذکار پابندی
سے کریں
7۔
خود احتسابی انفرادی و اجتماعی
8۔ دعوت
الی اللہ کے لئے ذہنی،فکری اور عملی ہر اعتبار
سے تیاری کریں۔
9۔
ہر ممکن ذرایع سے دعوت کا کام سر انجام دینا
10۔ معاشرہ کی اصلاح کی عملا کوشش کریں۔ اس
کے اندر پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنے کی انفرادی اور اجتماعی کوشش کریں۔گھسے
پٹے اسا
لیب اور
طریقوں کو چھوڑ کر نئے طریقوں سے عوام
الناس تک اپروچ کیا جائے ان کے سامنے دین
کو سہل انداز میں پیش کیا جائے کہ نئی سرکش نسل
اس کی متحمل ہو سکے اور ان کے اندر سے دین کی نفر مٹ سکے اور وہ بھی اس نبوی ؐ مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ
لے سکیں۔اور صحابہ ؓ و صحابیات ؓکے جیسا عملی نمونہ پیش کر سکیں ۔ہم اس وقت تک دین
کو قائم نہیں کر سکتے جب تک کہ ہمارے اندر بھی مرنے اور اللہ کے لئے جان دے دینے
کا جذبہ نہ ہو۔ اس دین کو اسی صورت غلبہ مل سکتا ہے ورنہ یہ سب صرف کہنے کی باتیں
ہیں ۔ مثال سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسول ؐ کو صحابہؓ جیسی مرنے مٹنے والی نفوس قدسی
میسر تھی تو ۲۳سال کی قلیل مدت میں پوری دنیا میں اسلام پہنچ گیا
ایک انقلاب پوری دنیا نے دیکھا اور
موسی ؑ کو ایسے لوگ نہ مل سے تو اس طرح کا
انقلاب وہ نہ لا سکے ۔ آج بھی ضرورت ایسے
ہی لوگوں کی ہے جو دین پر آج بھی مرنے
مٹنے کا جذبہ رکھتے ہوں تب جا کر ایسا ہی انقلاب
برپا ہو سکتا ہے۔
جہیز کی قباحت کو اجاگر کریں۔ شادی کے موقع پر کی جانے والی
بدعات و خرافات کو واضح کریں اور ممکن حد تک روکنے کی کوشش کریں۔
والدین کو توجہ دلائیں کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت
کا ا تظام کریں۔ میراث کی تقسیم میں بیٹیوں کو شامل کریں۔ جسد کینہ غیبت چحلخوری
ٹوہ لگائی بجھائی اور ٹونے ٹوٹکے سے سماج کو پاک کریں۔
11۔
تعلیم کو عام کرنا
۱۲۔ عربی زبان
کا اہتمام کرنا ۔ اس زبان کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اللہ
نے اسلام کے پیغام کو اپنے بندوں تک پہنچانے کے لئے دوسری ہزاروں زبان کو چھوڑ کر صرف
عربی زبان کا انتخاب کیا ہے ۔
۱۳۔ انسانی حقوق کی ادائیگی اور ضرورتمند کے کام آنا۔
تاکہ دین قائم ہو۔ سارے کام اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے
مطابق ہو اور مطلوب صرف اور اللہ کی رضا ہو۔ دنیا کے کاروبار میں رضائے الہی کی
طلب و جستجو ہی ہم تمام کو اپنے نبی ﷺ کی وفاداری پرقائم رکھ سکتی ہے ۔
پرے
ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے
جس کے گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے (علامہ
اقبال ٖٖٖرحمۃ اللہ )











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔