موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
جدید اردو نثر کا تدریجی ارتقأ
ajkiurduduniya.blogspot.com
جولائی 24, 2019
0
Comments
جولائی 24, 2019
0
Comments
جدید اردو نثر کا تدریجی ارتقاء
ابتدا دراصل اردو
نثر کا وجود اردو نظم کے بعد ہوا ہے۔ محققین
زبان اردوکے انکشافات کے مطابق اس
کا رواج سب سے پہلے دکن میں شروع ہوا۔
زبان اردو کے ابتدائی نثر نگاروں میں شیخ اشرف جہانگیر،
حضرت گیسو دراز،عبد اللہ
حسینی ، عین الدین گنج العلم، شاہ میران جی اور ملا وجہی کا شمار ہوتا ہے، ملا
وجہی
نے ۱۶۳۵ء یا ۱۶۳۶ء میں سب رس لکھی، یہ اردو نثر کا ایک مستند نمونہ تھا۔ ۱۷۳۲
ء میں فضلی نے وہ
مجلس لکھی جو روضۃ
الشہداء کا ہندی ترجمہ تھا۔
یہ دور ایسا
دور تھا کہ اردو نثر ہو یا اردو نظم فارسی
کے مقابلے میں احساس کم تری لکا شکار تھی
چناچہ شاعروں ناور اردو نثر نگاروں نے اردو زبان کی طرف خاص توجہ دی اور اس میں بھی فارسی کے
زیادہ سے زیادہ الفاظ
استعمال کئے۔ ابتدائی دور کی ایک خصوصیت یہ تھی کہاس دور میں نثر نگاروں نے
مذہب اور تصوف زیادہ توجہ دی اور اس کے علم
بردار وہ صوفی اور درویش تھے جو تبلیغ دین
کو ہر
حال میں مقدم سمجھتے تھےاور تحریر و تقریر کے ذریعہ شب و روز اسلام کی نشر و
اشاعت میں مصروف و
مشغول رہتے تھے۔
اٹھارویں
صدی عیسوی کی ابتدا اردو نثر کی تاریخ میں بڑی اہم ہے، کیونکہ یہ
وہ دور تھا جب مغل
حکو مت دم توڑ نے کے قریب پہنچ چکی تھیاور اس دور میں سرکاری
زبان فارسی تھی اسکی اہمیت اور
افادیت بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ یہی وہ دور تھا جس
میں اردو زبان کو پھلنے اور پھولنے کا
زریں موقع
نصیب ہوا ۔ کیونکہ اسوقت بر
صغیر میں کوئی ایسی زبان نہ تھی جو فارسی کی جگہ لے سکتی تھی۔
فورٹ ولیم کالج ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۸۰۰ء میں کلکتہ میں فورٹ ولیم کا لج کا
قیام عمل
میں آیا، اس کے پرنسپل جان گلکرائسٹ تھے۔یہ کالج اس لیے قائم کیا گیا
تھا کہ حکمراں طبقے کے انگریزوں کو دیسی زبان سکھانا مقصود تھی۔تاکہ وہ مقامی
لوگوں سے گھل مل سکیں اور اپنے نظریات کا
پرچہار کر سکیں ،ڈاکٹر گلکرایسٹ نے اس
مقصد کے لئے اچھے اچھے اور نامور ادیبوں
اور مصنفوں کی تلاش شروع کردی،چناچہ اس تلاش کے نتیجے میںکالج میں ملک کے مشہور
نثر نگار جمع ہو گئے۔ جن میں میر امن دہلوی، شیر علی افسوس، میر بہادر علی حسینی،
مرزا لطف علی ، حیدر بخش حیدری اور اور
نہال چند لاہوری شامل تھے۔ ان ادیبوں نے درسی کتب لکھیں اور قصے کہانیاں بھی لکھیں
اور فارسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ اس دور کی تصانیف میں باغ و
بہار بہت مشہور ہے جو میر امن دہلوی کی
تصنیف ہے۔ مذہبی ، اخلاقی اور افسانوی ادب
کے علاوہ اسی صدی کے آغاز سے اردو میں
خالص ادبی اور تنقیدی موضوعات کا بھی
آغاز ہوتا ہے۔
مذہبی تحریرں
مرزا رفیع سودا نے اپنے دیوان مرثیہ کا دیباچہ اردو میں لکھا اسے اردو نثر
میں تنقید کے ابتدائی نمونوں
میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت
ٍہے کہ اس دور میں اردو نثرو ادب کی ترقی زیادہ تر مذہبی اخلاقی اور داستانی
تصانیف کی مرہون منت ہے پروفیسر مولانا حامد حسین
قادری کے قول کے مطابق دہلی کے ایک نامور
حکیم شریف خان نے قرآن کریم کا
اردو میں ترجمہ کیا، یہ ترجمہ شاہ عبد القادر
دہلوی کے ترجمے سے بیس سال پہلے
کیا گیا تھا بعض محقیقن شاہ رفیع
الدین کے ترجمے کو پہلا ترجمہ بتاتے ہیں
جو تقریبا ۱۷۶۷ء میں ہوا ۔ مولانا شاہ عبد القادر کے دوسرے بھائی تھے ان کے ترجمہ قرآن شریف کا نام موضوع القرآن ہےمولانا شاہ عبد القادر کا ترجمہ اردو
محاوروں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے اس لئے ان کے اس ترجمہ میں روانی ہے۔
فسانہ عجائب
ہم واضح کر چکے ہیں کہ فورٹ ولیم کالج میں اچھے اچھے نثر نگاروں کا
اجتماع تھا ۔ انہوں نے جو
داستانیں تصنیف کیں وہ بہت مقبول ہوئیں اور اردو نثر کی ترقی پر بھی ان کا بہت اثر پڑا لیکن کالج کے علاوہ بھی اس دور میں ایسے منصفین موجود تھے جنہوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں رجب علی بیگ سرور اور فقیر محمد گویا کا نام قابل ذکر ہے، اس زمانے میں بالخصوص سرور کی تصنیف ’’ فسانہ عجائب ‘‘ بہت مقبول ہوئی۔
داستانیں تصنیف کیں وہ بہت مقبول ہوئیں اور اردو نثر کی ترقی پر بھی ان کا بہت اثر پڑا لیکن کالج کے علاوہ بھی اس دور میں ایسے منصفین موجود تھے جنہوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں رجب علی بیگ سرور اور فقیر محمد گویا کا نام قابل ذکر ہے، اس زمانے میں بالخصوص سرور کی تصنیف ’’ فسانہ عجائب ‘‘ بہت مقبول ہوئی۔
دریائے لطافت
۱۸۰۸ء میں اردو نثر کے مشہور شاعر سید
انشا ٔ
اللہ خاں انشا ٔ اور مرزا قتیل کی مشترکہ تصنیف ہے
جو فارسی زبان
میں لکھی گئی تھی یہ اردو کی سب سے پہلی
قواعد ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے اس کے پہلےحصے میں اردو زبان کے مختلف نمونے اور
قواعد بیان کئے گئے ہیں دوسرے میں عروض ،قافیہ،
منطق ، علم معانی، علم بیان وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اردو زبان کی
بنیاد اور بناوٹ پر بھی روشنی ڈالی گئی
ہے، انداز تحریر ظریفانہ ہے۔ لسانیات پر
اردو میں اسے پہلی کتاب سمجھنا چاہئے،چونکہ
یہ اردو کی پہلی قواعد بھی ہے اس وجہ سے اس کا درجہ بھی بلند ہے۔
غالب کے خطوط
میر امن دہلوی ؔ سے پہلےاردو نثر تصنع سے پر تھی اور اسی کو بہتر سمجھا جاتا تھا ، لیکن میر امن نے نثر
میں سادگی کو ترجیح دی اور اسی کو بہتر سمجھا ۔ مگر مرزا اسداللہ خان غالب نے نثر میں سادگی کے معیار کو
اور بھی بلند کر دیا ۔ غالب کے خطوط سادہ بیانی اور اور دلکش طرز تحریر کا آ یئنہ ہیں ان کے خطوط کا
بعد کے نثر نگاروں میں اثر پڑا اور وہ اپنی تحریروں میں سادگی کو ترجیح دینے لگے۔
نشاط ثانیہ اور زبان اردو
۱۸۵۷ء کے بعد کا دور اردو نثر کی تاریخ میں بڑا اہم قرار دیا گیا ہے، اس دور میں بڑے بڑے نثر نگار
منظر عام پر آئے ہیں۔ ان میں سر سید احمد خاں، مولانا شبلی نعمانی ، مولانا حالی، مولانا محمد حسین آزاد کے
نام قابل ذکر ہیں۔ سر سید احمد نے دراصل نثر نگاری میں غالبؔ کے طرز سادگی کو آگے بڑھایا ہےاور
اس کو خوب پروان چڑھایا ہے۔ ایک رسالہ تہذیب الاخلاق کے نام سے جاری کیا ، معاشرتی ، تمدنی،
تعلیمی اور مذہبی مسائل پر بہت کچھ لکھا انکی تحریر کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہےکہ موضوع کی
ضرورت کے لحاظ سے ان کا قلم اپنا طرز بھی اسی کے موافق خود بخود تیار کرتا جاتا ہے۔ اس دور کو اردو
ادب میں نشاط ثانیہ کے دور تعبیر کیا جاتا ہے۔ مولانا شبلی ؒ نے زیادہ تر مذہبی مضامین لکھے ان کی نثر میں
بھی سادگی اور شگفتگی ہے اور ساتھ میں علمی وقار بھی پایا جاتا ہے۔مولانا محمد حسین آزاد منفرد قسم کے نثر
نگار ہیں لیکن سادسگی اور برجستگی میں وہ سر سید سے کم درجہ نہیں رکھتے ہیں ۔مولانا حالی بھی ایک
کامیاب نثر نگار ہیں انکی تحریر نے بھی اس دور کے اردو نثر کو ایک منفرد مقام پر چھوڑا ہے۔
تنقید و تحقیق
تنقیدی ادب صحیح
انداز کی سوانح نگاری کا آ غاز دراصل
حالی سے ہی ہوتا ہے۔ ان کے اس نئے تنقیدی
انداز کو وحید الدین سلیم مہدی الافادی
اور مولوی عبد الحق نے ترقی دی ۔ ان کے علاوہ
جو دوسرے نقاد
منظر عام پر آئےانہوں نے
بھی حالی کی پیروی کرتے ہوئے ادب کی
سماجی حیثیت کو اپنے پیش نظر رکھا ۔
ان
نقادوں میں مجنوں گررکھ پوری ، اختر رائے پوری،پروفیسر احتشام حسین،آل احمد
سروراور احتشام حسین
کے نام سر فہرست ہیں۔ بعض نقادوں نے جن پروفیسر حمد حسین قادری ، مسعود حسین
ادیب، نیاز فتخ
پوری ، عبد الرحمن بجنوری، اور عندلیب شادنی شامل ہیں انہوں نے
علیحیدہ راہ نکالی ہےلیکن فیض حالی
سے بھی حاصل کی ہے۔ ان نقادوں کے علاوہ عصر
حاضر کے بلند پایہ نقادوں میں ڈاکٹر سید عبد اللہ، پروفیسر وقار اعظیم ، رام بابو
سکسینہ، ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، وبادت بریلوی، محمد حسن عسکری، کلیم الدین
احمد،حافظ محمد محمود شیرانی کا شمار ہوتا ہے اور ان کی خدمات کو تنقید و تحقیق کے
میدان میں فراموش نہیں کیا جا سکتا ہ۔
ناول
اورافسانہ
اردو کی نثر ترقی میں ناول نگاروں نے بھی حصہ
لیا ہے۔ مولانا نزیر احمد، پنڈت رتن ناتھ
شرشار، مولانا
عبد الحلیم شرر اور مرزا
محمد ہادی رسوا نے فرسودہ داستان نگاری کی جگہ
اردو ادب میں معیاری ناول نگاری
کو رواج دیا ۔ جن کی تقلید بعد کے ناول نگاروں نے کی۔ اس کے بعد پریم چند کے ذریعہ ناول
نگاری
اور افسانہ نگاری کا کا جدید دور شروع ہوا۔ ان کے بعد یعنی پہلی جنگ عظیم کے
بعد ناول نگار اور افسانہ
نویس نیا شعور
لیکر میدان میں آئے اور ترقی پسند تحریک سے
ناول نگاری اور افسانہ نویسی کو فروغ حاصل
ہوا۔ سجاد ظہیر ، کرشن چند، عصمت
چغتائی، احمد ندیم قاسمی، قرۃ العین حیدر، ڈاکٹر احسن فاروقی ، ریئس
احمد جعفری،
رشید اختر ندوی،شوکت صدیقی وغیرہ نے ناولوں اور اردو افسانوں کے ذریعہ اردو ادب کو
بہت فروغ دیا۔ اس طرح سے اردو نثری
ادب میں کافی اضافہ ہوا۔
ڈرامہ نگار
اردو نثر کی ترقی میں ڈرامہ نگاروں کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اردو میں ڈرامہ کی
ادائیگی ایک
عرصہ نظم میں ہوتی رہی نثر
کا رواج رفتہ رفتہ ہوا۔ ابتدا کے ڈرامہ نگاروں میں امانت احسن، بیتاب بنارسی، رونق بنارسی، حسینی میاں
ظریف وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔ ان کے بعد آغا حشر کاشمیرینے بڈرامے میں اچھا ادبی معیار قائم
کیا ہے۔ ان کے ڈراموں کا اردو کے اعلی
ادب میں شمار ہوتا ہےیہ بھی حشر کا کارنامہ
ہے کہ انہوں نے اردو ڈراموں میں نثر کو اصلی مقام دیا ۔ موجودہ دور کے ڈرامہ
نگاروں میں امتیاز علی تاج، حکیم احمد شجاع ، عشرت رحمانی ، سردار جعفری، مرزا
ادیب، ڈاکٹر اشتیاق قریشی ، اوپیندر ناتھ
اشک، صالحہ عابد حسین اور پروفیسر نجیب کے
نام قابل ذکر ہیں۔
مزاح نگار اور طنز نگار
اردو نثر کی ترقی میں مزاح نگاروں نے اور طنزنگاروں نے بھی حصہ لیا ہے۔ مرزا غالب کی شخصیت پہلی شخصیت ہےجنہوں نے خطوط میں مزاح کا عنصر نہایت عمدگی سے شامل کیا ہےاس کے بعد منشی سجاد منظر عام پر آئے۔ وہ خود بھی ایک اچھے مزاح نگار تھے اور اپنے اخبار اودھ پنچ میں بھی مزاح نگاروں کا ایک اچھا خاصا گروہ شامل کر لیا تھا۔ اس دور کے مزاح نگاروں میں میر محفوظ علی اور مرزا فرحت علی بیگ کے نام حاص ہیں۔ ان کے بعد کے مزاح نگاروں میں عظیم بیگ چغتائی شوکت تھانوی کنہیا لال کپور، پطرس بخاری اور رشید احمد صدیقی نے گراں قدر اضافہ کیا ہے
انشا پرداز
اردو نثر کی ترقی میں انشا پردازوں نے بھی نمایاں حصہ لیا ہے ان میں مولانا محمد حسین آزاد،
خواجہ حسن نظامی مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبد الماجد دریا بادی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
علماء کرام اور زبان اردو
اردو نثر کے ابتدائی دور میں نثر نگاروں نے زیادہ توجہ دی وہ مذہب اور تصوف تھا ا ور اس کے علم بردار صوفی درویش اور علماء حضرات تھےجو تقریر اور تحریر کے ذریعہ شب و روز اسلام کی اشاعت میں مشغول رہتے تھے۔ شاہ رفیع الدین ، حکیم شریف خاں اور شاہ عبد القدر کے قرآنی ترجمے بھی اسی میں شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نثر نگاروں نے متعدد رسائل بھی مذہب اخلاق اور تصوف پر لکھے۔ یہ سلسلہ ابتدا سے شروع ہوا اور اس وقت تک جاری رہا۔
مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ ، علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا احمد رضا خاں بریلوی، مولانا اسلم جیراج پوری، مولانا عبد السلام ندوی، مولانا ابو الوفا ثناء اللہ ، مولانا شاہ اسمعیل شہید ؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی، خواجہ حسن نظامی، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا مفتی محمد شفیع، اور مولانا احتشام الحق تھانوی نے اردو نثر میں دینی ادب کو بہت فروغ دیا ۔
صحافیوں کی خدمات
اردو نثر کو پروان چڑھانے میں صحافیوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے سب سےپہلے اردو کا اخبار جاری کیا تھا، یہ جنگ اازادی سے پہلے کی بات ہے،جنگ آزادی کے اردو زبان میں شائع ہونے والے اخباروں میں اودھ اخبار، اودھ پنچ قابل ذکر ہیں۔ اودھ اخبار لکھنؤ سے منشی نول کشور نے جاری کیا تھا، اس اخبار میں پنڈت رتن ناتھ سرشار اور عبد الحلیم شرر بھی شامل رہے۔ سرشارکا فسانہ آزاد سب سے پہلے اسی اخبار میں شائع ہونا شروع ہوا تھا۔اودھ پنچ منشی سجاد حسین کا اخبار تھا۔
اس اخبار نے اردو زبان ادب کی ترقی میں جو حصہ لیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہےاس اخبار نے مزاحیہ صحافت کو ایک تحریک بنا دیا ۔ اس کی مقبولیت کا یہ اثر ہوا کہ بر صغیر میں متعدد مزاحیہ اخبار شائع ہونے لگے، چکبست کے الفاظ میں ’’ اودھ پنچ کی یادگار خدمت یہ ہے کہ اس نے اردو نثر کو اس کا ثنوعی زیور اتار کر جس میں سوائے کاغذی پھولوں کے کچھ نہ تھاایسے پھولوں سے آراستہ کیا جن میں قدرتی لطافت کا رنگ موجود تھا۔‘‘
ان اخباروں میں نوک جھونک بھی ہوتی رہتی تھی، جنگ آزادی کے بعد اردو صحافت کا یہ پہلا دور تھا ، دوسرا دور سر سید احمد سے شروع ہوتا ہےوہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے مسلمانوں میں جدید علوم حاصل کرنے کی ضرورت کا شعور پیدا کرنے کے لئے اخبار سائنٹفک سو سائٹی جاری کیا جو بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی گزٹ بن گیا۔ اسی اخبار میں مولانا حالی کے کہنے کے مطابق سماجی،علمی،اخلاقی،سیاسی ہر قسم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔۱۸۷۰ء میں سر سید نے تہذیب الاخلاق جاری کیا تھا یہ رسالہ ماہ نامہ تھا یہ اپنے مفید اور معلوماتی مضمامین کی وجہ سے کافی مشہور ہوا۔
اس کے بعد قابل ذکر اخبارات و رسائل میں مولانا محمد علی جوہر کے ہمدم مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال و البلاغ شامل ہیں ،بالخصوص الہلال ایک ایسے آتش فشاں کی مانند تھا جس سے انگریزی سماج ہمیشہ خوف کھاتا رہا۔
ان اخبارات کے بعد جو اخبارات شائع ہوئے ہندوستان ،مسلم گزٹ ، زمیندار مدینہ شامل ہیں بالخصوص مولانا ظفر علی خاںکا اخبار زمیندار جو لاہور سے نکلتا تھا ھق گوئی اور بے باکی میں مشہور تھا اس نے سامراجی حکومت کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی جس کی بنا پر اسے کئی بار بند ہونا پڑااور مولانا ظفر علی خانکو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔
پاکستان نبنے کے بعد جو اخبارات وہاں سے شائع ہوئےان میں روزنامہ جنگ، روزنامہ انجام، روزنامہ امروز، روزنامہ نوائے وقت کے نام قابل ذکر ہیں اور عصر حاضر کے اخبارات مین روزنامہ مشرق رونامہ کوہستان، روزنامہ جسارت کے نام قابل ذکر ہیں۔
ادبی صحافت میں رسائل و جرائد نے بھی ترقی کی منزلیں طے کی ہیں ان میں مخزن ، اردوئے معلی، علیگڈھ میگزین، معارف،اردو، ادیب، نگار، شاعر، عالمگیر، ہمایوں، نیرنگ خیال، ساقی، ادبی دنیا، ادب لطیف، سویرا، نقوش،افکار وغیرہ شامل ہیں۔
نوٹ :۔ مضمون علامہ سید منیر ؔ کی کتاب سے ماخوذ ہے۔
انشا پرداز
اردو نثر کی ترقی میں انشا پردازوں نے بھی نمایاں حصہ لیا ہے ان میں مولانا محمد حسین آزاد،
خواجہ حسن نظامی مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبد الماجد دریا بادی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
علماء کرام اور زبان اردو
اردو نثر کے ابتدائی دور میں نثر نگاروں نے زیادہ توجہ دی وہ مذہب اور تصوف تھا ا ور اس کے علم بردار صوفی درویش اور علماء حضرات تھےجو تقریر اور تحریر کے ذریعہ شب و روز اسلام کی اشاعت میں مشغول رہتے تھے۔ شاہ رفیع الدین ، حکیم شریف خاں اور شاہ عبد القدر کے قرآنی ترجمے بھی اسی میں شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نثر نگاروں نے متعدد رسائل بھی مذہب اخلاق اور تصوف پر لکھے۔ یہ سلسلہ ابتدا سے شروع ہوا اور اس وقت تک جاری رہا۔
مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ ، علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا احمد رضا خاں بریلوی، مولانا اسلم جیراج پوری، مولانا عبد السلام ندوی، مولانا ابو الوفا ثناء اللہ ، مولانا شاہ اسمعیل شہید ؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی، خواجہ حسن نظامی، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا مفتی محمد شفیع، اور مولانا احتشام الحق تھانوی نے اردو نثر میں دینی ادب کو بہت فروغ دیا ۔
صحافیوں کی خدمات
اردو نثر کو پروان چڑھانے میں صحافیوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے سب سےپہلے اردو کا اخبار جاری کیا تھا، یہ جنگ اازادی سے پہلے کی بات ہے،جنگ آزادی کے اردو زبان میں شائع ہونے والے اخباروں میں اودھ اخبار، اودھ پنچ قابل ذکر ہیں۔ اودھ اخبار لکھنؤ سے منشی نول کشور نے جاری کیا تھا، اس اخبار میں پنڈت رتن ناتھ سرشار اور عبد الحلیم شرر بھی شامل رہے۔ سرشارکا فسانہ آزاد سب سے پہلے اسی اخبار میں شائع ہونا شروع ہوا تھا۔اودھ پنچ منشی سجاد حسین کا اخبار تھا۔
اس اخبار نے اردو زبان ادب کی ترقی میں جو حصہ لیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہےاس اخبار نے مزاحیہ صحافت کو ایک تحریک بنا دیا ۔ اس کی مقبولیت کا یہ اثر ہوا کہ بر صغیر میں متعدد مزاحیہ اخبار شائع ہونے لگے، چکبست کے الفاظ میں ’’ اودھ پنچ کی یادگار خدمت یہ ہے کہ اس نے اردو نثر کو اس کا ثنوعی زیور اتار کر جس میں سوائے کاغذی پھولوں کے کچھ نہ تھاایسے پھولوں سے آراستہ کیا جن میں قدرتی لطافت کا رنگ موجود تھا۔‘‘
ان اخباروں میں نوک جھونک بھی ہوتی رہتی تھی، جنگ آزادی کے بعد اردو صحافت کا یہ پہلا دور تھا ، دوسرا دور سر سید احمد سے شروع ہوتا ہےوہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے مسلمانوں میں جدید علوم حاصل کرنے کی ضرورت کا شعور پیدا کرنے کے لئے اخبار سائنٹفک سو سائٹی جاری کیا جو بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی گزٹ بن گیا۔ اسی اخبار میں مولانا حالی کے کہنے کے مطابق سماجی،علمی،اخلاقی،سیاسی ہر قسم کے مضامین شائع ہوتے تھے۔۱۸۷۰ء میں سر سید نے تہذیب الاخلاق جاری کیا تھا یہ رسالہ ماہ نامہ تھا یہ اپنے مفید اور معلوماتی مضمامین کی وجہ سے کافی مشہور ہوا۔
اس کے بعد قابل ذکر اخبارات و رسائل میں مولانا محمد علی جوہر کے ہمدم مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال و البلاغ شامل ہیں ،بالخصوص الہلال ایک ایسے آتش فشاں کی مانند تھا جس سے انگریزی سماج ہمیشہ خوف کھاتا رہا۔
ان اخبارات کے بعد جو اخبارات شائع ہوئے ہندوستان ،مسلم گزٹ ، زمیندار مدینہ شامل ہیں بالخصوص مولانا ظفر علی خاںکا اخبار زمیندار جو لاہور سے نکلتا تھا ھق گوئی اور بے باکی میں مشہور تھا اس نے سامراجی حکومت کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی جس کی بنا پر اسے کئی بار بند ہونا پڑااور مولانا ظفر علی خانکو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔
پاکستان نبنے کے بعد جو اخبارات وہاں سے شائع ہوئےان میں روزنامہ جنگ، روزنامہ انجام، روزنامہ امروز، روزنامہ نوائے وقت کے نام قابل ذکر ہیں اور عصر حاضر کے اخبارات مین روزنامہ مشرق رونامہ کوہستان، روزنامہ جسارت کے نام قابل ذکر ہیں۔
ادبی صحافت میں رسائل و جرائد نے بھی ترقی کی منزلیں طے کی ہیں ان میں مخزن ، اردوئے معلی، علیگڈھ میگزین، معارف،اردو، ادیب، نگار، شاعر، عالمگیر، ہمایوں، نیرنگ خیال، ساقی، ادبی دنیا، ادب لطیف، سویرا، نقوش،افکار وغیرہ شامل ہیں۔
نوٹ :۔ مضمون علامہ سید منیر ؔ کی کتاب سے ماخوذ ہے۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔