موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
زبان ِ اردو کی ابتداء اور تدریج
ajkiurduduniya.blogspot.com
جولائی 14, 2019
0
Comments
جولائی 14, 2019
0
Comments
اردو زبان اور محققین کی آرا
اس کےوجود میں آنے اور اسکی ابتدا کے متعلق محققین کیے
خیالات مختلف ہیں، جیسے حافظ محمود شیرانی
کہتے ہیں کہ ’’
اردو پنجاب میں پیدا ہوئی
‘‘ اور دوسرے محققین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو نے سندھ میں جنم لیاہے۔
مولانا محمد حسین آزاد
، ڈاکٹر رام بابو سکسینہ اور
پروفیسر حامد سین قادری نے بالترتیب اپنی کتابوں
، آب حیات، تاریخ ادب اردو اور تاریخ داستان اردو میں یہ بات ثابت کیا ہے
کہ اردو دلی کے نواحی علاقوں میں پیدا
ہوئی ہے اور پروان چڑھی ہے ۔ یہ تمام تر دعوے اور نظریات دراصل اردو زبان کی
افادیت ، مقبولیت اور اس کی عظمت کا بین ثبوت ہیں
کیونکہ برصغیر کا ہر علاقہ یہ ثابت
کرنے میں پیش پیش ہے کہ اردو کا مخزن اس کا علاقہ ہے، بحر حال اردو کے
پرستاروں کے لئے یہ بات بڑے فخر کی ہے کہ اس زبان کو ہر طبقہ ہرگروہ
دل و جان سے پسند کرتا ہے۔
محققین نے اپنے اپنےدعؤں اور اس کی صداقت میں جو دلائل
پیش کئے ہیں وہ بڑے وزنی ہیں اور انہیں بڑے خلوص کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، مثال کے
طور پر حافظ محمود شیرانی کہتے ہیں
’’ جب
مسلمان سندھ اورپنجاب کے بعد دہلی کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں وہ فاتح کی حیثیت سے
داخل تو ایک مخصوص
زبان پنجاب سے اپنے ہمراہ لے گئے ، یہ بات قابل توجہ ہے کہ پنجاب میں ملتان کے علاقے میں بولی جانے والی زبان ملتانی
اردو زبان
سے بہت ملتی جلتی ہے۔ دونوں میں اسماء و افعال کے خاتمہ پر الف آتا ہے، دونوں میں جمع بنانے کا طریقہ ایک
ہے
اور بہت حد
تک ان میں تذکیر و تانیث بنانے کے قواعد و
طریق آپس میں ملتے جلتے ہیں ۔ اس دعوے کو ثابت کرتے
ہوئے
وہ مزید کہتے ہیں
کہ پنجابی زبان میں بہت سے الفاظ
ایسے ہیں جو قدیم اردو میں بعینہ پائے جاتے ہیں ، بلکہ بعض تو جدید اردو
میں بھی
مستعمل ہیں مثلا لک ( لکھ) کھنڈ ( کھانڈ) آیت
(آیت) بھنڈ (
بھانڈ ) اسی طرح پنجابی کے بعض محاورے
بھی
مستعمل
ہیں مثلا
دن دہاڑے ملنا جلنا، چپ چپاتے ، مانگنا
تاگنا وغیرہ‘‘
سندھ اور جنوبی ہند سے اردو کی ابتداء کے سلسلے میں یہ دلیل
کافی وزنی ہے کہ سندھ اور ہندوستان کا جنوبی ساحلی علاقہ ہی ایسا علاقہ تھا ،
جہاں مسلمانوں کی آمد رفت
سب سے پہلے شروع ہوئی جب کہ ہندو
ستان پر مسلمانوں نے حملہ بھی نہیں کیا
تھا ، اس لئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ ان علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں
سب سے پہلے مسلمانوں کی زبانوں سے متاثر
ہوئی ہوں گی۔
مولوی نصیر
الدین ہاشمی نے اپنی کتاب ’’ دکن میں اردو ‘‘ میں بڑے وزنی دلائل سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اردو زبان دکن کی پیداوار ہے۔ اردو کی ابتداء کے معتلق
میر امن دہلوی کا قول ہے’’ جب اکبر شاہی تخت پر بیٹھا تو ایک زبان اردو مقرر ہوئی
چنانچہ اردو کی ابتداء اکبر کے دربار سے وابستہ
ہو گئی ۔ سر سید فرماتے ہیں ’’ جب شاہ جہاں
سریر آراء و ہند ہوا اور امور سلطنت کی لگام کو بدست خود تھاما تو خود بخود ایک زبان نے جنم لیا جس کو اردو
کہتے ہیں‘‘
امام بخش
صہبائی کہتے ہیں ’’ جو بولی شاہ جہاں کے
زمانے میں رائج ہوئی اس کا نام اردو قرار پایا ۔ مولانا آزاد
کی تحقیق ہے کہ ’’رفتہ رفتہ شاہ جہاں کے زمانے میں اس زبان کا نام اردو ہو گیا‘‘ بحر حال مختلف محققین کے مختلف دعوے ہیں اگر ان
سب کا خلوص ِ دل سے تجزیہ کیا جائے تو
بظاہر یہ دعوے صحیح معلوم ہوتے ہیں لیکن انہیں دعوؤں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے
آجاتی ہے کہ اردو کے نشو ونما میں کسی ایک علاقہ
نے حصہ نہیں لیا ۔ بلکہ تمام
علاقوں کے لوگوں نے حسب ِ
استطاعت حصہ لیا ہے اور اہل ِ
گجرات نے بھی
اور دہلی ، آگرہ اور ان کے نواحی علاقوں کے رہنے والوں نے بھی۔
اصلیت
اردو
کی ابتداء دراصل اس طرح ہوئی کہ جب
مسلمانوں نے ہندوستاں پر حملے کئے اور علاقوں پر علاقے فتح کئے تو فاتحین کے بہت سے لوگوں نے مفتوحہ علاقوں میں سکونت اختیار کر لی اور یہاں کے مقامی لوگوں میں گھل مل گئے
مسلمانوں کی زبان نے جس عربی ، فارسی ، پشتو اور ترکی وغیرہ
کے الفاظ شامل تھے ۔ مقامی زبان پراکرت
اور خاص
طور پر برج بھاشا کے ساتھ کے ساتھ
ساتھ ملکر رفتہ رفتہ ایک نئی صورت اختیار کر لی ۔ اردو در
اصل اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے اور اسے
ترقی دینے میں پنجاب سندھ ، دکن ، گجرات اور یوپی غرض تمام علاقوں کے باشندوں کا مساوی حصہ ہے۔ اس لئے یہ خصوصیت کسی ایک علاقہ کو حاصل نہیں ہو سکتی کہ وہ یہ دعوے ٰ
کر کے کہ اردو اس علاقے میں پیدا ہوئی
البتہ یہ کہنا بلکل بجا ہے کہ اردو کا جو پودا مختلف علاقوں کے لوگوں نے مل کر لگایا تھا اس کی آبیاری دہلی اور آگرہ
اور ان کے نواحی علاقوں میں کی گئی اور وہیں یہ پودھ بڑھ کر جوان اور ثمر آور ہوا۔
اردو
معلیٰ
اردو نثر کی زبان کا
لفظ ہے اور اس کے معنیٰ ’’ لشکر ‘‘ کے ہیں
۔ مغلوں کے زمانے میں لشکر گاہ کو اردو معلی ٰ کے نام سے موسوم کرتے تھے اور بازار اردو کا بازار کہلاتا تھا۔ صاف ظاہر
ہے کہ اس بازار میں کئی زبانیں بولی جاتی ہوں گی ، کیونکہ لشکر میں بھی بھانت بھانت کے لوگ شامل تھے انہیں لوگوں
کے اشتراک سے ایک ایسی زبان وجود میں آئی
جو کئی زبانوں کا مجموعہ تھی اور یہی
دراصل اردو کہلائی۔ چنانچہ ان حقائق کے پیش نظر بھی یہی بات قابل تسلیم ہے
کہ اردو کو پروان چڑھانے ، اس کی نوک پلک سنوارنے اور اس کو دلہن کی طرح خوبصورت
اور حسین بنانے میں سب سے زیادہ دہلی ، آگرہ
اور ان کے نواحی علاقوں کے باشندوں کا ہی ہے۔
اردو
کی ترقی
بحر حال اردو رفتہ رفتہ
ترقی کرکے عروج کی اس منزل تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ زبانوں میں ہوتا ہے۔ بلکہ عربی کے بعد اردو ہی ایک ایسی زبان ہے جس کا مقابلہ دنیا کی
کوئی زبان نہیں کر سکتی۔ حقیقت یہ ہے
کہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کی مقبولیت اور اہمیت بھی ان زبانوں کے مقابلے میں رفتہ
رفتہ کم ہوتی جا رہی ہے ۔ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اردو ہی ایک ایسی زبان ہے جو دنیا کے ہر ملک اور شہر میں بولی اور سمجھی
جاتی ہےاور بر صغیر کے ستر کروڑ عوام اس زبان کو بولتے اور سمجھتے ہیں۔
اس زبان کی
یہ خصوصیت ہے کہ اس میں پھلنے پھولنے کی وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو زندہ زبانوں میں ہوتی ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ دوسری زبانوں کے الفاظ اس خوبی سے اپنے اندر
جزب کر لیتی ہے کہ وہ اس کے اپنے الفاظ معلوم ہونے لگتے ہیں۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔