موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
بہادر شاہ ظفر
ajkiurduduniya.blogspot.com
جنوری 31, 2020
0
Comments
جنوری 31, 2020
0
Comments
بہادر شاہ ظفر ۱۷۷۵ عیسوی میں پیدا ہوئے،انکا تاریخی نام ابو ظفر رکھا گیا، ان کے والد کا
اسم گرامی اکبر شاہ تھا۔ یہ مرزا اکبر شاہ عالم کے دوسرے صاحبزادے تھے۔ بہادر شاہ ظفر کی تعلیم و تربیت شاہی طریقے سے
ہوئی ان کے اتالیق حافظ محمد ابراہیم تھے،
ان کی بنیادی تعلیم مثلا قرآن و حدیث ، اردو،خوشنویشی اس وقت کے مشہور و
معروف قاری حافظ محمد جلیل کے ذریعہ ہوئی۔
علم و ادب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ تمام شاہی فنون میں جن میں شہسواری ،تیر اندازی ،
تیغ زنی شامل تھی مہارت حاصل کی۔
بہادر شاہ ظفر نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ مغل سلطنت کے
زوال کا زمانہ تھا، لیکن علم وادب ،شعر و فنون بامِ عروج پر تھے، علم و ادب کےاعتبار
سے دہلی اور آگرہ کا سارے برِّ صغیر میں
اونچا مقام تھا۔ دلّی میں بڑے بڑے استاد
شاعر جمع تھےاور شب روز مشاعروں کی محفلیں سجی رہتی تھیں ، ان میں مرزا اسد اللہ
خاں غالبؔ ، شاہ نصیر، ابراہیم ذوق اور مولانا امام بخش کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
بہادر شاہ ظفر انہیں
باکمال شاعروں کی صحبت و معیت نصیب ہوئی۔ ان کو شاعری کا شوق بچپن ہی
سے تھا، انہوں نے سب سے پہلے شاہ نصیر سے
اصلاح لی ، ان کے بعد میر کاظم بےقرار سے جو شاہ نصیر کے شاگرد تھے، ان کے ذوق سے
اصلاح لینے لگے اور جب ان کا انتقال ہو گیا تو مرزا غالب سے اپنی شاعری کی اصلاح
کا کام کروایا۔
بہادر شاہ ظفر جس مغلیہ تخت و تاج کے شہنشاہ تھےاس کی حالت
بد سے بد تر ہوچکی تھی اوروہ خود ضعیفی کے دور میں پوری طرح داخل ہو چکے تھے،
انکی عمر ۶۲ باسٹھ سال کی ہو چکی تھی۔انہوں نے سلطنت کو سنبھالنے کی کافی کوشش کی
لیکن مغل
سلطنت کی آخری تباہی انہیں کے ہاتھوں ان کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔رفتہ رفتہ انکا
اقتدار کم سے کم ہوتا گیااور انگریزوں کی گرفت مظبوط سے مظبوط تر ہوتی چلی گئی،
حتی کہ آگرہ کی عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا کہ
قلعہ دہلی کے باہر بادشاہ کو کسی قسم
کا کوئی استحقاق
حاصل نہیں ۔
انگریزوں کا اقتدار
برِّ صغیر میں بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا اور ان کے مظالم بھی ہندو اور
مسلمان پر بڑھ چکے تھے۔و ہ کھلم کھلا عسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے۔تنگ آمد بجنگ
آمدکی مصداق بر صغیر میں ہندو اور مسلمانوں نے
انگریزوں کو اس ملک سے باہر نکال دینے کا فیصلہ کر لیا اور جنگ آزادی کے
لئے منظم پیمانہ پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ علماء کرام نے
جہاد کے فتوے دئے،میرٹھ سے بغاوت کا سیلاب امنڈ آیا ۔ کئی انگریز افسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور
مجاہدین کا ایک جم غفیر دہلی کی جانب روانہ ہو گیا، بہادر شاہ اور کئی شہزادوں نے
مجاہدین کا ساتھ دیا اور خوب جم کر لڑائی ہوئی۔ بخت خاں نے جس کے ہاتھوں
میں مجاہدین کی کمانڈ تھی کئی معرکوں میں انگریزوں کو عبرت ناک شکست دی مگر افسوس
کے بہادر شاہ کے چند درباریوں نے غداری کی وہ انگریزوں سے مل گئے جس کی وجہ سے بخت خاں کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے
اورمجاہدین کی فتح شکست میں بدل گئی ۔ انگریز قلعہ معلی ٰ پر قابض ہو گئےاور انہوں
نے مغل شہزادوں اور مجاہدین کے خون سے خوب
ہولی کھیلی اور بہادر شاہ ظفر گرفتار ہوکر
رنگون بھیج دئے گئے جہاں کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔












0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔