موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
خواتین کی معاشی جدوجہد : ایک مختصر تجزیاتی مطالعہ
ajkiurduduniya.blogspot.com
جنوری 30, 2020
0
Comments
جنوری 30, 2020
0
Comments
بسم
اللہ الرحمن الرحیم ۔
خواتین کی معاشی جدوجہد : ایک
مختصر تجزیاتی مطالعہ
مجیدہ
بیگم فلاحیؔ(کمیاہی،سنسری)
اس
کرہ ارضی پر انسانی زندگی کی بقاء و سلامتی اور اس کے لئےوسائل کی تلاش و جستجو کو
معیشت کہا جاتا ہے۔ زمین پر موجود ہر جان دار
معاشی تگ ودو میں مصروف ہے۔جب کہ ہر
جاندار کے رزق کی ذمہ داری خود اللہ نے لے رکھی ہے۔
’’ وما مِن دابۃ فی الارض الا علی اللہ
رزقہا‘‘ ( سورۃ الہود/ایت نمبر ۶) ترجمہ:۔زمین
میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔
آج
پوری دنیا میں مہنگائی، بیروزگاریـ، روز مرہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اورزندگی کی
سہولیات کی حصولیابی نے انسان کو معاشی حیوان بنا دیا ہے۔گھر کے مردوں کی کمائی سے
گذربسر مشکل ہوگیا ہے۔ نتیجہ عورتیں بھی کسب معاش کے لئےگھر سے باہر نکل رہی
ہیں۔خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی مہم کابنیادی نظریہ ہے کہ ہر شخص
اپنی معاش کا خود ذمہ دار ہے۔ معاشرے میںاچھےاور برے فرد اور خاندان کا میعار
دولتمندی پر ہے۔ مال ودولت کی حرص و طمع نے وبائی صورت اختیار کر لی اور انسانیت ناپید ہے۔
آج
پوری دنیا میں علم معاشیات کا چرچاہے۔ نئی اصطلاحات وضع کی جار ہی ہیں، بے شمار
ایسے ادارے وجود میں آرہے ہیں جن کا مقصدمعاشی مقابلے میں آگے نکلنا ہے ، اس کے لئے نت نئی پالیسیاں اور منصوبے بنائے
جارہے ہیں۔
معاشرہ اور خواتین:۔
معاشرہ میں خواتین کا مقام و مرتبہ اورعلمی و عملی لیاقت و صلاحیت کو انسانی خوبی کے لحاظ سے نہیں
دیکھا جاتا ہے۔ اخلاق اور دین داری کوئی میعار
نہیں رہ گیا ہے۔بلکہ اسکا انتخاب
معاشی ضرورت کے پیش نظر کیا جاتا ہےکہ وہ اپنے گھر اور خاندان کو معاشی طور پر
کتنا مستحکم کر سکتی ہے !عورت کی معاشی خود انحصاری کی اصطلاح بھی گمراہ کن ہے۔کہا
یہ جاتا ہے کہ عورت کما کر نہیں لاتی ، اسی لئے اس کو مردوں کے ستم کا نشانہ بننا
پڑتا ہے۔ اگر وہ مردوں کی طرح اعلی تعلیم حاصل کرلےان کے شانہ بشانہ چلے اور ان کے
ساتھ معاشی دوڑ میں شامل ہو جائے ، تو اسکو بھی معاشرے میں جینے کا وہی حق ملےگاجو
مرد کو حاصل ہے۔
اقوا م متحدہ اور معاشیات:۔
اقوام متحدہ (U.N)کے قیام کا مقصد معیشت اور انسانی حقوق کی
پاسدای ہے ۔ انسانی حقوق کے تحفظات کے لئےمختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں،جس میں
مزدور، غریب،کسان ، بچے ، بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں۔ پوری دنیا کےحکام کویہ باور
کرایا گیا ہے کہ وہ ان سفارشات کی بنیاد پر لازما قانون سازی کریں اور اس پر عمل کو یقینی بنائیں۔ مذکورہ طبقات میں سب سے زیادہ توجہ حقوق نسواں
پر دی گئیں ہیں؛ خواتین کو ان پر ہونے
والے مظالم سے تحفظ فراہم کرنا۔ مردوں کےمساوی درجہ دینا۔اقوام متحدہ ان تمام امور
کی انجام دینے میںلگی ہوئی ہے حتی کہ ۱۸
دسمبر ۱۹۷۹ ء کو ا
ایک کنونشن کو منظوری دی جس کا نام ،سیڈارکھا گیا،اس کا مقصد عورت کے خلاف ہر قسم
کے ناروا سلوک اورامتیازی رویہ کا خاتمہ کا کنوینشن قرار دیا گیا۔۔ جسے انگلش
میں CEDAWکہتے
ہیں۔جس کا Full formہے۔
Convention
of Elimation of all forms of Discrimination Againts Women تقریبا ۲۰
ممالک کی منظوری کے بعد یہ وجود میں آئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنس کی
بنا پرکوئی پابندی یا تفریق روانہیں رکھی جا سکتی،جو مردوں کے ساتھ برابری کی
بنیاد پر۔ ازدواجی حیثیت کے قطع نظر عورتوں کو ایسے انسانی حقوق اور بنیادی آزادی
کے حصول اور ان سے استفادہ کرنے پر اثر انداز نہ ہو ۔سیاسی، اقتصادی ،سماجی،ثقافتی
، شہری یا کسی بھی شعبئہ حیات میں عورتوں کے استحقاق کی نفی کریے یا انکی بجا
آوری میں روکاوٹ کا باعث بنے۔
سیڈاکے آرٹیکل سے۔۔۔:۔
سیڈا میں جو سفارشات پیش کئے گئے ہیں ان میں یہ سوچ کا رفرما ہے کہ انسانی قدر و قیمت مال و
متاع پر منحصر ہے۔ عورتوں کو معاشی لحاظ مستحکم کرنے کے لئے سیڈاجو بھی لائحہ عمل
پیش کرتی ہے وہ درج ذیل ہیں۔ تعلیم اور ملازمتوں میں خواتین کو مردوں کےمساوی مواقع
اور بین الاقوامی و قومی سطح پر یکساں نمائندگی شامل ہے۔ یہ ایک مخلوط معاشرت کے
رواج کو فروغ دیتا ہے اور اسی کو عورت کی ترقی اور empowerment سمجھا جاتا ہے۔ اس کنونشن میں خاندانی استحکام اور معاشرے کی فلاح
و درستگی کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔اس کے کل ۳۰ آرٹیکل ہیںجو تقریبا سب کے سب
خواتین سے متعلق ہیں۔ اسکا مختصر جائزہ پیش خدمت
ہے۔
۱۔ ریاستیں ایسے تمام اقدامات
کریںگی تاکہ روزگار کے میدان میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو اور
انہیں مردوں کے برابر مواقع میسر ہوں ۔
۔ خصوصا کام کرنے کا حق
۔
رزوگار حاصل کرنے کے یکساں مواقع اور بھرتی کے یکساں ضابطے
۔ روزگار اور پیشہ کے آزادانہ
اختیار کا حق
۔ یکساں اجرت کا حق
۔ ہر قسم کی مراعات ،کام کی یکساں
اہمیت اور یکساں ضوابط کے تحت کام کرنے کا حق
۔ سماجی تحفظ خصوصا ریٹائر منٹ ،بے
روزگاری، بیماری ، بوڑھاپے،یا دیگر معذوری کے دوران مراعات اور تنخواہ کے ساتھ
چھٹیوں کا حق
۔ دوران ملازمت تحفظ اور صحت کی
سہولتوں کی فراہمی بشمول حمل اور زچگی کے دوران صحت کی حفاظت کا حق
مذکورہ بالا سفارشات کے مطالعے کے بعد دین اسلام کا تھوڑا سا شعور رکھنے
والا انسان یہ ضرور سمجھ لیگاکہ یہ سارے حربے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں ۔حقوق
نسواں اور معاشی ترقی کے نام پر عورتوں کو گھر کے محفوظ دیواروں سےنکال کر غیر
محفوظ بنادیا۔ عورتیں بذات خود اپنی بربادی کا سامان تیار کر رہی ہیں اور
جانتے بوجھتے اپنے آپ کواور عزت نفس کی تباہی میںڈال رہی ہیں ۔
معاش کے لئے باہر نکلنے والی خواتین۔۔۔۔دنیاکی نظر میں !!!!
ایک
چینی اسکالر یوتیک (youtike)کا کہنا ہے کہ۔۔۔۔
،، خواتین کو اپنے جنس پر فخر ہونا چاہئے۔۔۔۔۔ جنسی شناخت کو برقرار رکھتے
ہوئے اپنے ذمہ داری کی انجام دہی میں ان کی عظمت کا راز ہے۔
ایک خاتون صحافی پامیلا روبی بتاتی ہیں ۔۔۔۔ برسر روزگار خواتین کے لئے دو
ہی راستے ہیں یا کہ وہ خود کو مردانہ کلچر میں ڈھال دیںیا پھر ان اداروں کو چھوڑ
دیں۔
امریکہ کی ایک نو مسلم خاتون عائشہ علاویہ کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔ بعض خواتین کی
طرف سے حقوق کے نام پر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ وہ کس بات کا مطالبہ کر رہی ہیں ؟ کیا
وہی مقام جو مغرب کی عورتیں حاصل کر چکی ہیں اور جہاں سے نکلنے کے لئے وہ تڑپ رہی
ہیں ، حقوق کی تلاش میں وہ منشیات ، شراب، عریانی اور بے راہ روی کی ساری حدیں پار
کر چکی ہیں۔ میں مسلمان عورتوں کو متنبہ کرنا چاہتی ہوں کہ وہ ہمارے تجربات سے
فائدہ اٹھایں
اسی
راستے پر چلنے کے بجائے ٹھنڈے دل سے اپنے مقام پر غور کریں۔
اسلام اور معیشت نسواں:۔
اسلام نے عورت کی کفالت کا مکمل انتظام کیا ہے۔بیٹی کی پرورش ، تعلیم و
تربیت کی پوری ذمہ داری باپ کے سپرد کی گئی ہے۔ بیٹی کی پیدائش کو اللہ کی رحمت
قرار دیا گیا ہے ۔حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے جنت
میں آپ ﷺ کی رفاقت اسے حاصل ہوگی ۔ من عال جاریتین حتی قد ادرکتا دخلت الجنۃ
اناوھو کھاتین واشار باصبعیہ السبابۃ والوسطی،بابان معجلان عقوبتھما فی الدنیا
البغی والعقوق / حاکم ، المستدرک علی الصحیحین۔
بھائی اپنی بہن کی کفالت کرے گاہے ۔ شوہر بیوی کا نان نفقہ اور دگر ضروریات
زندگی کا مکمل ذمہ دار ہے ،ارشاد باری تعالی ہے۔
’’الرجالُ قوّامونَ علی النساء
بماَ فضّلَ اللہُ بَعضَھُم علی بَعض وبما انفقوا من اموالھم‘‘۔۔ ( النساء۔ ۳۴ ) مرد عورت پر قوام ہیں ،اس بنا پر
کہ اللہ تعالی نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد
اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔
۔
خاندانی نظام میں مرد ہی گھر کا قوام ہوتا ہے کہ اللہ اسے اس لائق بنایا ہے اس کے
اندر ایسی صلاحیت رکھی ہے اور اللہ نے عورت کو فطرتا ایسا بنایا ہے کہ اسے خاندانی
زندگی میں مرد کی حفاظت اور خبرگیری کے تحت رہنا ہے۔ان تمام تر باتوں سے بخوبی یہ
بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ نے عورت کے نازک کندھے پر معاشی کوئی ذمہ داری نہیں
ڈالی اگر افراد میں سے کوئی بھی عورت کا کفیل نہ ہو تو اسلامی حکومت اس کی کفالت
کرے گی اور اسکی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔اسلام نے عورت
کو وراثت میں حق دیا ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر قرآن و احادیث موجود ہے۔
اسلام نے عورت کی کفالت کا کامل ترین بندوبست کیا ہے اور انہیں اصول کو
مظبوطی سے تھامنے میں ہی پوری نسوانیت کی بھلائی ہے ۔اب أیئے ذرا اس بات پر غور
فکر کریں کہ اسلامی کفالتی نظام کو کیسے بہتر بنایا جائے۔
(۱) عورت
کے لواحقین مرد کو تعلیم دی جائے ،ذمہ داریوں سے أگاہ کیا جائے، اس کے کفالت کی
حالت کو بہتر بنایا جائے۔
(۲) کسی بھی مرد کو بے روزگار رہنے
نہیں دیا جائے،اسے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کا عادی بنایا جائے۔
وراثت کاقانونی حق عورت کو دلوایا جائے، جو لوگ
اللہ کے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف مناسب قانونی کاروائی کی جائے۔
(۴ ) حق
مہر مرد کی حیثیت کے مطابق رکھا جائے اور اسکی ادایئگی کو یقینی بنایا جاے ،اسکا
تعین زمانہ ھذا کہ حساب سے ہو تاکہ عورت معاشی طور پر مستحکم ہو سکے ،خدا نخواستہ
کل کوئی پریشانی لاحق ہو تو وہ در در کی ٹھوکریں نہ کھائے، اپنے بھائیوں کے رحم و
کرم پر نہ رہ جائے۔
ہمارا معاشرہ اور تعلیم یافتہ خواتین:۔
ہمارے معاشرے کے اندر آج کل یہ تصور پایا جاتا ہے کہ عورتیں صرف گھر کی
چہار دیواری کے اندر مقید ہو کر رہ جائیں،صرف بچے پیدا کریں گھر کے کام کاج کو
دیکھیں، بلکہ سماج اور معاشرے کے تعلق سے ان تعلیم یافتہ خواتین پر بھی چند ذمہ
داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے دائرے میں رہ کر سماجی ،معاشرتی اور سیاسی کاموں
میں حصہ لیں۔ جب تک سماج کی تعلیم یافتہ خواتین کو صحیح طریقے سے متحرک نہیں کیا
جائے گا معاشرہ میں سدھار کا کام صحیح معنوں میں نہیں ہو سکے گا، ستر و حجاب کے
تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اسلامی بنیادی حدودو قیود کا خاص خیال رکھتے ہوئے
مرد اور عورتیں ایک مجلس میں معاشرے کی اسلامی ثقافت و تہذب کو برقرار رکھنے کے لئے خواتین کے اندر
دین اسلام کا صحیح شعور پیدا کرنے کے لئے تبادلئہ خیال کر سکتی ہیں ۔ تاریخ اسلامی
کے مطالعہ سے بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ معروف کے حکم اور منکرات سے بچاؤ کے
لئے مرد اور عورتوں نے مل کر کام کیا تھا ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ
أ یت نمبر ۷۱ میں
فرماتا ہے۔
وَالمومُنونَ والمُومِناتِ بَعضُھُم أولِیائُ
بعض یامُرُونَ بالمعروفِ وینھونَ عنِ المنکَر۔
ترجمہ :۔ مومن مرد ااور مومن
عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ،بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔
اس
آیت کریمہ سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہاکہ معروف کا حکم اور منکرات سے بچنے کی
تلقین مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی کر سکتی ہیں ۔ خواتین کے لئے اسلامی شعائر
اور اسکے تقاضوں کی باپندی لازمی ہے ، تاریخ کے اوراق میں بہت سارے دلائل ہیں ۔
حضرت عائشہ ؓ جنکو ۲۰۰۰ سے زائد احادیث یاد تھیں،جو
عورتیں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ مرد کی بھی رہنمائی کیا کرتی تھیں، حضرت خدیجۃ
الکبریٰ ؓ اپنے وقت کی ماہر تاجرہ تھیںجن
کا کاروبار کئی ممالک میں پھیلا ہوا تھا۔حضرت ام سلمیٰ ؓ جن کے مشورے پر حضرت محمد
مصطفی ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر عمل کیا تھا
،اسی طرح سے جنگ احد کے موقع پر حضرت ام عمارہ ؓنے آپ ﷺ کی مدافعت میں جس
ہمت اور پامردی کا ثبوت دیا اس کی شہادت خود آپ ؐ ان الفاظ دی ہے ’’ما التفت یمنا
و لاشمالا الا وانا ارھا تقاتل دونی ‘‘
(عورت اسلامی معاشرے میں از مولانا سید جلال الدین عمری ص ۱۷۷ ) ۔
آج جب ہم اپنے معاشرہ اور ماحول کا جائزہ لیتے ہیں تو آٹے میں نمک کے
برابرتعلیم یافتہ خواتین نظر آتی ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ کم سنی میں شادی کردی
جاتی ہے۔ کچھ ایسی بھی بہنیں ہیں جن کو اللہ نے بہت ساری صلاحیتوں سے نوازہ ہے ،وہ
بہت سارے دینی امور کی انجام دہی میں اپنی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں
،مگر شوہر کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے بہت سارے دینی مجلسوں میں شرکت سے قاصر ہو
جاتی ہیں ،خاطر خواہ فوائد کے حصول سے خود بھی محروم رہ جاتی ہیں اور معاشرہ بھی
ان سے مستفید نہیں ہو پاتا ہے ۔ ایسی صورت میں معاشرے کا بااثر و رسوخ افراد کی
ذمہ داری بنتی ہے کہ متعلقہ افراد کی ذہن سازی کرے ۔ انہیں بھی دنیی مجالس میں
شرکت کی دعوت دے اور اپنی باتوں سے آگاہ کرے۔
آج کی خواتین اسلام کے دئے ہوئے حقوق سے کافی دور ہے،اسے دین اسلام کا
مطالعہ کرنا چاہیے اور شریعت نے خواتین کو کسب معاش کا جو اصول و ضابطہ مدیا ہے
اسکا صحیح علم حاصل کرنا چاہئے ، وراثت میںجو حقوق متعین کیا ہے اس کو حاصل کرے
اور بہنوں کو ترغیب دیں کہ ان کا یہ شرعی حق ہے، ساتھ ہی بھایئوں کو چاہئے کہ بہن
کو حق میراث سے قطعا محروم نہ کرے ۔ تقسیم میراث کو معاشرے میں رواج دیا جائے اور
ساتھ ہی اس شرعی حکم کی خلاف ورزی کے بھیانک انجام سے معاشرہ کے افراد کو باخبر کیا جائے ۔ مغربی
تہذیب ا ور اسکی ثقافت سے مکمل اجتناب کیا جائے ۔ اللہ خواتین کو اسلام کی صحیح
سمجھ عطا فرمائیں آمین۔
حوالہ جات:۔
۱۔ تفہیم القرآن۔مولانا ابو لاعلی مودودی ؒ
۲۔
عورت اسلامی معاشرے میں ۔ مولانا سید جلال الدین عمری
۳۔ خواتین معاشی اختیار اور تعلیم امکانات اور
حکمت عملی۔ خالد رحمن ، سلیم منصور خالد











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔