موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
نماز کو کیسے بہتر بنایئں !!!
ajkiurduduniya.blogspot.com
اپریل 08, 2020
0
Comments
اپریل 08, 2020
0
Comments
نماز کیسےبہتر بنائیں؟
عبدالجبارفلاحیؔ
نماز دین کی بنیاد ہے۔ نماز کی اہمیت بہت سی قرآنی آیاتیں
اور احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ ایک روایت عبادہ بن صامت انصاری ؓ سے ملتی ہے۔
فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ
نمازیں ہیں جن کواللہ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔ جس نے ان کے لئے اچھی طرح وضو
کیا اور اس کا حق ادا کیا ، اور جس نے ان
کے لئے رکوع و سجود کئے اور خشوع کے لحاظ سے ان کو مکمل کیا، تو اس کے لئے اللہ کی
طرف سے یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کو بخش دے گا۔ اور جو ایسا نہ کرے اس کی طرف سے اللہ
کے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو اسے بخش دے اور چاہے گا تو اسے
عذاب دے گا۔ (سنن ابو داود)
ایک طرف تو مثبت بات یہ
ہے کہ جس نے اس کے لئے اچھی طرح وضو کیا ۔
رکوع ، سجود اور خشوع کے ساتھ ان
نمازوں کو وقت پر ادا کیا تو اس کااللہ تعالی نے ذمہ لیا ہے کہ اس کو بخش دے۔ نمازوں کے ساتھ اتنا بڑا وعدہ کیوں ہے ؟ اس کو
سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ دین میں نماز کا کیا مقام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف ارشادات میں فرمایا کہ
نماز دین کا ستون ہے۔’’من اقامھا اقام الدین
ومن ھدمھا ھدم الدین‘‘
نماز ہی مسلمان اور کافر ، اور مسلمان اور منافق کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ عہد رسول ﷺ میں اس بات کا تصور بھی نہیں تھا کہ
کوئی آدمی مسلمان ہو اور وہ نماز نہ پڑھے یا مسجد میں حاضر نہ ہو ۔ ایک صحابی کا
قول ہےکہ اگر کوئی شخص عشاء اور فجر کی نماز سے غیر حاضر ہوتا تو اہم اس کے بارے میں بد گمان ہوجایا کرتے تھے
کہ وہ مسلمان رہا یا نہیں !
نماز اللہ کے ساتھ
محبت اور شکر کا اظہار ہے۔ آپ سورہ فاتحہ الحمد للہ سے شروع کرتے ہیں ۔ساری تعریف
اور شکر اللہ کے لئے ہے۔ نماز کے دوران اسکی تسبیح کرتے ہیں ۔ اسکی بڑائی اور تعریف بیان کرتے ہیں ۔ نماز میں ہماری پوری
شخصیت ، پورا وجود اللہ تعالی کی بندگی میں مصروف ہوجاتا ہے۔ جسم کی سار ی ادائیں
بندگی اور غلامی ہوتی ہیں ۔ غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں ۔ احساس ہوتا
ہے کہ بندگی کا حق ادا نہیں ہوا تو اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ پھر محسوس ہوتا ہے
کہ اس کی بندگی کے لحاظ سے ہماری پستی مکمل نہیں ہوئی تو سر اور پیشانی کو اس کے
سامنے مٹی پر ٹیک دیتے ہیں۔ نماز میں زبان کا ہر لفظ اللہ کی بندگی کا اظہار کرتا
ہے۔ ’’و اقم الصلاۃ لذکری ( طہ ۔۲۰ ) میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو‘‘ارشاد باری
تعالی ہے’’ان الصلاۃ تنھی عن الفحشا ء والمنکر
ولذکر اللہ اکبر (العنکبوت
۴۵ ) یقینا نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے ‘‘
پاکزگی اور طہارت :
نماز کے لئے پہلی شرط وضو ہے۔ وضو سے نمازی اپنے جسم کو پاک
اور صاف کرتا ہے۔ وضو کرتے ہوئے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ میں اللہ کے دربار میں
جارہا ہوں اور دربار الہی میں جانے کے لئے
کس کیفیت میں ہونا چاہئے ۔ جسم بھی پاک ہو ، کپڑے بھی صاف ہو، اعضاء وضو اس اہتمام
سے دھوئیں کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے۔ جہاں وضو ظاہری آداب و شرائط کی پابندی کے ساتھ
ہو وہاں گناہوں کا احساس ان سے استغفار
اور توبہ بھی ہو ’’ اللہم اجعلنی من التوابین
و اجعلنی من المتطھرین ‘‘اچھے لباس بھی زیب تن ہو اور اس کے اندر یہ احساس ہو
کہ جہاں جارہا ہوں اس کے شایانِ شان باطن
کے ساتھ ظاہربھی ٹھیک ٹھاک ہو۔
وقت کی پابندی:
نمازوں کو متعینہ اوقات میں ادا کی جائے جیسا کہ نبیؐ کا فرمان ہے ’’ وصلاھن لوقتھن ‘‘ اس نے نمازوں کو ان کے وقت سے ادا کیا۔ قرآن میں اس کی
تاکید فرمائی ہے۔ ’’ان الصلٰوۃ کانت علی
المؤمنین کتٰبا موقوتا‘‘(النساء ۱۰۳) بے شک نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی
وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ پانچوں نماز وں کے اوقات مقرر ہیں ۔ ان
نمازوں کے اوقات کے دو، سرے ہیں جن کی رسول اللہؐ نے تعلیم دی ہے۔ نماز کے پابندی
وقت کے بہت سارے فوائد ہیں ۔ زندگی منظبط اور مرتب ہوجاتی ہے۔ ہرکام کو وقت پر
کرنے سے پوری معاشرت، معیشت، سیاست
غرض زندگی کے ہر شعبہ ٹھیک وقت پر
متحرک رہتا ہے۔
خشوع اختیار کرنا:
ہم نماز میں رکوع و
سجدہ کرتے ہیں۔ اپنی پیٹھ جھکاتے ہیں رکوع ہوجاتاہے۔ پیشانی اللہ کے سامنے ٹیکتے
ہیں سجدہ ہوجاتا ہے۔ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا ’’ اتم رکوعھن و خشوعھن ‘‘
جس نے ان نمازوں کو رکوع و خشوع کے لحاظ سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ نماز کی اصل روح یہی ہے کہ آدمی پوری طرح پست
ہوجائے۔ نماز اللہ سے ملاقات ہے۔ بارگاہ الہی میں حاضری
ہے۔ موت کے بعد جو بڑی حاضری ہونے والی ہے، اس سے پہلے یہ حاضری ہے۔ پانچ وقت اللہ
نے اپنے خدمت میں بلایا ہے۔ وہ رب العالمین ہے ، رب کائنات ہے۔ جب چاہے ہم ہاتھ
باندھ کر کھڑے ہوجائیں ہمارا استقبال کے لئے موجود ہے۔ بات چیت کے لئے تیار ہے۔ جو
مانگیں دینے کو تیار ہے۔ اس کے لئے دن میں
پانچ وقت میسر ہیں اس کے علاوہ جب چاہیں اللہ کا دربار کھلا ہے۔
اللہ تعالی مجھے اور آپ اس پر عمل کی توفیق دے ۔آمین یا
رب العالمین











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔