موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
میر تقی میر
جون 20, 2021
0
Comments
میر تقی میر
میر تقی میر اردو زبان و ادب کے عظیم شاعر تھےوہ غزل کے
مسلمہ استاد تھے اس لئے ان کو شہناہ تغزل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد تقی
اور تخلص میر تھا۔وہ ۱۷۲۲ءیا ۱۷۲۳ء کو
اکبرا آباد آگرہ کے ایک ذی عزت
گھرانے میں پیدا ہوئے میر کے والد کا
انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھاکچھ عرصہ بعد ان کے چچا بھی وفات پا گئے اس لئے بچپن سے ہی ان کی زندگی سوگوار ہو گئی
تھی ان حادثات کا ان کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوا ۔
میر تقی میر حساس واقع ہوئے تھے اس لئے اسی جذبے نے غم کے داغوں کو اور بھی گہرا کر دیا تھا اور ان کی شاعری سوز و گداز ،کیف و سرور اور ونج
و الم کا آئینہ بن گئی تھی وہ گیارہ برس
کی عمر میں اکبر آباد سے دہلی آ گئے تھے
کچھ عرصہ دہلی میں گزارا وطن کی یاد نے
ستایا تو پھر آگرہ چلے گئے لیکن وطن راس
نہ آیا مستقل طور پر دوبارہ
دہلی آ گئے۔ میر کی تمام تر زندگی آزمائشو ں میں گزری انہیں آزمائشوں
نے ان کو کندن بنا دیا اور ان کی شاعری کو شہرت دوام بخشی ۔
آخر عمر میں میر لکھنؤ میں نواب آصفہ الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے تھے وہ ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ میر تقی میر ۱۸۱۰ء میں لکھنؤ میں ہی انتقال کر گئے۔
میر تقی میر کی تمام تر زندگی چونکہ افلاس تنگ دستی
اور آزمائشوں میں کٹی اس لئے رنج و
الم اور
فکر و احساس ان کی شاعری اور شخصیت کا خاص جز بن گئے تھے ۔ انہیں وجوہات
کی بنا پر انکی شاعری میں سوز گداز اور
رنگ و اثر پیدا ہوا جس کی وجہ سے ان کی شاعری
لا زوال بن گئی زندگی کے آلام و مصائب نے ان کو خود دار
بد دماغ اور نازک مزاج بنا دیا تھا
وہ اس بات کا بذات خود اعتراف کرتے ہیں۔
نازک مزاج آپ قیامت ہے میر جی۔
خود دار بد دماغ اور نازک مزاج ہوتے ہوئے بھی وہ مردم بیزار نہیں تھے اور ہنگامۂ حیات سے خاص لگاؤ رکھتے تھے ۔ دراصل میر تقی میر زندگی ،
تہذیب اور فن کے بارے میں منفرد تصور رکھتے تھے ۔ اسی لئے ان کی شاعری کو
ان کی شخصیت کا آئینہ کہا جاتا ہے۔
میر ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے تمام اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی
ہے لیکن ان کی شہرت اور ان کے فن کی بقا
کا دار و مدار غزل پر ہے اس وجہ سے ان کو
شہنشاہ تغزل کہا جاتا ہے ۔
میر تقی میر نے غزل کو شدید شخصی احساسا ت کا ترجمان بنایا انہوں نے
غزل میں ذاتی غم کے ساتھ ساتھ
اجتماعی غم کو بھی سمو دیا ان کی شاعری
میں صوفیانہ ،عاشقانہ ،اخلاقی معاشرتی اور
سیاسی رنگ پہلو بہ پہلو موجود ہے ان کی شاعری میں جذبات کی فرو انی ہے،آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی،
میر کی شاعری غم والم کا بحر ذخار ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ بے حوصلہ
اور کم ہمت نظر نہیں آتے اور نہ ہی دوسروں
کو بے حوصلہ ہونے کو ابھارتے ہیں بلکہ وہ
ایسی زندگی کا احساس دلاتے ہیں جس میں بزدلی کو ایک عیب تصور کیا جاتا ہے میر کے شعروں میں سلیقہ ،موزونیت اور آہنگ کو
خاص اہمیت حاصل ہے ان کی شاعری میں فکری عنصر بھی بدرجۂ اتم
موجود ہے۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگۂ شیشہ گری
کا ۔۔۔۔۔۔۔
میر کے کلام نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کے احساس اور اظہار
میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا ہے میر کی زبان بھی سادہ ہے بے تکلف انداز میں شعر کہتے ہیں ۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔