موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
Khawja iltaf Hussain Hali
جون 15, 2021
0
Comments
خواجہ الطاف حسین حالیؔ
خواجہ الطاف حسین
حالی کا نام قومی شاعر کی حیثیت سے ہی مشہور نہیں بلکہ ان کا شمار اردو نیچرل شاعر
کے موجد کی حیثیت سے بھی آتا ہے اس کے علاوہ وہ چوٹی کے نقاد اور نثر نگار بھی
تھے۔
خواجہ الطاف حسین حالی۱۸۳۷
ءدمیں پانی پت ضلع کرنال میں پیدا ہوئے ، والد ماجد کا ابتداء میں ہی انتقال ہو
گیا تھا۔ اس لئے بچپن کا دور عسر ت و پریشانی میں گذرا انہوں نے ابتدائی تعلیم پانی پت میں ہی حاصل کی
اور شوق علم کی وجہ سے دہلی چلے گئے جو ان کے زمانے میں علم و ادب کا مرکز تھا۔بڑے
بڑے باکمال لوگ وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لے لیا اور علم کی پیاس بجھانے لگے ، قدرت نے شاعرانہ
صلاحیتیں بھی عطا کی تھیں اس لئے بر صغیر کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ کے شاگرد ہو
گئے یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو
استاد بھی عظیم ترین ملا جس کا سارے بر صغیر میں طوطی بولتا تھا ۔ خواجہ الطاف
حسین حالی بہت زیادہ ہونہار تھے اس لئے غالب بھی ان کی قدر کرنے لگے اور انہوں نے
ان پر خاص توجہ دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو شاعری کے فن میں بہت جلد مہارت
حاصل ہو گئ ۔ نواب شیفتہ بھی غالب کے شاگرد تھے
انہوں نے خواجہ حسین حالی کو زیادہ
ذہین پایا تو اپنے بچوں کا اتالیق مقرر کر دیا اس طرح حالی کو مالی اعانت بھی حاصل ہو گئ مگر نواب صاحب کے انتقال کے بعد یہ سہارا بھی
ٹوٹ گیا تو انہوں نے مدرسی کا پیشہ اختیار
کر لیا اور ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے۔
لاہور کی فضا خواجہ الطاف حسین حالی کے لئے بڑی سازگار ثابت ہوئی ، ایک تو ان کو سرکاری کتب خانے میں ملازمت مل گئ جو ان
کی خواہشات کے مطابق تھی دوسری ان کی ملاقات اس وقت کے نامور انشاپرداز مولانا
محمد حسین آزاد سے ہو گئ جن کی لاہور میں بڑی عزت تھی ۔ سرکاری ملازمت سے ان کو یہ
فائدہ ہوا کہ چونکہ ان کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ ہونے والی کتابوں کی تصحیح
کرنی پڑتی تھی اس انگریزی ادب سے واقف ہونے کا موقع ہاتھ آ گیامولانا محمد حسین آزاد
کی صحبت سے یہ فائدہ پہنچا کہ انہوں نے ان کے اشتراک سے لاہور میں انجمن پنجاب کی
بنیاد ڈالی جو ایک ادبی انجمن تھی اور اس
کے زیر اہتمام مشاعرے وغیرہ منعقد ہوتے رہتے تھے ۔ دراصل یہیں سے جدید نظموں کا آغاز ہوا اس انجمن کے تحت جو مشاعرے منعقد ہوتے تھے ان
میں غزلوں کی بجائے شعراء نظمیں پڑھتی تھے ۔مصرع طرح کی بجائےنظموں کے لئے عنوانات
دئے جاتے تھے مولانا حالی نے ان مشاعروں
میں بڑی گرم جوشی سے حصہ لیا برکھا رت ،
نشاط امید اور حب وطن اسی دور کی یادگار نظمیں ہیں ۔
مولانا
حالی لاہور میں کچھ عرصہ رہنے کےبعد دہلی واپس آ گئے ۔ وہیں ان کی ملاقات قوم کے عظیم رہنما سر سید
احمد خاں سے ہوئی وہ حالی کی خدا داد صلاحیتیں دیکھ کی بہت متاثر ہوئے اور ان کو
مشورہ دیا کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کو ان کے اباء و اجداد کے کارنامے کی یاد
دلانے اور بیداری کا سبق یاد دلانے کے لئے مؤثر نظمیں لکھیں مولانا
حالی حالی کو سر سید کا یہ مشورہ
کافی پسند آیا اور انہوں نے اس مشورے پر عمل کرتے
ہوئے اپنی معرکۃ الآرا نظم مدو جزر اسلام لکھی ۔ یہ نظم اس قدر مشہور ہوئی
کہ پورے برصغیر میں تہلکہ مچ گیا اور اس
کے ذریعہ مولانا حالی کو شہرت جاودانی
حاصل ہو گئی
مسدس میں مولانا حالی نے مسلمانو ں کے عروج وزوال کو کی داستان
کو بڑے عبرت انگیز پیرائے میں پیش کیا ہے اور یہ احساس دلایا ہے کہ وہ اپنے اجداد
کے نقش قدم پر چل کر دنیا میں پھر بلند ترین مقام حاصل کر سکتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دور کے مسلمان اسلام
کی تعلیمات کو بلکل فراموش کر چکے ہیں اس لئے غلامی کا طوق ان کے گردن میں ڈال دیا
گیا ہے ۔
اپنی شاعری کے ذریعہ انہوں نے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں
کو شرم دلائی ہے اور قوم کے نونہال کا یہ کہ کر حوصلہ بڑھایا ہے تمہیں
ہو وہ نسلیں مبارک ہماری
کہ بخشوگے دین کو استواری
کروگے
تمہیں قوم کی غمگساری
تمہیں پر امیدیں
ہیں موقوف ساری
تمہیں شمع اسلام روشن کروگے
بڑوں کا تمہیں نام روشن کروگے
تمہیں اپنی مشکل کو آساں کروگے
تمہیں اپنے درد کا درماں کروگے
مولانا
حالی کے اس مسدس کا اثر اہل اسلام پر ہوا اور ضرور ہوا انہوں نے آزادی کے حصول کے لئے کمر ہمت کس لی
تھی اور انگریز کو ملک سے باہر نکالنے کے
لئے زبردست جد و جہد کا آغاز کیا ۔مسدس دراصل سر سید کی تحریک پر ہی حالی نے لکھا
تھا اس سر سید کو بہت پسند آیا ۔ انہوں نے
اس نظم سے متاثر ہو کر یہ یہاں تک کہہ دیا
کہ ’’ اگر اللہ نے یہ پوچھا کہ تو نے دنیا میں کون سا نیک کام کیا تو میں کہہ دوں گا کہ حالی مسدس لکھوایا تھا‘‘
مولانا حالی نے اپنی شاعری کا آغاز روایتی غزل گوئی سے کیا تھا لیکن یہ رنگ ان کو راس نہ
آیا اور
انہوں نے جلد ہی قدیم رنگ کی شاعری کو ترک کرکے اپنی توجہ چھوٹی چھوٹی مذہبی اخلاقی اور نیچرل نظم کہنے
پر صرف کر دی ۔ وہ نظم گوئی میں اس قدر آگے بڑھ گئے کے ان کی غزلوں پر بھی نظموں
کا شبہ ہونے لگا ۔ مولانا محمد حسین آزاد اور سر سید کی ملاقاتوں کا اثر بہت ہوا اور ان کی تحریک پر انہوں نے شاعری میں جدید
تجربات کئے جس کی وجہ سے جدید شاعری کے موجد کہلائے ان کی شاعری میں اصلاح کا پہلو غالب ہے اور اسی
رجحان نے غزل کے انداز کو بھی کافی حد تک بدل دیا ہے اور حسن عشق کے دائرے سے نکال
کر ترقی کے خیالات کا ترجمان بنا دیا ہے ۔
حالی کی شاعری کو دو
ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔م
مولانا حالی کا کلام نہایت سادہ اور پر اثرہے ۔ انہوں نے اردو شاعری کو اصلیت کے
سانچے میں ڈھال دیا ۔ ان کے کلام کی خصویت میں سلاست ،روانی،اور منظر کشی بھی پائی
جاتی ہے ان کی تصانیف میں حیات جاوید ،
مقدمہ شعرو شاعری ، دیوان حالی ،مسدس حالی ، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اب گئے حالی غزل خوانی
کے دن
راگنی بے وقت کی گاتے
ہو کیا۔۔۔۔












0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔