موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
shair Fani bada uni
جون 13, 2021
0
Comments
فانی بدایونی
فانی بدایونی ۱۸۵۷ء
میں بدایوں میں پیدا ہوئے ان کا نام شوکت علی اور تخلص فانی تھا۔ ان کے اباء و
اجداد کابل کے رہنے والے تھے وہاں سے ہندوستان
آ کر دہلی میں بس گئے تھے اور اس
کےبعد بدایوں میں رہنے لگے فانی کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی اس کے بریلی
کالج میں داخل ہوئے اور وہیں سے بی اے پاس کیا
اور اسکے بعد وہ علی گڈھ چلے گئے اور ایل ایل بی میں داخلہ لے لیا ،قانون
کی سند حاصل کرنے کے بعدوکالت کا پیشہ اختیار کر لیا مگر انہیں یہ پیشہ راس نہیں آیا اس کے بعد وہ دکن چلے گئے اور وہاں انہوں نے
ملازمت حاصل کر لی۔
فانی زندگی بھر آ لام و مصائب کا شکار رہے اور شاید انہیں
زندگی میں چند لمحوں کے لئے بھی سکون نصیب نہیں ہوا ، دکن میں ۱۹۴۱ٍء میں چل بسے
شاعری کا شوق انہیں بچپن سے ہی تھا وہ فطرتاً غم پرست تھے اس لئے تمام عمر غم کی پرستش کرتے رہے تخلص بھی اسی رعایت سے منتخب کیا اور شاعری میں بھی تمام اقسام کے غموں کو سموں دیا ۔ لیکن انہوں نے غم کی ترجمان بھی آفاقی طریقہ سے بھی معیاری ہے اور اس میں بلا کی تاثیر ہے ۔ سوز و گوداز اور حسرت و یاس کے معاملے میں انہیں میر ثانی سمجھنا چاہئے لیکن وہ پیکر یاس ہوتے ہوئے بھی حوصلہ نہیں توڑتے اور نا امیدی کے ماحول میں بھی انہیں امید کی شمع جلتی ہوئی نظر آتی ہے وہ ناکام لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں
؎ناکام ہے تو کیا ہے کچھ کام پھر بھی کجا
مردانہ وار جی مردانہ و مر جا
فانی نے زندگی کا مردانے وار مقابلہ کیا ہے لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا
اور ساری زندگی انہیں تڑپتا ہوا ہی رکھااور انہیں ایک زندہ لاش میں تبدیل کر دیا وہ خود فرماتے ہیں ۔
؎ فانی ہم تو جیتے جی
وہ میت ہیں بے
گور و کفن
جس کو غربت راس نہ
آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
قسمت کی بدولت انہیں جو غم کی بے پایاں
دولت حاصل ہوئی تھی وہ ایسی دولت تھی کہ کم ہونےپر نہیں آتی تھی لہذا غم سے فرار کی کوشش انہوں نے ترک کر
دی تھی اور غم حیات کو سینے سے لگا لیا
تھا
؎غم فانی اور عشق برہم کیا
جاوداں ہو تو عیش ہے ہم کیا ؟
الغرض فانی نے اپنے انداز میں غزل کو ایک نیا روپ دیا انہوں
نے عشق کے معاملات اور واقعات اور پیش آنے
والے حادثات کی تشریح بڑے غم ناک انداز میں کی ہے اسی وجہ ان کے اشعار تاثرات میں ڈوبے ہوئے ہوتے
ہیں اور پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔