موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
Infradi aur ijtemaee Mashwara ke faide
جون 14, 2021
0
Comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’ امرھم شوری بینھم ‘‘
’’ امرھم شوری بینھم ‘‘کو
یہاں اہل ایمان کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ اور سورہ آل عمران (آیت ۱۵۹
) میں اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس بنا پر مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون
ہے۔ اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ بلکہ اللہ کے
مقرر کئے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مشاورت کو اسلام میں یہ اہمیت کیوں دی
گئی ہے۔اس کے وجوہ پر اگر غور کیا جائے تو تین باتیں واضح طور پر ہمارے سامنے آتی
ہیں ۔
ایک یہ
کہ جس معاملے کاتعلق دو یا زائد آدمیوں کے مفاد سے ہو، اس میں کسی ایک شخص کا
اپنی رائے سے فیصلہ کرڈالنا اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظر انداز کردینازیادتی ہے۔ مشترک
معاملات میں کسی کو اپنی من مانی چلانے کاحق نہیں ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک
معاملہ جتنے لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو اس میں ان سب کی رائے لی جائے ، اور
اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہوتو ان کے معتمد علیہ نمائندوں کو شریک مشورہ
کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ انسان مشترک معاملات میں اپنی من مانی چلانےکی کوشش یاتو اس وجہ سے
کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض کے لئے دوسروں کا حق مارنا چاہتا ہے، یا پھر اس کی
وجہ یہ ہوتی ہےکہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے ۔ اخلاقی حیثیت سے یہ دونوں صفات یکساں قبیح ہیں،
اور مومن کے اندر ان میں سے کسی صفت کاشائبہ بھی نہیں پایا جاسکتا ہے۔ مومن نہ خود
غرض ہوتو ہے کہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرکے خود ناجائز فائدہ اٹھانا چاہے ،
اور نہ وہ متکبر اور خود پسند ہوتا ہے کہ اپنے آپ ہی کو عقل کل اور علیم و خبیر
سمجھے۔
تیسرے یہ کہ جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو ان میں فیصلہ کرنا
ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتاہو اور یہ جانتا ہو کہ اس کی
کتنی سخت جواب دہی اسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی، کبھی اس بھاری بوجھ کو کتنا
اپنے سر لینے کی جرات نہیں کرسکتا ہے۔ اس طرح کی جراٗتیں صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو
خدا سے بےخوف اور آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں۔ خدا ترس اور آخرت کی باز پرس کا
احساس رکھنے والا آدمی تو لازما یہ کوشش
کرے گا کہ ایک مشترک معاملہ جن جن سے بھی متعلق ہو ان سب کو یا ان کے بھروسے کے
نمائندوں کو اس کا فیصلہ کرنے میں شریک مشورہ کرے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ صحیح اور
بے لاگ اور مبنی بر انصاف فیصلہ کیا جاسکے ، اور اگر نا داستہ کوئی غلطی ہوبھی
جائے تو تنہا کسی ایک ہی شخص پر اس کی ذمہ داری نہ آپڑے۔
یہ تین وجوہ ایسے ہیں جن پر
اگر آدمی غور کرے تو اس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اسلام جس خلاق
کی انسان کو تعلیم دیتا ہے، مشورہ اس کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے انحراف ایک بہت
بری بد اخلاقی ہے جس کی اسلام کبھی اجازت نہیں دے سکتا ۔ اسلامی طرز زندگی یہ
چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتاجائے ۔ گھر کے
معاملات ہوں تو ان میں میاں اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان
ہوجائیں تو انہیں بھی شریک مشورہ کیا جائے۔ خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے
کے سب عاقل و بالغ افراد کی راے لی جائے۔ ایک قبیلے یا برادری یا بستی کے معاملات
ہوں اور سب لوگوں کا شریک مشورہ ہونا ممکن نہ ہو تو ان کا فیصلہ کوئی ایسی پنچایت
یا مجلس کرے جس میں کسی متفق علیہ طریقے کے مطابق تمام متعلق لوگوں کے معتمد علیہ
نمائندے شریک ہوں۔ ایک پوری قوم کے معاملات ہوں تو ان کے چلانے کے لئے قوم
کاسربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے ،
اور وہ قومی معاملات کو ایسے صاحب رائے لوگوں کے مشورے سے چلائے جن کو قوم قابل اعتماد
سمجھتی ہو، اوروہ اسی وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے
رکھنا چاہے۔ کوئی ایماندار آدمی زبردستی قوم کا سربراہ بننے اور بنے رہنے کی
خواہش یا کوشش نہیں کرسکتا ، نہ یہ فریب کاری کرسکتا ہےکہ پہلے بزور قوم کے سر پر
مسلط ہوجائے اور پھر جبر کے تحت لوگوں کو رضا مندی طلب کرے ، اور نہ اس طرح کی
چالیں چل سکتا ہے کہ اس کو مشورہ دینے کے لئے لوگ اپنی آزاد مرضی سے اپنی پسندکے
نمائندے نہیں بلکہ وہ نمائندے منتخب کریں جو اس کی مرضی کے مطابق رائے دینےوالے ہوں۔ایسی ہر خواہش صرف اس نفس میں
پیدا ہوتی ہےجو نیت کی خرابی میں ملوث ہو، اور اس خواہش کے ساتھ ’’ امرھم شوری بینھم ‘‘ کی ظاہری شکل بنانے اور
اس کی حقیقت غائب کردینے کی کوشش صرف وہی شخص کرسکتا ہے جسے خدا اور خلق دونوں کو
دھوکا دینے میں کوئی باک نہ ہو، حالانکہ نہ خدا دھوکا کھا سکتاہے،اور نہ ہی خلق ہی
اتنی اندھی ہوسکتی کہ کوئی شخص دن کی روشنی میں علانیہ ڈاکہ مار رہا ہو اور وہ سچے
دل سے یہ سمجھتی رہے کہ وہ ڈاکہ نہیں ماررہا ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کرہا ہے۔
’’ امرھم شوری بینھم‘‘ کا قاعدہ
خود اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے:
اول یہ
کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اورمفاد سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اظہار رائے
کی پوری آزادی حاصل ہو،اور وہ اس بات سے پوری طرح باخبر رکھے جائیں کہ ان کے
معاملات فی الواقع کس طرح چلائے جارہے ہیں اور انہیں اس امر کا بھی پورا حق حاصل
ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو
اس پر ٹوک سکیں، احتجاج کرسکیں اور اصلاح
ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل
سکیں ۔ لوگوں کا منہ بند کرکے اور ان کے ہاتھ پاوں کس کر اور ان کو بے خبر رکھ کر
ان کے اجتماعی معاملات چلانا صریح بد دیانتی ہے جسے کوئی شخص بھی ’’ امرھم شوری
بینھم ‘‘ کے اصول کی پیروی نہیں مان سکتا۔
دوم یہ
کہ اجتماعی معاملات میں کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو اسے لوگوں کی
رضا مندی سے مقرر کیا جائے، اور یہ رضا مندی ان کی آزادانہ رضامندی ہو۔ جبر اور
تخویف سے حاصل کی ہوئی، یا تحریص و طماع سے خریدی ہوئی یا دھوکے اور فریب اور
مکاریوں سے کھسوٹی ہوئی رضامندی درحقیقت رضامندی نہیں ہے۔ ایک قوم کا صحیح سربراہ
وہ نہیں ہوتا جو ہرممکن طریقہ سے کوشش کرکے اس کا سربراہ بنے، بلکہ وہ ہوتا ہے جس
کو لوگ اپنی خوشی اور پسند سے اپنا سربراہ بنائیں۔
سوم یہ کہ سربراہ کار کو مشورہ دینے کے لئے بھی وہ لوگ مقررکئے جائیں جن کو قوم کا
اعتمادحاصل ہو ، اور ظاہر بات ہے کہ ایسے لوگ کبھی صحیح معنوں میں حقیقی میں
اعتماد کے حامل قرار نہیں دیے جاسکتے جو دباو
ڈال کر یا مال سے خرید کر یا جھوٹ اور مکر
سے کام لے کر یا لوگوں کو گمراہ کرکے
نمائندگی کا مقام حاصل کریں۔
چہارم یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اورایمان و ضمیرکے مطابق رائے دیں ، اور اس
طرح کے اظہار رائے کی انہیں پوری آزادی حاصل ہو ۔ یہ بات جہاں نہ ہو، جہاں مشورہ
دینے والے کسی لالچ یا خوف کی بنا پر،یا کسی جتھہ بندی میں کسے ہوئے ہونے کی وجہ
سے خود اپنے علم اور ضمیر کے خلاف رائے
دیں، وہاں درحقیقت خیانت اور غداری ہوگی نہ کہ ’’ امرھم شوری بینھم ‘‘ کی پیروی۔
پنجم یہ کہ جو مشورہ اہل شوری کے اجماع (اتفاق رائے) سے دیا جائے، یا جسے ان کے
جمہور( اکثریت) کی تائید حاصل ہو، اسے تسلیم کیا جائے ۔ کیونکہ اگر ایک شخص یا ایک
ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہو تو مشاورت بالکل بے معنی
ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالی یہ نہیں فرمارہا ہے کہ ’’ ان کے معاملات میں ان سے مشورہ
لیا جاتا ہے‘‘ بلکہ یہ فرمارہا ہے کہ ’’
ان کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں ‘‘ اس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے
سے نہیں ہوجاتی ، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ
جو بات طے ہو اسی کے مطابق معاملات چلیں۔
اسلام کے اصول شوری کی اس
توضیح کےساتھ یہ بنیادی بات بھی نگاہ میں رہنی چاہئیے کہ یہ شوری مسلمانوں کے
معاملات کو چلانےمیں مطلق العنان اور مختار کل نہیں ہے بلکہ لازما اس دین کے حدود
سے محدود ہے جو اللہ تعالی نے خود اپنی تشریع سے مقرر فرمایا ہے، اور اس اصل الاصول
کی پابندی ہے کہ’’ تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو اس کا فیصلہ کرنا
اللہ کا کام ہے‘‘ اور تمہارے درمیان جو
نزاع بھی ہو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو‘‘ اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سے
مسلمان شرعی معاملات میں اس امر پر تو مشورہ کرسکتے ہیں کہ کسی نص کا صحیح مفہوم
کیا ہے، اورپرعملدرآمد کس طریقہ سے کیا جائے تاکہ اس کا منشا ٹھیک طورسے پوراہو،
لیکن اس غرض سے کوئی مشورہ نہیں کرسکتے کہ جس معاملہ کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول
نے کردیاہواس میں وہ خودکوئی آزادانہ فیصلہ کریں۔
مذکورہ بالا مضمون مولانا سید
ابو الاعلی مودی رحمہ اللہ کی تفہیم القران سے ماخوذ ہے۔ سماجی ،معاشرتی ، اجتماعی
اور تحریکات اسلامی کے نظام شوری کے بنیادی اصول
امرھم شوری بینھم پر مفصل اور جامع تحریر ہے ۔اوربالخصوص ہماری جماعت ’’
اسلامی سنگھ نیپال‘‘ کے مقامی ،صوبائی اورمرکزی نظام کی اصلاح کی راہ میں مفید ہے اگر اس پر کارآمد ہوا جائے۔ از
: عبدالجبار فلاحی











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔