موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Technology/feat-big
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
https://follow.it/urdu1duniya?action=followPub
Looking For Anything Specific?
Most Popular
اردو ناول کا تدریجی ارتقاء
ajkiurduduniya.blogspot.com
فروری 02, 2020
0
Comments
فروری 02, 2020
0
Comments
یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو ادب میں ناول نگاری بھی
انگریزی اثرات کے نتیجے میں وجود میں آئی
اور افسانہ نگاری بھی اسی کی مرہون منت ہےورنہ بر صغیر میں داستانوں اور کہانیوں کا دور تھا ۔ ناول کو
کہانیوں اور داستانوں کی ایک اصلاح یافتہ
شکل سمجھنا چاہئے۔ اس میں زندگی کے اطراف کا
ماحول کردار وں کے ذریعہ ربط و تسلسل کے ساتھ مؤثر انداز میں پیش کی جاتا ہے
ناول زندگی کے مختلف گوشوں کو واقعات میں سمیٹ کر تسلسل کے ساتھ پیش کرتا ہے اس میں کرداروں کی
تعداد افسانوں کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کا ایک پلاٹ ہوتا ہے اور تمام تر
واقعات اسی پلاٹ کے ارد گرد گردش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آغاز سے عروج اور عروج سے انجام تک یہ واقعات پہچنے کے ختم ہو جاتا ہے، ناول میں ایک مرکزی کردار ضرور
ہوتا ہے جو پورے پلاٹ پر چھایا رہتا ہے اس کو ہیرو کہتے ہیں ، اس کے علاوہ
ہروئن اور ولن کے کردار کو ھی خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ناول میں ماحول کی منظر کشی مؤثر انداز میں ہونا
چاہئے اور کرداروں کو اس انداز میں پیش کرنا چاہئے کہ وہ فرضی معلوم نہ ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی زبان کرداروں کے ماحول اور ان کی شخصیت کے عین
مطابق استعمال ہونی چاہئے یہی ایک اچھے ناول کی
خصوصیت ہوتی ہیں
اچھی ناول کی خاصیت : صفِ اوّل کے ناول
نگار مرزا ہادی رسوا کے نزدیک اچھی ناول کی خاصیت
درجہ ذیل ہے۔۔
Ø ناول اپنے زمانے کی تاریخ ہوتی ہے۔
Ø واقعیت کا بیان اور
کردار نگاری ضروری ہے۔
Ø
ناول ایک فان پارہ ہوتا ہے
اس لئے فنی لوازمات پر پورا اترنا چاہئے۔
Ø ناول کی زبان فطری
اور کردار کے مزاج سے میل کھانی چاہئے۔
Ø
ی زبان فطری اور کردار کے مزاج سے میل کھانی چاہئے۔
ناول نگار : اردو میں ناول کے آغاز کا سہرا بعض محققین کی رائے کے مطابق ڈپٹی
نذیر احمد کے سر ہےاور بعض محققین
اس کا سہراپنڈت رتن ناتھ سرسار کے باندھتے ہیں۔ مگر صحیح صورتحال یہ ہے کہ ناول کا آغاز دونوں کی ہی
مرہون منت ہے کیوں
کہ انہوں نے ناقابل
یقین اور فرضی داستانوں کے دار کو ختم کرکےجو جنوں اور پریوں کی کہانیوں پر مشتمل
ہوتی تھیں اردو میں ناول نگاری کے فن کو
ایک نئی رخ عطا کی۔
پنڈت رتن ناتھ کا
’’فسانہ آزاد ‘‘ ایک شاہکار ناول تھا جس میں افسانے کے عناصر بھی موجود تھے اور
ناول کے بھی لیکن اس کا نام فسانہ ہی رکھا گیا ، سرشار کے ناول میں اگر کمی ہے
تو صرف تسلسل کے فقدان کا اور یہی حصہ ناول کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ مولوی
نذیر احمد کے ناولوں میں توبۃ النصوح اور ابن الوقت بہت مشہور ہے۔انہوں یہ ناول سماج اور معاشرے کی
اصلاح کے لیےلکھی اور آج بھی بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ مولانا عبد الحلیم شرر کا نام بھی اردو ناول نگاری کی ترقی میں بڑے اچھے سے لیا جاتا ہےانہوں نے زیادہ تر تاریخی ناول لکھے جو مقبول عام ہیں،
انہوں نےاسلامی تاریخی واقعات کو بڑی
خوبصورتی کے ساتھ ناولوں کے روپ میں پیش کیا ہے
انکے
بعد مرزا محمد ہادی رسوا کا نام بحثیت کامیاب ناول نگار لیا جاتا ہے۔ ناول نگاری
انکا خاص مقصد نہیں تھا وہ صرف پیسہ حاصل
کرنے کے لئے ناول لکھا کرتے تھے۔ ناول
نگاری کے علاوہ کئی دیگر فنون میں مہارت رکھتے تھےبہر حال انہوں نے جتنے بھی ناول
لکھے وہ مقبول ہوئے، ان کی ناول نگاری کا عالم یہ تھا کہ وہ خود کبھی نہیں لکھتے
تھےبلکہ جو ذہن میں آتا وہ بولتے جاتے تھے اور ان کے شاگرد لکھتے جاتے تھے مسودہ بغیر کسی نظر ثانی کے
کاتب کو مل جاتا تھا ان کے ناول میں ’’
امراؤ جاں ادا ، زات شریف اور شریف زادہ بہت مشہور ہیں۔ امراؤ جاں ادا ‘‘ ان کا بہترین
ناول ہے یہ دراصل ایک طوائف کی داستاں ہے۔
اس کے کردار حقیقت پسندانہ دلکش اور زندہ معلوم ہوتے ہیں۔اس میں ایک طوائف کے
ماحول کی صحیح عکاسی کی گئی ہے۔ یہ اردو کا پہلا ناول ہےجس میں ایک کردار کی زبان
سے واقعات کے بیان کا طریقہاستعمال کیا گیا ہےاس میں جو مکالمے پیش کیے گئے ہیں وہ
رواں دواں ہیں اور شستہ زبان میں ہیں ۔ اس ناول میں نفسیات کے عناصر بھی ملتے ہیں
اور کردار کے افعال کے نفسیاتی جواز بھی مہیا کئے گئے ہیں۔











0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔