موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- ajkiurduduniya.blogspot.com
- Majida khurshid M.A in urdu in Shibli academy Azam Garh (UP) now im living in kahmandu with my husband and a baby boy Aakif Ahsan.
سی بی ایس سی نیٹ کے حل شدہ پرچے, شعر و شاعری،, نظمیں، اردو ادب دنیا کی تازہ ترین خبریں,شخصیات، سوانح عمری،مضامیں اردو، اور بھی خاص خاص باتیں اردو سے معتلق
دعوت کا کام ہم کیسے کریں؟؟
ہم ملک نیپال میں دعوت کا کا م کیسے کریں؟ ان الحمد للہ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ! اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ،بسم ا...
ajkiurduduniya
ajkiurduduniya
Labels
ajkiurduduniya
LATEST IN TECH
Tags
Subscribe Us
Pages
AD SPACE
Looking For Anything Specific?
Most Popular
ْZina, Gunhahe Kabeera h ( Mulana Maududi ke tafheemse )
جون 14, 2021
1 Comments
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
گناہ کبیرہ
ان تجتنبواکبائر ماتنھون
۔۔۔۔۔۔۔۔۔النساء۔ ۳۱
کی تشریح کرتے
ہوئے مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمہ اللہ نے لکھا ہے۔ ’’ اللہ فرماتا ہے کہ ہم
تنگ دل اور تنگ نظر نہیں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پکڑکر اپنے بندوں کو سزا دیں
۔ اگر تمہارا نامہ اعمال بڑے جرائم سے خالی ہوتو چھوٹی خطاؤں کو نظر انداز کردیا
جائے گا اور تم پر فرد جرم لگائی ہی نہ جائے گی۔ البتہ اگر بڑے جرائم کا ارتکاب کر
کے آوگے تو پھر جو مقدمہ تم پر قائم کیا جائے گا۔ اس میں چھوٹی خطائیں بھی گرفت
میں آجائیں گی۔
مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ
میں اصولی فرق بتا تے ہوئےلکھاہے۔ تین
چیزیں ہیں جوکسی فعل کو بڑا گناہ بناتی ہیں۔ ۱۔ کسی کی حق تلفی ، خواہ وہ خدا ہو
جس کا حق تلف کیا گیا ہو، یا والدین ہوں، یا دوسرے انسان ، یا خود اپنا نفس اور
اسی بنا پر شرک کو قرآن میں ظلم عظیم کہا گیا ہے۔
۲۔ اللہ سے بے
خوفی اور اس کے مقابلے میں استکبار، جس کی بنا پر آدمی اللہ کے امر و نہی کی پروا
نہ کرے اور نافرمانی کے ارادے سے قصدا وہ کام کرے ، جس سے اللہ
نے منع کیا، اور عمدا ان کاموں کو نہ کرے جن کا اس نے حکم دیا ہے۔ یہ نافرمانی جس
قدر زیادہ ڈھٹایئ اور جسارت اور نا خدا
ترسی کی کیفیت اپنے اندر لیے ہوئے ہوگی۔ اسی قدر گناہ بھی شدید ہوگا ۔ اسی معنی کے
لحاظ سے گناہ کے لئے ’’ فسق‘‘ اور’’ معصیت
‘‘ کے الفاظ ستعمال کئے گئے ہیں۔
۳۔ ان روابط کو
توڑنا اور ان تعلقات کو بگاڑنا جن کے وصل
و استحکام اور درستی پر انسانی زندگی کا امن منحصر ہے، خواہ یہ روابط بندے اور خدا
کے درمیان ہوں، یا بندے اور بندے کے درمیان ۔ پھر جو رابطہ جتنا زیادہ اہم ہے اور جس کے کٹنے سے امن کو جتنا زیادہ نقصان
پہنچتا ہے اور جس کے معاملے میں مامونیت کی جتنی زیادہ توقع کی جاتی ہے۔ اسی قدر
اس کو توڑنے اور کاٹنے اور خراب کرنے کا گناہ زیادہ بڑا ہے۔ مثلا زنا اور اس کے مختلف مدارج پر غور کیجئے ۔ یہ فعل فی نفسہ نظام تمدن کو خراب کرنے والا
ہے، اس لئے بجائے خود ایک بڑا گناہ ہے ، مگر اس کی مختلف صورتیں ایک دوسرے سے گناہ
شدید تر ہیں ۔ شادی شدہ آدمی کا زنا کرنا بن بیاہے کی بہ نسبت زیادہ سخت گناہ
ہے۔ منکوحہ عورت سے زنا کرنا غیر منکوحہ
عورت سے کرنے کی بہ نسبت قبیح تر ہے۔ ہمسایہ کے گھر والوں سے زنا کرنا غیر ہمسایہ سے کرنے کی بہ نسبت زیادہ برا ہے۔
محرمات مثلا بہن یا بیٹی
یا ماں سے زنا کرنا غیر عورت سے کرنے کی بہ نسبت ا شنع
ہے۔ مسجد میں زنا کرنا کسی اور جگہ کرنے
سے اشد ہے۔ ان مثالوں میں ایک ہی فعل کی مختلف صورتوں کے درمیان گناہ ہونے کی
حیثیت سے مدارج کا فرق انہی وجوہ سے ہے جو
اوپر بیان ہوئے ہیں۔ جہاں مامونیت کی توقع جس قدر زیادہ ہے، جہاں انسانی رابطہ
جتنا زیادہ مستحق احترام ہے، اور جہاں اس رابطے کوقطع کرنا جس قدر زیادہ موجب فساد
ہے، وہاں زنا کا ارتکاب اسی قدر زیادہ شدید گناہ ہے۔ اسی معنی کے لحاظ سے گناہ کے
لئے ’’ فجور‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ کو گناہ کبیرہ سے
بچنے اور اعمال صالحہ کی توفیق دے آمین
یا رب العالمین۔
1 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔











ما شاء اللہ بہت ہی اچھی اور قابل عمل تحریر اللہ جزاء خیر دے آمین یارب العالمین